کورونا وائرس کے بحران کے تناظر میں اقوام متحدہ کے صحت سے متعلق ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے چہرے پر ماسک پہننے سے متعلق اپنے نکتہ کو تبدیل کر لیا ہے۔ انفکیشن کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اب ڈبلیو ایچ او نے مصروف يا عوامی مقامات پر چہرے پر ماسک پہننے کی سفارش کی ہے۔ یہ تجویز ایسے مقامات کے لیے بھی ہے جہاں لوگوں کے درمیان آپس میں فاصلہ برقرار رکھنا ممکن نہ ہو یا مشکل ہو۔س کی وبا بھارت اور پاکستان میں بھی اب تیزی سے پھیل رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں ملکوں میں مناسب احتیاطی تدابیر اپنانے کا عام لوگ احساس نہیں کر رہے۔ ڈی ڈبلیو کے ایڈیٹرز ہر صبح اپنی تازہ ترین خبریں اور چنیدہ رپورٹس اپنے پڑھنے والوں کو بھیجتے ہیں۔ آپ بھی یہاں کلک کر کے یہ نیوز لیٹر موصول کر سکتے ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اڈھانوم گیبریسس نے ایسے مقامات کی مثالوں میں پبلک ٹرانسپورٹ اور بند اور مصروف مقامات کا ذکر کیا۔ جنیوا میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا تھا، ”جب کبھی عوامی جگہ پر جانے کی ضرورت ہو تو ہم 60 برس سے زائد عمر کے افراد یا ایسے افراد جنہیں طبی مسائل کا سامنا ہے، انہیں میڈیکل ماسک پہننے کی سفارش کرتے ہیں۔خیال رہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے دنیا بھر میں پھیلاؤ کے باوجود ابھی تک ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا نکتہ نظر یہ تھا کہ چہرے پر ماسک پہننے کی ضرورت صرف انہیں ہے جو بیمار ہیں یا ایسے افراد جو بیماروں کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ چہرے کے ماسک کے بڑے پیمانے پر استعمال کی تجویز ابھی تک نہیں دی گئی تھی۔
