ژوب، موسیٰ خیل، کوہلو، بارکھان اور ڈیرہ بگٹی میں  درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال کا خطرہ

ژوب، موسیٰ خیل، کوہلو، بارکھان اور ڈیرہ بگٹی میں درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال کا خطرہ

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ اور ڈیموں میں پانی کے ذخیرے کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ جاری کردیا ہے۔
این ای او سی کے مطابق دریائے سندھ میں کالاباغ، چشمہ، تونسہ اور گڈو کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب موجود ہے، جبکہ دریائے راوی، چناب، جہلم، کابل اور ستلج میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ریکارڈ کیا گیا ہے۔
این ای او سی کے مطابق 8 سے 9 اگست کے دوران ملک کے بڑے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا امکان ہے۔
اس دوران دریائے سندھ میں کالاباغ، چشمہ، تونسہ، گڈو اور سکھر، دریائے چناب میں مرالہ جبکہ دریائے راوی میں بلوکی کے مقام پر نچلے درجے کے بہاؤ کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
دریائے جہلم اور منگلا ڈیم سے بالائی علاقوں اور ملحقہ دریاؤں میں بھی نچلے درجے کے بہاؤ کا امکان ہے، جبکہ دریائے کابل میں ادیزئی کے مقام پر بھی نچلے درجے کا بہاؤ متوقع ہے۔
این ای او سی کے مطابق خیبر پختونخوا میں چترال، اپر دیر، ایبٹ آباد، شانگلہ، خیبر، اورکزئی، کوہاٹ، ٹانک، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کے ندی نالوں اور برساتی نالوں میں کم سے درمیانے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے۔
آزاد کشمیر میں باغ اور کوٹلی کے علاقوں میں اچانک کم سے درمیانے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
بلوچستان میں ژوب، موسیٰ خیل، کوہلو، بارکھان اور ڈیرہ بگٹی میں کم سے درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال کا خطرہ ہے۔
پنجاب میں ڈی جی خان اور راجن پور کے پہاڑی برساتی نالوں میں بھی کم سے درمیانے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔
راولپنڈی، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، نارووال، فیصل آباد، اوکاڑہ اور لاہور کے شہری علاقوں میں بھی کم سے درمیانے درجے کے سیلاب کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔
این ڈی ایم اے نے ڈیموں میں پانی کے موجودہ ذخیرے کی صورتحال بھی جاری کردی ہے۔
تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح 1,548 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ پانی کا ذخیرہ 97.94 فیصد ہے۔ گزشتہ سال اسی عرصے میں تربیلا ڈیم میں پانی کا ذخیرہ 95.98 فیصد تھا۔
منگلا ڈیم میں پانی کی سطح 1,205.2 فٹ ریکارڈ ہوئی ہے جبکہ ذخیرے کی شرح 62.99 فیصد ہے۔ گزشتہ سال منگلا ڈیم میں پانی کا ذخیرہ 62.80 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا۔
این ڈی ایم اے نے مقامی انتظامیہ کو حساس علاقوں میں ضروری وسائل پیشگی منتقل کرنے اور محفوظ انخلا کے انتظامات مکمل رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ سیلابی نالوں، زیر آب سڑکوں، پلوں اور تیز آبی بہاؤ کو عبور کرنے سے گریز کریں اور جاری کردہ ٹریفک ہدایات پر عمل کریں۔
سیلابی خطرے سے دوچار علاقوں کے رہائشیوں، سیاحوں اور مسافروں کو ندی نالوں اور دریاؤں کے کناروں سے دور رہنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے