سندھ ہائی کورٹ نے امریکی صحافی ڈئینیل پرل قتل کیس میں احمد عمر شیخ سمیت 4 ملزمان کی نظر بندی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزمان کو فوری طور پر جیل سے رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ جمعرات 24 دسمبر کو احمد عمر شیخ و دیگر کی بریت کے بعد نظر بندی کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے احمد عمر شیخ سمیت تمام ملزمان کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا بھی حکم دیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ ملزمان کو جب عدالت طلب کرے گی تو پیش ہوں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ملزمان بغیر کسی جرم کے 18 سال سے جیل میں ہیں۔ دیگر ملزمان میں فہد نسیم، سید سلمان ثاقب اور شیخ محمد عادل شامل ہیں۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے احمد عمر شیخ کو سزائے موت سنائی تھی جبکہ دیگر 3 ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ سندھ ہائی کورٹ نے تمام سزا کے خلاف اپیل منظور کرتے ہوئے بری کر دیا تھا۔ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کے مطابق ملزمان کی نظر بندی کا اختیار صوبائی حکومت کا ہے اور محکمہ داخلہ نے 28 ستمبر کو ملزمان کو اے ٹی اے کی سیکشن ای ای ای 11 کے تحت نظر بند کیا تھا
