کورونا وائرس ‘ بے احتیاطی کی صورت میں اس کے اثرات شدید ہوسکتے ہیں‘ وزیراعلیٰ بلوچستان

کورونا وائرس ‘ بے احتیاطی کی صورت میں اس کے اثرات شدید ہوسکتے ہیں‘ وزیراعلیٰ بلوچستان

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ(خ ن ) وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیرصدارت منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں covid-19 سے متعلق امور، وائرس کے پھیلا¶ اور اس کے اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کو پرائمری اور سیکنڈری سطح پر کووڈ 19کی ٹریٹمنٹ اور پروٹوکول کی تیاری کی ہدایت کی گئی، اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت ڈاکٹر ربابہ بلیدی، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ، سیکرٹری صحت، سیکریٹری خرانہ، سیکریٹری کھیل و انچارج بی سی اوسی، ایڈیشنل آئی جی پولیس، ڈی جی صحت، ڈی جی فوڈ، ڈی جی زراعت، ڈی جی تعلقات عامہ، آئی جی پولیس طب اورپبلک ہیلتھ کے شعبہ کے ماہرین سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی، اجلاس میں شریک ماہرین طب نے تحقیق اور ریسرچ کی روشنی میں کورونا وائرس کے رویے، پھیلائو اور اثرات سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آئندہ تین ماہ خاص طور پر ستمبر 2020ءوائرس کے پھیلائواور اثرات کے حوالے سے انتہائی حساس ہوسکتے ہیں، بلوچستان میں مقامی سطح پر پھیلنے والے وائرس کا رویہ اور اثرات دیگر صوبوں سے مختلف ہیں، صوبے میں وائرس سے متاثرہ افراد کا تناسب زیادہ ہے تاہم مریضوں کی صورتحال بہتر اور اموات کا تناسب بھی کم ہے جبکہ اب تک کی ریسرچ کے مطابق لوگوں کو کورونا وائرس کے ساتھ رہنا ہوگا تاہم احتیاطی تدابیر کے ساتھ اس کے پھیلائو اور اثرات کو کم کیا جاسکتا ہے، سیکریٹری صحت دوستین کی جانب سے اجلاس کو دی جانے والی بریفنگ میں بتایا گیا کہ فاطمہ جناح ہسپتال کی لیبارٹری میں ٹیسٹنگ کی صلاحیت روزانہ 1500تک، شیخ زید ہسپتال میں 50اور بی ایم سی ہسپتال میں 24ہے، اب تک صوبے میں 72598افراد کی اسکریننگ اور 31117افراد کے ٹیسٹ کئے گئے ہیں جن میں 6516افراد کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے، فعال کیسز کی تعداد 4149ہے جبکہ اموات کی تعداد 54ہے، صوبے میں 29919 وی ٹی ایم اور 21037ایکسٹریکشن کٹس دستیاب ہیں جو آئندہ 21دنوں کی ضرورت کے لئے کافی ہیں این ڈی ایم اے کی جانب سے مزید 10وینٹیلیٹر اور 10ایکسرے مشینیں فراہم کی گئی ہیں، سیکریٹری صحت نے اجلاس کو بتایا کہ صوبائی سطح پر خطیر فنڈز سے آئی سی یو بیڈز اور دیگر ضروری طبی آلات کی خریداری کی جارہی ہے جبکہ خضدار، ژوب اور تربت میں بھی جلد ٹیسٹنگ کا آغازکیا جائے گا،انچارج آربی سی ڈاکٹر فاروق احمد نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ریجنل بلڈ سینٹر میں پلازمہ کے حصول اور اس کے ذریعہ کورونا سے متاثرہ مریضوں کا علاج شروع کیا گیا ہے جس کے مثبت نتائج آرہے ہیں، بلوچستان کا ریجنل بلڈ سینٹر ملک کے نو بلڈ سینٹرز میں پہلا اور واحد سینٹر ہے جہاں کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والوں کا پلازمہ حاصل کیا جارہا ہے، اجلاس میں لاک ڈا¶ن اور ٹرانسپورٹ کی ایس اور پیز پر عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بناتے