کوئٹہ:جمعیت علما اسلام( نظریاتی) پاکستان کے مرکزی کنونیئرمولانا عبدالقادرلونی، مرکزی سیکرٹری اطلاعات سید حاجی عبدالستارشاہ چشتی ،حاجی حیات اللہ کاکڑ،مفتی شفیع الدین ،عبیداللہ حقانی سالار،عبدالولی مفتی شمس اللہ نے وفاقی حکومت کے جانب سے ہفتہ واتوارکے لاک ڈاون کی فیصلے کومسترد اوربلوچستان کی صوباءحکومت کی جانب سے جمعہ کولاک ڈاون باقی ایام میں لاک ڈاون صبح نوبجے سے سات بجے تک کی فیصلے کی حمایت وخیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت بھی بلوچستان کے صوبائی حکومت کی فیصلے کوفالو کرتے ہوئے ملک بھرمیں ہفتہ اتوارلاک ڈاون کی بجائے صرف جمعہ کولاک ڈاون کااعلان کریں کیونکہ سپریم کورٹ پہلے ہی ہفتہ اتوار کے لاک ڈاون کیخلاف فیصلہ دے چکی ہے اوروفاقی حکومت کے جانب سے سپریم کورٹ کی واضع فیصلہ کے با حکومت ہفتہ اتوار کی لاک ڈاون کا فیصلہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کی دھچکیاں اڑانے کی مترادف ہے بلوچستان کے حکومت کا فیصلہ متوازن وقابل تحسین ہے جس پر بلوچستان کے تاجروں کاروباری حلقوں نے بھی سراہااور اطمینان کا اظہارکیاہے بلوچستان کے صوبءحکومت پبلک ٹرانسپورٹ کو چلانے کی اجازت دے تاکہ عوام ضرورت کے مطابق سفری سہولیات سےاستفادہ و عوام کے پریشانی ختم وٹرانسپورٹ مالکان وڈرائیوران وکلینر ومزدوروں کے روزگارکامسئلہ حل ہوسکیں انہوں نے کہاکہ حکومت اپنی ناکامی کاملبہ عوام پر نہ ڈالیں حکومت اپنے ناکامی چھپانے کے لیے اب دوبار لاک ڈان کی دھمکیوں پراتر رہے ہیں کروناوائرس کی تدارک میں عوام سے زیادہ حکومت پر ذمہ داریاں عائد ہوتی ہے تمام ذمہ داری تاجروں کی نہیں کچھ حکومت کی بھی ذمہ داریاں ہوتی ہے باوجود عوام کو احتیاطی تدابیر پرعمل کرنے کے ساتھ حکومت کی کوئی اقدام عوام کو نظرنہیں آئی ہے جو فنڈز آتے ہیں وہ کرپشن کی نذر ہوجاتی ہے اربوں روپے امداد لینے کی باوجودحکومت نے ہاتھوں دھونے کے لیے شہر میں پانی تک کاانتظام نہیں کیا اور نہ کسی جگہ پر سینیٹائزر واک تھرو گیٹ رکھے گئے انہوں نے کہا صوبے مزید لاک ڈاون کا متحمل نہیں ہو سکتا کاروبار کے ساتھ ٹرانسپورٹ اور ٹرین کھولنے کی اجازت دیا جانا چاہیے انہوں نے کہا کہ حکومت کی دوہرامعیارسے مسائل اور مشکلات میں اضافہ ہورہی ہے انتظامیہ اپنے لیے مشکلات پیدا کررہے ہیں انتظامیہ کے ایسے کے اقدامات سے منفی تاثر پیدا ہورہی ہے حکومت کو ایس او پیز پر عمل درآمد عوام کی سمجھ میں نہیں آرہے ہیں کہ آخرحکومت کی پالیسی اور پلان صرف کیا ہے حکومت کی دوہرا معیار کی وجہ سے اب مجبورا غریب عوام اورمزدورطبقات سڑکوں پر نکل جائیں گے کورونا سے زیادہ خطرناک غربت اور افلاس نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں دیہاڑی دار سفید پوش چھوٹے دوکاندار کمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ارباب اقتدار اور بیورکریسی لاکھوں تنخواہوں لینے والوں کو لاک ڈان کے توسیع سےدو وقت روٹی کمانے والے دیہاڑی دار مزدور اور چھوٹے طبقات کی دکانداروں کی چولہے بجھ جانے کی کیافکر لاحق ہوگی ان کو تو تنخوائیں مل رہی ہے غریب عوام اور مزدور طبقات بچوں کی بھوک سے غریب عوام جوخود کشیاں کررہے ہیں ان کے بچوں کے لیے آج تک آٹا کی ایک بوری فراہم نہیں کی گئی ہے غریب عوام کی زندگیاں کو مزید فاقہ کشی کی دا پرنہ لگایاجائے اور وفاقی حکومت ہفتہ اتوار کی لاک ڈاون کا فیصلہ واپس لیکر صرف جمعہ کی کاروبار بند لاک ڈاون کا اعلان کریں تاکہ ملک بھرمیں یکساں حالات ہو اورپبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں منی بس کوچز کوپٹرولیم کے نرخوں میں کمی کے مطابق کرایوں کوکم کرنے کی ساتھ چلانے کی اجازت دیاجائیں۔
