رانا ثناءاللہ کا فیصلہ کن لانگ مارچ کا عندیہ

رانا ثناءاللہ کا فیصلہ کن لانگ مارچ کا عندیہ

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

لاہور:سابق وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ فیصلہ کن لانگ مارچ کیا جائے گا، لانگ مارچ کے پڑاؤ کا فیصلہ کرلیا،جس کا اعلان لانگ مارچ کی تاریخ کے کیساتھ کیا جائے گا۔ سابق وزیر قانون رانا ثناءاللہ کے خلاف منشیات برآمدگی کیس کی سماعت انسداد منشیات کی خصوصی عدالت میں ہوئی۔ وکیل فرہاد شاہ وکیل رانا ثنااللہ نے مؤقف اپنایا کہ اگر ملزمان کی صفائی میں کچھ بیانات آئے تو وہ بھی ریکارڈ کا حصہ ہونا چاہیے،لاہور ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ یہ کیس سیاسی ہے،ہماری درخواست منظور کرکے ہمارے حق میں جن گواہوں نے بیانات دیے وہ ہمیں دیے جائیں۔اس موقع پر پراسکیوشن نے رانا ثناءاللہ کی متفرق درخواست پر دلائل دیتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ رانا ثناءاللہ کے خلاف جو بیانات قلمبند کیے ہیں انکی کاپیاں فراہم نہیں کرسکتے،ہم نے تمام متعلقہ بیانات کی کاپیاں ملزمان کے وکلا کو دے دی ہیں،چالان عدالت میں آ چکا ہے ملزمان کے وکلاء چالان پہ دھیان دیں۔جج شاکر حسن نے پراسکیوٹر سے مکالمہ کیا کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 265 سی کے تحت اگر آپ نے کسی کے بیانات ریکارڈ کئے ہیں تو ملزموں کو فراہم کر دیں،جس پرپراسکیوٹر نے کہا کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 161 کی ذیلی شق 3 کے تحت کسی بندے کو محض طلب کرنا دفعہ 161 کے بیان کی تعریف میں نہیں آتا۔ بعدازاں انسداد منشیات عدالت نے رانا ثناءاللہ کی گواہوں کے بیانات کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا جو11جنوری کو سنایا جائے گا ۔ کیس کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر قانون رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ جب کچھ نہیں ملا تو منشیات کا کیس بنا دیا گیا،جب اس سے بھی بات نہیں بنی تو نیب کو پیچھے لگا دیا گیا، نیب ایک روپے کا جعلی اکاؤنٹ نہیں نکال سکا،اب کیس بنا رہے ہیں کہ فلانی چیز سستی خرید لی،یہ کیس نیب کا بنتا ہی نہیں ہے،انتقامی کارروائیوں کے آگے عدلیہ کو دیوار بننا چاہیے،عدلیہ کو انتقام اور ظلم کو روکنا چاہیے ورنہ معاشرہ انتشار کا شکار ہو جائے گا،عدلیہ کچھ حد تک کردار ادا کر رہی ہے لیکن مزیدکردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہر قیمت پر نالائق اور نااہل ٹوکے کو گھر بھیج کر ان سے جان چھڑائی جائے گی،پی ڈی ایم کی تحریک عوامی دباؤ میں اضافہ کرتی رہے گی،فیصلہ کن لانگ مارچ بھی کیا جائے گا، لانگ مارچ کے پڑاؤ کا فیصلہ کرلیا،جس کا اعلان لانگ مارچ کی تاریخ کے کیساتھ کیا جائے گا،سب کو پتا ہے کہ اسلام اباد پڑاؤ ہوا تو کہاں ہو گا اور پنڈی ہوا تو کہاں ہو گا،جب وقت آئے گا تو استعفے بھی دیے جائیں گے،استعفوں کے معاملے میں پیپلز پارٹی نے دلیل کیساتھ اپنا مؤقف پیش کیا، پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ استعفے آخری مرحلے کے طور پر استعمال کرنے چاہیں،تمام جماعتیں پی ڈی ایم کے ایجنڈے پر متفق ہیں،جو آدمی گھبرایا اہو کیا وہ کبھی تسلیم کرتا ہے کہ وہ گھبرایا ہوا ہے، وزیر اعظم کے عمل سے نظر آرہا ہے کہ وہ گھبرائے ہوئے ہیں،سارا دن کے ان کے وزیر دفاع کرنے لگے ہوتے ہیں،پچھلے 3 ماہ میں اس حکومت نے اپوزیشن کے جلسوں پر بات کرنے کے سوا کوئی کام نہیں کیا تو یہ کیسے کہتے ہیں کہ ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ نئے سی سی پی او اورپولیس افسران سے گزارش ہے کہ اپنی ذمہ داری قانون کے مطابق ادا کریں،وہ حکومتی ٹولے کے ملازم یا ذاتی مفاد کی بھینٹ نہ چڑھیں،انہوں نے دیکھ لیا کہ ان کی تابعداری اور وزیراعظم کے بہنوئی کا پلاٹ واپس دلوانے پر کام کرنے کے باوجود عزت نہیں ملی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!