کوئٹہ( اسٹاف رپورٹر) ترجمان ڈائریکٹر شیخ زید ہسپتال نے کہا ہے کہ ہسپتال میں کورونا کے زیر علاج 477 مریض میں سے 346 مکمل صحت یاب 61 مریضوں کی آ کسیجن سی چوریشن ختم ہوناا موات کا سبب بنیں۔ چیئرمین منظور بلوچ، وکیل احمد کاکڑکی اموات بھی اسی وجہ سے ہوئی ہیں ۔ ترجمان ڈائریکٹر شیخ زید ہسپتال کے مطابق ڈاکٹر عبدالغفار بلوچ کی سربراہی میں ڈاکٹرز،پیرامیڈیکل، نرسنگ اسٹاف، فارمیسی اور انتظامی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر فرنٹ لائن سولجر کی حیثیت سے مصروف عمل ہیں ۔ہسپتال میں دس مارچ 2020 سے آ ج تک 477 مریض داخل ہوئے ہیں جس میں اب تک 346 مکمل صحتیاب 61 مریض انتہائی تشویشناک حالت میں داخل ہوئے جن کی آ کسیجن سی چوریشن saturation نارمل سے کم رہی جو انکی اموات کا سبب بنا۔ ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میران بخش کے بچوں کے نام کا کوئی مریضہسپتال میں سرے سے داخل ہی نہیں ہوا جبکہ چیئرمین منظور بلوچ ہسپتال کے تمام عملے کی خصوصی توجہ میں رہے اور بڑی حد تک ان میں بہتری بھی آئی لیکن اچانک اسی صبح کو ان کی طبعیت خراب ہوئی اور جسم میں آکسیجن سی چوریشن کم ہونا شروع ہوا جس سے ان کی موت واقع ہوئی ،ترجمان کے مطابق وکیل احمد کاکڑ آ کسیجن سی چوریشن کی اکثر کمی کا شکار رہے میڈیکل عملے کی طبعی کوششوں کے باوجود وہ جانبر نہ ہو سکے، ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتال میں آکسیجن 24 گھنٹے پلانٹ میں موجود ہے اور ہر وقت سپلائی جاری رہتی ہے روزانہ درجنوں مریض آکسیجن پر ہوتے ہیں اگر کسی طور آکسیجن سپلائی گھنٹوں کے حساب سے بند ہو تو سینکڑوں مریضوں کی موت واقع ہو چکی ہوسکتی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ شیخ ذید ہسپتال اور محکمہ صحت کے دیگر مراکز اپنی تمام تر توانائیوں کے ساتھ اس موذی مرض کے خلاف نبردآزما ہیں ہم یقین رکھتے ہیں کہ عوام الناس سے مل کر اس موذی مرض کے خلاف ضرور کامیاب ہونگے۔