ہوئے کمشنر، ڈپٹی کمشنرز اور ایس ایس پیز کو لاک ڈا¶ن اور ٹرانسپورٹ کی ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف موثر کاروائی کرنے کی ہدایت کی گئی، سیکریٹری خزانہ نورالحق بلوچ نے اجلاس کو صوبائی حکومت کے بلاسود قرضہ کی فراہمی کے پروگرام کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ قرضے کے لئے 3366 درخواستیں موصول ہوئیں جن میں سے 2459 کی منظوری دی گئی اور اب تک 1617افراد کو تین کروڑ 22 لاکھ پانچ ہزار روپے قرض حسنہ کے طور پر دے دیئے گئے ہیں،انچارج بلوچستان کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر عمران گچکی نے اجلاس کو صوبے میں گندم، چینی اور دالوں کی دستیابی، گندم کی خریداری کے جاری عمل، صوبے میں ٹڈی دل کی صورتحال اور اس کے خاتمے کے لئے جاری اقدامات، ملیریا اورڈینگی کے تدارک کے لئے سپرے سمیت دیگر اقدامات سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا، انہوں نے کورونا وائرس کے پھیلا¶ کی روک تھا م کے لئے سینٹرکی جانب سے تیار کی گئی تجاویز اور سفارشات بھی اجلاس میں پیش کیں، اجلاس میں صوبے کے سرکاری ہسپتالوں میں محدود طور پر اورپی ڈی کھولنے، میڈیکل کیمپوں کے انعقاد اور کورونا وائرس سے بچا¶ اور مدافعتی نظام کی بہتری کے لئے عوام کو آگاہی فراہم کرنے کی غرض سے بھرپور آگاہی مہم شروع کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ کورونا وائرس کے تناظر میں پرائمری صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں صحت کے شعبے کی ترقی کو ترجیح دی جائے گی، وزیراعلیٰ نے کہا کہ کورونا وائرس سے صحت کی شعبے کی کمزوریاں سامنے آئیں جنہیں ٹھیک کریں گے، کورونا وائرس کے ساتھ چلنا ہے لیکن یہ اب عوام پر منحصر ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر کے ساتھ اپنے آپ کو کس حد تک محفوظ رکھتے ہیں، اگر عوام محتاط رہیں گے تو وائرس کے اثرات درمیانی سطح کے ہوںگے لیکن بے احتیاطی کی صورت میں اس کے اثرات شدید ہوسکتے ہیں جس سے انہیں ہسپتال میں داخل ہونے، آکسیجن اور وینٹیلیٹر کی ضرورت بھی پڑسکتی ہے، وزیراعلیٰ نے محکمہ صحت کو ہیلتھ کیئر کے شعبہ میں آن لائن سرٹیفیکشن پروگرام کے آغاز کی ہدایت کی، وزیراعلیٰ نے ایم ایس ڈی کو ادویات کی خریداری کے عمل کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ ریجنل بلڈ سینٹر کی تمام ضروریات کو فوری طور پر پورا کیا جائے گا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے صحت وصفائی اور کھانے پینے کے معیارکی بہتری کا شعور اجاگر ہوا ہے جو ایک مثبت امر ہے اور اگر اس سے پچاس فیصد بھی بہتری آتی ہے تو یہ انسانی صحت کے لئے بہت بہتر ہوگا اور معاشرے میں مجموعی طور پر ایک مثبت تبدیلی نظر آئے گی، انہوں نے کہا کہ اکثر بعض مسائل بہت زیادہ بڑے نہیں ہوتے لیکن فیصلوں میں تاخیر اور اداروں کی سست روی کے باعث مسائل گھمبیر ہوجاتے ہیں انہوں نے کہا کہ اگر بروقت فیصلے نہ کئے جائیں تو گورننس اور کارکردگی پر سوال اٹھ کھڑے ہوتے ہیں لہٰذا تمام محکمے فیصلہ سازی اور ان پر عملدرآمد میں تاخیر نہ ہونے دیں، اجلاس میں کورونا وائرس سے جاں بحق ہونے والوں کے لئے دعائے مغفرت بھی کی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!