لاہور: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی رہنمامولانا عبد الغفور حیدر ی نے کہا ہے کہ 13 دسمبر کو مینار پاکستان کی تاریخ کا سب بڑا جلسہ ہونے جارہاہے ،جلسے کے اثرات جہاں سلیکٹڈ حکومت اور حواریوں پر مرتب ہوں گے وہیں پورے ملک اور دنیا پر بھی مرتب ہوں گے ،ملتان میں روکنے کی کوشش کی گئی ، کنٹینر لگائے گئے ،قافلوںکے راستے روکے گے ،پنڈال میں پانی چھوڑا اور بدترین اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے گئے مگر پی ڈی ایم کے قائدین اور کارکنان ثابت قدم رہے۔ مینار پاکستان کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عبد الغفور حیدر نے کہا کہ ہمیں اندر داخل ہونے سے روکا گیا ، میں اندر آگیا تو باقی قائدین کو داخلے سے روکدیا گیا ، دو لمحے نہیں ہوا کہ گارڈ چابی لے گیا، حکومت جب جھوٹ بولتی ہے تو اثر ملازمین پربھی ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہاں ملتان والی تاریخ دہرائی گئی تو اس کا سخت جواب ہوگا،ہمیں اپنا حق استعمال کرنے دیں یہ ہمارا جمہوری حق ہے ،جلسہ اسی جگہ ہوگا ۔آپ ایک طرف جمہوریت کی بات کرتے ہیں دوسری طرف آئین کے تحت ہمیں جلسہ نہیں کرنے دیتے،ہم تمہاری اس نام نہاد جمہوریت کو تسلیم نہیں کرتے، ہم نے ضیا الحق کے دور میں جیلیں کاٹیں ،پرویز مشرف کا دور بھی دیکھا مگر اس قسم کا قدغن نہیں دیکھا، تم جمہوریت کی بات کرکے ہمارا گلہ گھونٹا چاہتے ہو،ہم تمہاری پابندیوں کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں،آپ کی پابندی کو نہیں مانتے ، اگر ہم قانون کی خلاف ورزی کریں تو ہمارا راستہ رکیں۔ ہم نے پانچ جلسے کئے پندرہ ملین مارچ اور آزادی مارچ کئے ایک گملانہیں ٹوٹا، ہم نے جمہوری رویہ اپنایا اور آپ نے آمریت کا رویہ اپنا،یالاہور کا جلسہ موجودہ حکومت کی رخصت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم تصادم کا راستہ نہیں چاہتے مگر حکومت کی کوشش ہے کہ تصادم کی طرف لے جائیں،حکومت نے اعلان کیا کہ کرسیاں اور ٹینٹ والوں کو گرفتار کریں گے یہی حکومت کی بوکھلاہٹ ہے ،شیخ رشید کو جہاں دیکھیں گے انہیںرسوائیاں ہی نصیب ہوں گی، کبھی وہ مولانا فضل الرحمن سے پنگا لینا چاہتے ہیں،اگر اس کو شعور ہے تو ہم سے پنگا نہیں لے گا۔
