سانحہ زیارت صوبے کیلئے ناقابل تلافی نقصان ہے ، پشتونخواء نیشنل پارٹی عوامی

سانحہ زیارت صوبے کیلئے ناقابل تلافی نقصان ہے ، پشتونخواء نیشنل پارٹی عوامی

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ: پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ سے جاری ہونے والے پریس ریلیز میں سانحہ? زیارت کے حوالے سے جاری کامیاب عوامی اور تاریخی احتجاجی دھرنے کے باوقار اختتام اور ملی سانحے کے خلاف جاری احتجاجی دھرنے میں عوام کے تاریخی اتحاد و اتفاق، تمام سیاسی و جمہوری جماعتوں کی یکجہتی، شہداءکے لواحقین کی ثابت قدمی اور صوبہ بھر کے عوام کی بھرپور شرکت و تعاون پر صوبہ بھر کے عوام کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ 6 جولائی کو مانگی فیز ٹو، ضلع زیارت میں پیش آنے والے المناک دہشت گرد حملے میں 31 پولیس اہلکاروں کی شہادت پورے صوبے کے لیے ایک عظیم سانحہ اور ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ شہداءکے لواحقین نے انتہائی حوصلے، صبر، استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہداءکے جسدِ خاکی کو سانحہ زیارت شہدا چوک (کوئلہ پھاٹک) منتقل کیے، جہاں انصاف، امن اور دہشت گردی کے خاتمے کے مطالبے کے لیے احتجاجی دھرنا دیا گیا، جو مسلسل دس روز تک جاری رہا۔ پریس ریلیز میں کہا گیا کہ اس احتجاجی دھرنے میں تمام سیاسی و جمہوری جماعتوں کے قائدین، وکلائ، علمائ کرام، قبائلی عمائدین، سماجی کارکنوں، طلبہ، خواتین، نوجوانوں اور مختلف شعبہ? ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔ صوبے کے مختلف اضلاع میں احتجاجی مظاہرے، جلسے، جلوس اور ریلیاں منعقد ہوئیں، جبکہ بعد ازاں مکمل شٹر ڈاو¿ن ہڑتال کے ذریعے عوام نے شہدائ کے خاندانوں کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا۔ پارٹی نے کہا کہ یہ عوامی اتحاد اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ صوبہ کے عوام دہشت گردی، بدامنی اور لاقانونیت کے خلاف متحد ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ دہشت گردی، لاقانونیت اور عوام دشمن کارروائیوں کے خلاف عوام کے اس غیر معمولی اتحاد، شعور اور اجتماعی جدوجہد نے صوبے کی سیاسی تاریخ میں ایک نئی مثال قائم کی ہے۔ یہ تحریک صرف شہدائکے لیے انصاف کی آواز نہیں بلکہ پورے صوبے میں پائیدار امن، قانون کی بالادستی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کی اجتماعی جدوجہد کی علامت بن چکی ہے۔ پریس ریلیز میں 5 جولائی کو ہنہ اوڑک میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کا بھی ذکر کیا گیا، جس میں پانچ معصوم افراد کو شہید، چھ افراد کو زخمی اور گیارہ افراد کو اغوا کیا گیا۔ پارٹی نے اس سانحے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے شہدائ کے لواحقین، زخمیوں اور اغوا شدگان کے اہلِ خانہ کے ساتھ مکمل ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ تمام اغوا شدگان کو فوری اور بحفاظت بازیاب کرایا جائے۔ مرکزی سیکرٹریٹ کے مطابق سانحہ زیارت کے شہداء کے لواحقین، آل پارٹیز کی نمائندہ کمیٹی اور حکومت کے درمیان باقاعدہ تحریری معاہدہ طے پایا ہے، جس کے تحت ایک بااختیار جوڈیشل کمیشن قائم کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ کمیشن کے ٹرمز آف ریفرنس (TORs) جامع، واضح اور مو¿ثر ہیں، جن کے ذریعے واقعے میں غفلت، لاپرواہی، انتظامی ناکامی اور ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جائے گا۔ پارٹی نے امید ظاہر کی کہ کمیشن مکمل غیر جانبداری کے ساتھ تحقیقات کرے گا اور تمام ذمہ دار کرداروں کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دلانے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ، سینئر ڈپٹی چیئرمین رضا محمد رضا، سینئر سیکرٹری سید عبدالقادر آغا ایڈووکیٹ، مرکزی سیکرٹری اطلاعات محمد عیسیٰ روشان، صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے، صوبائی سیکرٹری اول فقیر خوشحال کاسی سمیت مرکزی، صوبائی، ضلعی اور علاقائی تنظیموں کے عہدیداروں اور ہزاروں کارکنوں نے صوبے بھر میں ہونے والے احتجاجی پروگراموں، جلسوں، جلوسوں، دھرنوں اور عوامی اجتماعات میں بھرپور شرکت کی اور شہدائ کے خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ پریس ریلیز میں مزید کہا گیا کہ پارٹی کے نمائندوں نے مذاکراتی عمل میں بھی انتہائی ذمہ دارانہ، مثبت اور مو¿ثر کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں حکومت، آل پارٹیز کی نمائندہ کمیٹی اور شہداءکے لواحقین کے درمیان اہم معاہدہ طے پایا۔ اسی طرح جوڈیشل کمیشن کے قیام اور اس کے مو¿ثر ٹرمز آف ریفرنس کی تیاری میں بھی وکلاءکی ٹیم نے بھرپور قانونی معاونت فراہم کی تاکہ تحقیقات شفاف، غیر جانبدارانہ اور نتیجہ خیز ثابت ہوں۔ پارٹی نے حکومت پر زور دیا کہ وہ معاہدے کے تمام نکات پر بلا تاخیر عمل درآمد کو یقینی بنائے، خصوصاً تکتو، ہنہ اوڑک ، منگلہ، شعبان، زرغون غر، ہرنائی، شاہرگ، خوست ، دکی، قلعہ عبداللہ، کوئٹہ اور صوبے کے دیگر علاقوں میں سرگرم دہشت گردوں، مسلح جھتوں ، جرائم پیشہ عناصر اور اغوا برائے تاوان میں ملوث نیٹ ورکس کے خلاف مو¿ثر اور فیصلہ کن کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور صوبے میں دیرپا امن قائم ہو۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ پارٹی چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے دھرنے کے مختلف مراحل میں شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ قومی جدوجہد کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ دیگر مرکزی و صوبائی رہنماو¿ں نے بھی عوامی اجتماعات سے خطاب کیا۔ آج شہداءکے جنازہ کے مراسم میں پارٹی چیئرمین خوشحال خان کاکڑ، رضا محمد رضا، سید عبدالقادر آغا ایڈووکیٹ، محمد عیسیٰ روشان ، نصراللہ خان زیرے، فقیر خوشحال کاسی ، مرکزی کمیٹی، صوبائی ایگزیکٹو، ضلعی ایگزیکٹو اور پارٹی کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کرکے شہداءکو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔اسی طرح لورالائی میں پارٹی رہنماو¿ں نے شہید جانداد شاہ کے نماز جنازہ اور تدفین کے مراسم میں شرکت کی اور شہید کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا، جبکہ زیارت میں بھی پارٹی قائدین نے شہداءکی نمازِ جنازہ، تجہیز و تدفین اور تعزیتی اجتماعات میں شرکت کرکے لواحقین سے اظہارِ تعزیت اور ہمدردی کیا۔ پریس ریلیز کے اختتام پر کہا گیا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی اپنے باشعور عوام سے توقع رکھتی ہے کہ وہ دہشت گردی، لاقانونیت، بدامنی اور عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف اسی اتحاد، قومی شعور، جمہوری استقامت اور پرامن سیاسی جدوجہد کو مستقبل میں بھی پوری قوت کے ساتھ جاری رکھیں گے، کیونکہ امن، انصاف، قانون کی حکمرانی اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے اجتماعی جدوجہد ہی مسائل کا واحد مو¿ثر حل ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!