ایس او پیز کے نام پر عزت نفس مجروح ہونے نہیں دینگے ‘ انجمن تاجران بلوچستان

ایس او پیز کے نام پر عزت نفس مجروح ہونے نہیں دینگے ‘ انجمن تاجران بلوچستان

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ: انجمن تاجران بلوچستان اور آل بلوچستان ریسٹورنٹ اینڈ ہوٹل ایسوسی ایشن کے عدیداروں کامشترکھ اجلاس زیر صدارت رحیم آغا منعقد ہوا اجلاس میں انجمن تاجران بلوچستان کے جنرل سیکرٹری حاجی اللہ داد ترین ریسٹورنٹ کے عباس صادق کاسی سردار نقیب ترین اسدخان ترین ملک نعیم لہڑی شاہد کاکڑ آصف سمالانی محمد عیسی ترین وقاص احمد حاجی سلیم ترین رحیم اللہ اور دیگر عہدیداروں اور ممبران نے شرکت کی اجلاس میں حکومتی ایس او پیز فالو کرنے کے باوجود ریسٹورنٹ مالکان کو بلاجواز تنگ کرنے ان کے جائز اور قانونی کاوربار میں رکاٹیں ڈالنے اور سینکڑوں خاندانوں کو روزگار دینے والے معزز ریسٹورنٹ مالکان کی عزت نفس مجروح کرنے ان کے ساتھ ہتک آمیز رویہ روا رکھنے کی پرزور مذمت کی ہے اجلاس میں متفقہ طورپر فیصلہ کیا گیا کہ اب ہم کسی کو تاجروں اور ریسٹورنٹ مالکان کی عزت نفس کو مجروح کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اجلاس میں تمام تمام شرکا نے بیک آواز ہوکر کہا اب ہم اپنے جائز اور قانونی حقوق کیلئے ہاتھ پر ہاتھ ن دھرے نہیں بیٹھیں گے بلکہ اپنے حقوق کیلئے باہر نکلیں گے اور جمہوری طریقہ سے بھرپور احتجاج ریکارڈ کرائیں گے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رحیم آغا نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ صوبہ اور کوئٹہ شہر کے وسیع تر مفاد میں حکومت اور انتظامیہ سے بھرپورتعاون کیا ہے مگر آج ھمارے معزز ریسٹورنٹ مالکان جو سینکڑوں خاندانوں کو روزگار دینے اور شہر کی رونقیں بڑھانے کا ذریعہ ھیں انہیں پولیس سپاہی ایگل سکواڈ اور بعض ناتجربہ کار مجسٹریٹس اور ان کے گن مینوں کی توھین آمیز رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ھے یہ کسی صورت قابل برداشت نہیں ھم ان کے رویوں سے بارھا ڈی سی کوئٹہ اور دیگر متعلقہ حکام کو آگاہ کرچکے ھیں مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی رحیم آغا نے کہاکہ گذشتہ دنوں کی پریس کانفرس ھماری احتجاجی تحریک کا نکتہ آغاز تھی اور یہ تحریک کو وزیراعلی ھاس کے سامنے دھرنے اور صوبہ کے تمام شہروں میں مظاھرے کرنے تک وسعت دینگے اور وزیراعلیٰ ہاﺅس کے سامنے دھرنے میں جائز مطالبات کو تسلیم کراکے اٹھینگے لیکن ھم اس کے ساتھ ساتھ مذاکرات کا عمل بھی جاری رکھیں گے اجلاس میں تمام ممبران کھڑے ھوکر احتجاجی تحریک کی حمایت کا اعلان کرتے ھوئے کہا کہ ھم مزید بے عزتیاں برداشت نہیں کرسکتے ہم کاروبار عزت کیلئے کرتے ھیں بے عزت ھونے کیلئے نہیں آج اس سلسلے میں انجمن تاجران بلوچستان آل بلوچستان ریسٹورنٹ اینڈ ھوٹل ایسوسی ایشن کے وفد نے بعض ناتجرکار مجسٹریٹس اور بعض پولیس اہلکاروں اور ایگل سکواڈ کے نامناسب رویہ جائز اور ایس اوپیز کے تحت اجازت دینے کیلئے کمشنر کوئٹہ اور ایڈیشنل آئی جی عبدالرزاق چیمہ سے ان کے دفاتر میں علیحدہ علیحدہ ملاقات کی دونوں معزز اور اعلیٰ افسران کو اپنے مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پہلے تو دو ماہ ھمارے ریسٹورنٹس بند تھے ہم سے صوبائی وزیر سلیم کھوسہ کی سربراھی میں بننےوالی کمیٹی نے وعدہ کیا تھا ھم اپ کے تین ماہ کے بجلی کے بل معاف کردینگے آپ کے ریسٹورنٹ کے ملازمین کیلئے ایک ماہ کا راشن دینگےاور آسان شرائط پر قرضہ دینگے ھم نے کمیٹی کی یقین دھانی پر ریسٹورنٹ کے ساڑھے تین ہزار ملازمین کیلئے راشن کی درخواست دی نہ ھمیں راشن ملا نہ ھمارے بجلی گیس کے بل معاف ھوئے نہ آسان شرائط پر قرضے ملے بلکہ اب جب ھمیں ٹیک اوے اور پارسل دینے کے شکل میں کاروبار کی اجازت ملی تو کھبی پولیس اھلکار کھبی مجسٹریٹس کھبی ایگل سکواڈ تو کھبی مجسٹریٹس کے گن مینوں کی بد تمیزی کا سامنا کرناپڑتا ھے کھانا چائے برگر وغیرہ لے جانے کے انتظار میں پارکنگ ایریامیں پارک کی گءگاڑیوں کو وھاں سے زبردستی نکال دیا جاتا ہے جن میں فیملیاں بھی ھوتیں ھیں وفد نے معزز آفسران کو اپنے مسائل سے آگاہ کرتے ھوئے کہا کہ ھم نے حالات اور برتا سے تنگ آکر وزیراعلیٰ ھاس کے سامنے دھرنے اور صوبہ بھر میں مظاہروں کا فیصلہ کیا ہے مگرہم مذاکرت کے دروازے بھی بند نہیں کرنا چاھتے معزز اعلی افسران نے وفد کے مسائل غور سے سنے اور کہا کہ ہم آپ کی مشکلات اور مسائل کا جائزہ لینگے اور ھم کسی کو آپ کے جائز کاروبار میں رکاٹ نہیں بننے دینگے انہوں نے وفد کو بتایا کہ جہاں تک ایس او پیز کے تحت ریسٹورنٹ میں بٹھاکر کھلانے کی بات تو ھم اس پر غور کرینگے وفد نے بتایا کہ بالخصوص ائیرپورٹ اور شاھراں پر قائم ریسٹورنٹ میں جگہ کی گنجائش ھوتی ھے جب جہاز میں تین سیٹوں پر دو سواری بیٹھ سکتے ھیں تو ھم تو اس سے زیادہ فاصلہ رکھ سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!