جے یو آئی ایف کی طویل خاموشی !

جے یو آئی ایف کی طویل خاموشی !

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

جمعیت علمائے اسلام (ف) نے بڑے طمطراق کے ساتھ گزشتہ برس نومبر میں اسلام آباد میں پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے لیے دھرنا دےکر ملک کے سیاسی ماحول کو گرمایا تھا لیکن کئی ناقدین کے خیال میں جمعیت اب خود ٹھنڈی ہوگئی ہے۔بعض سیاسی مبصرین اس ٹھنڈ کا تعلق جے یو آئی ایف کے کارکنان میں پائی جانے والی مایوسی سے جوڑتے ہیں اور کچھ کےخیال میں اسٹیبلشمنٹ کے خوف کی وجہ سے جمعیت نے سیاسی سرگرمیوں کو محدود کر دیا ہے اور اب وہ اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے کو اس شدومد سے بیان نہیں کر رہی، جس طرح کے وہ گزشتہ برس نومبر میں کر رہی تھی۔واضح رہے اس دھرنے میں مولانا فضل الرحمٰن اسٹیبلشمنٹ پر بھی خوب برسے تھے، جب کہ عمران خان کی بھی انہوں نے کھل کر مخالفت کی تھی۔جے یو آئی ایف نے دھرنے کے دوران آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کو بھی ایک طرح سے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ لیکن اس دھرنے کے بعد سے اب تک مولانا کی سرگرمیاں کافی محدود رہی ہیں۔ گو کہ انہوں نے ابھی کچھ دنوں پہلے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ تاہم اب ان کی باتوں میں اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ کہیں نظر نہیں آتا اور نہ ہی وہ راولپنڈی کی طرف سخت گیری کے قائل نظر آتے ہیں۔‌پشاور سے تعلق رکھنے والے سیاسی تجزیہ نگار اور پشاور یونیورسٹی کے ایریا اسٹڈی سینٹر کے سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر سرفراز خان کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے خوف نے جے یو آئی ایف کو خاموش کرا دیا ہے۔ ”دھرنے کے دوران ہی جے یو آئی ایف کے رہنما اکرم درانی اور دوسروں کو نیب نے تنگ کرنا شروع کر دیا تھا۔‘‘ ڈاکٹر سرفراز خان کے خیال میں اکرم درانی اور ان جیسے دیگر مالی مدد گاروں نے ہی مولانا کو قائل کیا ہے کہ وہ اپنا اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ بدلیں۔ ان کے بقول، ”اس بیانیے سے مشکلات کھڑی ہو جاتی ہیں، جس سے جمعیت کو مالی طور پر نقصان ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اسٹیبلشمنٹ نے سختیوں کا بھی اشارہ دیا ہوگا، جس نے جمعیت کو مجبور کیا کہ وہ اپنی آواز کو دھیما کرے۔‘‘دھرنا ختم کرتے وقت مولانا فضل الرحمٰن نے یہ تاثر دیا تھا کہ انہیں کچھ حلقوں کی طرف سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ عمران خان کی حکومت ختم ہو جائے گی۔ کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ ایسا نہ ہونے پر جے یو آئی ایف کی صفوں میں مایوسی پھیل گئی۔ پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنما سینیٹر عثمان کاکڑ کا کہنا ہے کہ مولانا کو پہلی مایوسی پی پی پی اور ن لیگ کے رویے پر ہوئی اور دوسری مایوسی انہیں چوہدری برادران کے رویے اور بات چیت سے ہوئی۔ عثمان کے کاکڑ نے کہا، ”دھرنے کے ختم ہونے سے ان کے کارکنان میں بھی مایوسی پھیلی، جس کی وجہ سے ان کی سیاسی سر گرمیوں میں کمی آگئی۔‘‘جمعیت کے سابق نائب امیر اور موجودہ ترجمان حافظ حسین احمد کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت ڈری نہیں ہے اور نہ ہی ان کی سرگرمیاں کم ہوئی ہیں۔ ”تاہم ہمارا یہ کہنا ہے کہ ہم نے عمران خان کا چہرہ قوم کے سامنے رکھ دیا اور اس کو لانے والوں کو بھی چہرو عوام پر آشکار کر دیا۔‘‘ حافظ حسین احمد کے مطابق اب دیکھنا یہ ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتیں اس حکومت کے خلاف کیا کرتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اگر پی پی پی ار ن لیگ کوئی تحریک چلاتے ہیں تو پھر ہم بھی سوچیں گے۔‘‘حافظ حسین احمد نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ ان کی جماعت خوف یا مایوسی کا شکار ہے۔ ان کے بقول، ’’مولانا نے تو ابھی بھی حکومت کی برطرفی کا مطالبہ کر رکھا ہے۔ لیکن ہم ہی تو سب کچھ نہیں کریں گے دوسری سیاسی جماعتوں خصوصاﹰ مسلم لیگ اور پی پی پی کو بھی آگے آنا چاہیے اور حقیقی حزب اختلاف کا کردار ادا کرنا چاہیے۔‘‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!