کوئٹہ :رکن صوبائی اسمبلی ثناءبلوچ نے اپنے استعفیٰ پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل کو بھجوا دیا مگر ثناءبلوچ کا استعفیٰ دیگر اراکین اسمبلی سے مختلف ہے انہوں نے کہا ہے کہ اپنی جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائد سردار اختر جان مینگل کے فیصلے کی روشنی میں بلوچستان اسمبلی سے اپنا استعفیٰ قائد بی این پی کے توسط سے پیش کرتاہوں انہوں نے استعفیٰ کے متن میں لکھا کہA4سائز کے کاغذ پر پاکستان بلخصوص بلوچستان کے عوام کو درپیش قیامت خیز مسائل کو بیان کرنا ناممکن ہے پاکستان میں پی ڈی ایم کی قیادت اپنے فیصلوں و تقاریر میں ان مسائل کو اجاگر کر تی رہی ہے لیکن شاید گل خان نصیر کے چند اشعار پاکستان و بلوچستان کے موجودہ سیاسی ،معاشی، معاشرتی ،صحافتی، انسانی حقوق کی حالت زار کے لئے کافی ہیں انہوں نے استعفیٰ میں اشعار تحریر کئے ہیں
کیسے مانوں آمر دیس بھی آزاد ہوا
جبکہ ہے نثر حکومت کا وہی سازوہی
کیسے مانوں کہ یہ اجڑاءچمن آباد ہوا
جبکہ ہے زاغ و زغن کا پروازوہی
کیسے مانوںکہ فرنگی کی حکومت نہ رہی
جبکہ ہے جرگہ و جرمانہ و تعزیر وہی
کیسے مانوں کہ غلامی کی مصیبت نہ رہی
بیڑیاں پاﺅں میں اور ہاتھوں میں زنجیر وہی
