اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) کی جانب سے دارالحکومت کے مرغزار چڑیا گھر کے تمام جانوروں کو آئندہ 60 روز اور ایک ہاتھی کو 30 روز میں محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے احکامات پر جہاں جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔وہیں امریکی گلوکارہ، اداکارہ اور جانوروں کے حقوق کی کارکن 74 سالہ چیر نے بھی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی عدالت اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 21 مئی کو وائلڈ لائف مینیجمنٹ نامی تنظیم کی درخواست پر فیصلہ دیتے ہوئے مرغزار چڑیا گھر کے تمام جانوروں کو آئندہ 60 دن میں محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا حکم دیا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں حکم دیا کہ چڑیا گھر میں انتہائی مشکل حالات میں رہنے والے اکیلے 35 سالہ ہاتھی کاوون کو آئندہ 30 دن میں کسی محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے انتظامات کیے جائیں۔عدالت نے حکومت کے وائلڈ لائف اداروں اور مقامی انتظامیہ کو حکم دیا کہ کاوون نامی ہاتھی کی جلد اور محفوظ مقام پر منتقلی کے لیے جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیموں اور ماہرین سمیت سری لنکا کے ہائی کمیشن سے بھی رابطہ کیا جائے۔عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ مرغزار چڑیا گھر میں جانوروں کو انتہائی خراب حالت میں رکھا گیا جب کہ کاوون ہاتھی کو اس کی بہتر زندگی کے لیے مطلوب جگہ سمیت اسے دیگر حفاظتی انتظامات سے بھی محروم رکھا گیا۔
