سرکاری ملازمتیں کسی فرد، خاندان یا سیاسی گروہ کی جاگیر نہیں، رحمت صالح بلوچ

سرکاری ملازمتیں کسی فرد، خاندان یا سیاسی گروہ کی جاگیر نہیں، رحمت صالح بلوچ

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ:نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور بلوچستان اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر میر رحمت صالح بلوچ نے پنجگور میں محکمہ جنگلات کی آسامیوں پر بے ضابطگیوں، اقربا پروری، سفارش اور میرٹ کی پامالی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ملازمتیں کسی فرد، خاندان یا سیاسی گروہ کی جاگیر نہیں بلکہ عوامی امانت ہیں۔ ان آسامیوں پر بھرتی صرف شفاف، غیرجانبدارانہ اور میرٹ کے اصول کے تحت ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پنجگور میں محکمہ جنگلات کی حالیہ بھرتیوں کے حوالے سے جو شکایات سامنے آ رہی ہیں، وہ انتہائی تشویشناک ہیں۔ مقامی نوجوان برسوں سے سرکاری ملازمتوں کے منتظر ہیں، اپنی تعلیم مکمل کرنے کے باوجود بے روزگاری کا سامنا کر رہے ہیں،مگر اگر ان کے بجائے دوسرے اضلاع کے لوگوں کو تعینات کیا جائے اور مقامی امیدواروں کو میرٹ کے باوجود نظرانداز کیا جائے تو یہ صرف چند افراد کی حق تلفی نہیں بلکہ پورے علاقے کے نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج بلوچستان جن سیاسی، معاشی اور سماجی مشکلات سے دوچار ہے ان کے پس منظر میں برسوں سے جاری ناانصافیاں، وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم، میرٹ کی پامالی، سفارش کلچر اور نوجوانوں کو ان کے جائز حقوق سے محروم رکھنے جیسے عوامل بھی شامل ہیں۔ جب ایک قابل اور حقدار نوجوان بار بار میرٹ سے محروم ہوتا ہے تو اس کا اعتماد صرف ایک محکمے سے نہیں بلکہ پورے نظام سے اٹھنے لگتا ہے۔میر رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ حکومت اگر واقعی میرٹ اور شفافیت کو اپنی پالیسی کا بنیادی اصول سمجھتی ہے تو اسے محض اسمبلی فلور پر دعووں اور بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے ثابت کرنا ہوگا کہ سرکاری ملازمتوں میں کسی قسم کی رشوت ، سیاسی مداخلت، سفارش اور اقربا پروری برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان سے مطالبہ کیا ک حالیہ عرصے میں مختلف محکموں میں ہونے والی بھرتیوں اور تعیناتیوں کا غیرجانبدارانہ اور شفاف آڈٹ کرایا جائے، میرٹ لسٹیں اور بھرتی کے تمام مراحل عوام کے سامنے لائے جائیں اور شکایات کی صورت میں آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں۔انہوں نے کہا کہ اسمبلی فلور پر میرٹ اور شفافیت کے حوالے سے کیے گئے دعوے محض سیاسی بیان نہ بنیں اور سیکرٹریز سے لیا جانے والا حلف محض کاغذ کا ٹکڑا ثابت نہ ہو۔ اگر وزیراعلیٰ واقعی میرٹ کے معاملے میں سنجیدہ ہیں تو وزرائ سے بھی اعلانیہ حلف لیا جائے کہ وہ کسی ایک بھی سرکاری نوکری کو رشوت، سفارش، سیاسی وابستگی یا ذاتی تعلقات کی بنیاد پر نہیں دیں گے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصے میں بعض محکموں کے جاری ہونے والے تعیناتی کے حوالے سے بھی سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔میرٹ کے بجائےپیسوں، ذاتی اور خاندانی تعلقات کو ترجیح دی گئی اور بیٹوں، بھتیجوں، بھابیوں، سالوں اور کزنز کو نوازا گیا جو میرٹ کے اصول کی کھلی خلاف ورزی ہے، اس کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں میں پیسوں اور اقربا پروری کا کلچر کسی بھی معاشرے کے لیے تباہ کن ہوتا ہے، کیونکہ اس سے ایک طرف اہل اور قابل افراد آگے بڑھنے کے مواقع سے محروم ہوتے ہیں جبکہ دوسری جانب نااہلی اور بدعنوانی کو فروغ ملتا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ محکموں میں ایسے ماحول کو ختم کرے جہاں کسی نوجوان کو یہ احساس ہو کہ ملازمت حاصل کرنے کے لیے تعلیم اور قابلیت کے بجائے سفارش اور تعلقات ضروری ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو یہ یقین دلایا جائے کہ ان کا مستقبل ان کی قابلیت، تعلیم اور محنت سے وابستہ ہے، نہ کہ کسی سیاسی شخصیت، وزیر، افسر یا بااثر خاندان کی سفارش سے۔ اگر حکومت یہ بنیادی اعتماد بحال کرنے میں ناکام رہی تو نوجوانوں میں موجود مایوسی مزید گہری ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پنجگور کے عوام کو اپنے ہی ضلع میں موجود سرکاری ملازمتوں سے محروم کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں ،جو لوگ سرکاری ملازمتوں کو پیسوں، ذاتی مفادات، رشتہ داریوں یا سیاسی اثر و رسوخ کے لیے استعمال کرتے ہیں انہیں مثال بنانا ہوگا تاکہ آئندہ کوئی سرکاری عہدے یا اختیار کو عوامی حق پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے استعمال نہ کرسکے۔ احتساب صرف کمزوروں کا نہیں بلکہ بااثر افراد کا بھی ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی میرٹ، شفافیت، قانون کی بالادستی اور عوام کے بنیادی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ وہ بلوچستان اسمبلی کے اندر بھی اس مسئلے کو بھرپور انداز میں اٹھائیں گے، میڈیا کے ذریعے عوام کی آواز حکام تک پہنچائیں گے اور ضرورت پڑنے پر دیگر آئینی و قانونی فورمز سے بھی رجوع کیا جائے گا۔میر رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ اگر حکومت نے میرٹ کی پامالی، اقربا پروری اور بے ضابطگیوں کا فوری نوٹس نہ لیا تو عوام یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوں گے کہ میرٹ اور شفافیت کے دعوے صرف الفاظ تک محدود ہیں۔ حکومت کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ میرٹ، انصاف اور نوجوانوں کے حق کے ساتھ کھڑی ہے یا سفارش اور اقربا پروری کے پرانے نظام کو جاری رکھنا چاہتی ہے۔انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ پنجگور میں محکمہ جنگلات کی بھرتیوں سمیت حالیہ عرصے میں ہونے والی تمام متنازعہ تعیناتیوں کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے، میرٹ پر پورا اترنے والے امیدواروں کو ان کا حق دیا جائے اور سرکاری ملازمتوں کی خرید و فروخت، سفارش اور اقربا پروری کے تاثر کو ختم کرنے کے لیے عملی اور قابلِ اعتماد اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ عوام کے حقوق، نوجوانوں کے مستقبل اور میرٹ کے تحفظ کے لیے نیشنل پارٹی ہر آئینی، جمہوری اور قانونی فورم پر اپنی آواز بلند کرتی رہے گی اور میرٹ کی پامالی کے خلاف کسی دباو¿ کے بغیر جدوجہد جاری رکھے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے