تاجر تنظیموں کا 15 جون کو کوئٹہ پریس کلب سے وزیراعلیٰ ہاﺅس تک احتجاجی ریلی نکالنے اور دھرنا دینے کا اعلان

تاجر تنظیموں کا 15 جون کو کوئٹہ پریس کلب سے وزیراعلیٰ ہاﺅس تک احتجاجی ریلی نکالنے اور دھرنا دینے کا اعلان

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ( اسٹاف رپورٹر)تاجر تنظیموں کے رہنماﺅں عبد الر حیم کا کڑ ، سید عبد القیو م آغا ، عبا س کا سی ، یا سین مینگل اور دیگر نے شادی ہالز، ہوٹلز ،ریسٹورنٹس کو کھولنے کی اجازت نہ دیئے جانے اور بلاوجہ دکانیں سیل کئے جانے کیخلاف 15 جون کو کوئٹہ پریس کلب سے وزیراعلیٰ ہاﺅس تک احتجاجی ریلی نکالنے اور ریڈ زون میں مطالبات کی منظوری تک احتجاجی دھرنا دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان حکومت ایس او پیز کے تحت شادی ہالز، ہوٹلز اورریسٹورنٹس کو کھولنے کی اجازت دے ،ان خیالات کا اظہار مرکزی انجمن تاجران بلوچستان ، آل بلوچستان ریسٹورنٹ اینڈ ہوٹل ایسوسی ایشن اور آل بلوچستان میرج ہال ایسوسی ایشن کے عہدیداروں عبد الر حیم کا کڑ ، سید عبد القیو م آغا ، عبا س کا سی ، یا سین مینگل نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔قبل ازیں تاجر تنظیموں نے مطالبات کے حق میں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا ۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رہنماﺅں نے کہا کہ ملک کے تمام کاروبار مراکز ایس او پیز ، احتیاطی تدابیر کے تحت کھول دیئے گئے ہیں تاہم ریسٹورنٹس ،ہوٹل، شاد ی ہالز کو تاحال کھولنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے ریسٹورنٹس کو صرف شٹر کھولنے کی حدتک کھلونے کی اجازت دی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں اب بھی شادیوں پر تقریبات منعقدہ دعوتوں کا اہتمام کیا جارہا ہے لوگ جوش وخروش سے خوشیاں منارہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان حکومت نے جس طرح ایس او پیز کے تحت ٹرانسپورٹ کھولنے کی جازت دی ہے اسی طرح تمام شادی ہال ہوٹلز اور ریسٹورنٹس کو بھی ایس او پیز کے تحت کھولنے کی اجازت دے ۔ انہوں نے کہا کہ شادی ہالز، ہوٹلز اور ریسٹورنٹس 3ماہ سے مکمل بند ہونے کے باوجود شادی ہالز، ہوٹلز اور ریسٹورنٹس مالکان ہرماہ لاکھوں روپے کرایہ اور ملازمین کی تنخواہوںاور یوٹیلی بلوں کی مد میں ادا کررہے ہیں تاہم اس دوران حکومت کے اعلان کے باوجود یوٹیلیٹی بلز معاف نہیں کئے گئے بلکہ اضافی بل بجھوائے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایس او پیز پر عملدرآمد ہونے کے باوجود انتظامیہ کوئٹہ شہر اور صوبہ میں بلاوجہ دکانیں سیل کرکے تاجر برادری کو تنگ کررہے ہیں حالانکہ سپریم کورٹ کے حکم کے تحت ایس او پیز کے تحت کاروبار کرنے والی دکانوں کو سیل نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کوئٹہ شہر میں روزانہ 60 سے 70 دکانیں سیل کررہی ہے جبکہ پولیس اہلکار بھی شہر کے مختلف علاقوں میں دکانیں بند کرارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت شادی ہالز، ہوٹلز ،ریسٹورنٹس کو کھولنے کی اجازت دیکر بلاوجہ دکانیں سیل کرنے سے گریز کرے بصورت دیگر 15 جون کو کوئٹہ پریس کلب سے وزیراعلیٰ ہاﺅس تک احتجاجی ریلی اور ریڈ زون میں مطالبات کی منظوری تک احتجاجی دھرنا دیا جائیگا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!