محکمہ بی ڈی اے کو ختم کرنے کیخلاف ہر فورم پر آواز بلند کرینگے ، خان زمان

محکمہ بی ڈی اے کو ختم کرنے کیخلاف ہر فورم پر آواز بلند کرینگے ، خان زمان

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ :بلوچستان لیبر فیڈریشن کے صدر خان زمان چیئرمین حاجی بشیر احمد رند سیکرٹری جنرل قاسم خان کاکڑ ،حاجی عبدالعزیز شاہوانی، عابد بٹ محمد عمر جتک، عارف خان نچاری دین محمد محمد حسنی ملک وحید کاسی ملک محمد حسین بنگلزئی ظفر خان رند ،حبیب اللہ لانگو ، سید منظور شاہ فضل محمد یوسفزئی ، انجینئر نجیب اللہ مری اور دیگر رہنماﺅں نے بیان میںحکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ بی ڈی اے کو مرج کرنے یا کسی دوسرے محکمے کے ماتحت کرنے کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے، ادارے کی خودمختار حیثیت بحال رکھی جائے اور ملازمین، مزدوروں اور پنشنرز کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے۔ بصورت دیگر بلوچستان لیبر فیڈریشن بھرپور احتجاجی تحریک چلانے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔رہنماوں نے کہا کہ محکمہ بی ڈی اے سے اس وقت 900 خاندانوں کا معاش اور روز گار وابستہ ہے حکومت کے غلط فیصلوں سے بیرروز گاری میں اضافہ ہوگا فیڈریشن ملازمین و مزدوروں کے معاشی استحصال کے غلط فیصلوں کیخلاف ہر فورم پر آواز اٹھائے گی ، فیڈریشن نے خدشہ ظاہر کیا کہ بی ڈی اے کے اربوں روپے مالیت کے اثاثوں کو اونے پونے داموں فروخت کرنے یا دیگر اداروں کے حوالے کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ گڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں ادارے کے اربوں روپے مالیت کے اثاثے موجود ہیں،بی ڈی اے اور حکومت نے انٹر نیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کیساتھ آئند پندرہ سال تک دنیا بھر سے بڑے بحری جہاز ری سائیکل ہونے کیلئے آئین گے ، اس عمل کے دوران یہ اثاثے اونے پونے فروخت کرنا یا کسی اور کو منتقل کرنا گہری سازش اور بڑی کرپشن کی ساز ش ہے جبکہ حب میں بھی قیمتی عمارت اور دیگر املاک موجود ہیں،کوئٹہ میں بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا ہیڈ آفس دو ارب روپے سے زائد مالیت کا ہے جنہیں منتقل کرنے یا ختم کرنے کی کسی بھی سازش کی بھرپور مخالفت کی جائے گی۔بلوچستان لیبر فیڈریشن نے مطالبہ کیا کہ محکمہ بی ڈی اے کے مستقل ملازمین اور نیولی ریگولر ملازمین کے مستقبل کیساتھ مذاق کرنے کی پالیسیوں کو فوری طور پر روکا جائے ، بلوچستان حکومت فعال ادارے کو نئے ترقیاتی منصوبے تفویض کرے تاکہ یہ ادارہ صوبے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتا رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!