کوئٹہ:بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری موسی بلوچ نے کہا ہے کہ بی این پی کے مرکزی کونسل کے ممبر سیاسی ،سماجی و قبائلی رہنما جان محمد گرگناڑی کی اغوا کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ سلیکٹڈ اور نااہل حکمرانوں کے دور میں ایک مرتبہ پھر آمرانہ ادوار کی طرز پر بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماﺅں اور کارکنوں کے خلاف اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنا کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے تاکہ بی این پی کو اپنے اصولی موقف سے دستبردار کیا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام اوچھے منفی ہتھکنڈے اور حربے اس لئے استعمال کئے جارہے ہیں کیونکہ بی این پی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے جو اصولی ، محکوم اقوام کے ساحل وسائل پر واک و اختیار ، آئین کی اصل شکل میں نفاذ ، جمہوریت کی بالادستی کے لئے موقف اختیار کیا ہے وہ بہت سے غیر جمہوری و مقتدر قوتوں کو ناگوار گزری ہے بلکہ ان سے سردار اختر جان مینگل اور بی این پی کی اصولی سیاست ہضم نہیں ہورہی ہے اس لئے ایک مرتبہ پھر اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مقتدر اور غیر جمہوری قوتوں کو ایسے منفی حربے استعمال کرنے سے پہلے بی این پی کی تاریخ پڑھنی چاہیے بی این پی کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے آج تک بلوچ قومی حقوق کی جدوجہد کے لئے جتنی بھی قربانیاں بی این پی نے دی ہیں وہ سب کے لئے نوشتہ دیوار ہے بی این پی کے رہنما اورکارکن کبھی پہلے اس طرح کے حربوں سے مرعوب ہوئے ہیں اور نہ ہی آئندہ ہوں گے ۔ انہوںنے کہا کہ بی این پی کے رہنما اور کارکنوں نے ہر طرح کے مشکل اور کٹھن حالات میں قوم کے حقیقی نمائندگی کرتے ہوئے کبھی اصولوں پر سمجھوتہ کیا ہے اور نہ ہی کبھی قومی اہداف کے حصول کے لئے ان کے موقف میں زرہ برابر تبدیلی آئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ آج صوبے میں امن وامان کی صورتحال انتہائی ابتر ہے اربوں روپے امن وامان کے نام خرچ کرنے کے باوجود صوبے بھر میں شہریوں کے جان و مال کو تحفظ حاصل نہیں ، آئے روز اغوا برائے تاوان کے واقعات رونما ہورہے ہیں صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت صوبے کے اکثر اضلاع میں چوری و ڈکیتوں سے عوام عاجز آچکے ہیں کبھی موٹرسائیکل چھیننے کے دوران لوگوں کو قتل کیاجاتا ہے تو کبھی سیاسی رہنما اغوا ہوتے ہیں اگر فوری طور پر بی این پی کے مرکزی کونسل ممبرسیاسی ، سماجی و قبائلی رہنما کو رہا نہ کیا گیا تو پارلیمانی و سیاسی طور پر صوبے کے تمام اضلاع خضدار ، قلات ، آواران ،ژوب ، قلعہ عبداللہ ، قلعہ سیف اللہ کے علاوہ ڈی جی خان اور جیکب آباد میں موجود مضبوط نیٹ ورک رکھنے والی بلوچستان نیشنل پارٹی بھر پور احتجاج کا آئینی حق اپنانے پر مجبور ہو گی۔
