علی ظفر کے خلاف مہم چلانے کا کیس: تحقیقات میں میشا شفیع مجرم قرار

علی ظفر کے خلاف مہم چلانے کا کیس: تحقیقات میں میشا شفیع مجرم قرار

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

لاہور: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے گلوکار علی ظفر کو سوشل میڈیا پر بدنام کرنے کے کیس میں گلوکارہ میشا شفیع سمیت دیگر 8 افراد کو مجرم قرار دیتے ہوئے ٹرائل کورٹ سے تمام افراد کے خلاف کارروائی کی درخواست کردی۔ رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے نے 15 دسمبر کو لاہور سینٹرل کی خصوصی عدالت میں علی ظفر کی جانب سے دائر کردہ کیس میں عبوری چالان پیش کیا۔ عبوری چالان میں بتایا گیا کہ ایف آئی اے کی تفتیش و کیس کے زبانی اور دستاویزی شواہد کے مطابق میرا شفیع المعروف میشا شفیع، اداکارہ عفت عمر، ماہم جاوید، لینا غنی، حسیمس زمان، فریحہ ایوب، سید فیضان رضا، حمنہ رضا اور علی گل پیر مجرم قرار پائے۔ عبوری چالان کہا گیا کہ تاہم شکایت کنندہ نے حمنہ رضا نامی خاتون کی معافی قبول کرلی اور ان کے خلاف مزید کارروائی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایف آئی اے کی جانب سے عبوری چالان میں کہا گیا کہ میشا شفیع نے 9 اپریل 2018 کو علی ظفر کے خلاف جنسی ہراسانی کے الزامات سوشل میڈیا پر لگائے تاہم وہ ان سے متعلق شواہد پیش کرنے میں ناکام رہیں۔ عبوری چالان میں بتایا گیا کہ دیگر ملزمان بھی اپنے دعوؤں سے متعلق شواہد پیش کرنے میں ناکام رہے، جس بنیاد پر رواں برس ستمبر میں عدالتی حکم پر تمام افراد کے خلاف پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) 2016 کے سیکشن (1) 20 کے تحت مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔ عبوری چالان میں عدالت سے میشا شفیع سمیت دیگر ملزمان کے خلاف مزید قانونی کارروائی کی درخواست کی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!