لندن میں مظاہرے: پولیس کے ساتھ جھڑپ کے بعد 100 سے زائد مظاہرین گرفتار

لندن میں مظاہرے: پولیس کے ساتھ جھڑپ کے بعد 100 سے زائد مظاہرین گرفتار

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

لندن میں ’بلیک لائیوز میٹر‘ (سیاہ فام کی زندگیوں کی بھی قدر) اور دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے مظاہرین کے درمیان تکرار ہوئی جبکہ پولیس کے بیچ بچاؤ کرانے پر کشیدگی کے بعد 100 سے زائد افراد گرفتار کرلیے گئے۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق لندن میں ہزاروں افراد مجسموں کی حفاظت کا کہہ کر سڑکوں پر جمع ہوگئے جن کا تعلق دائیں بازو سے تھا اور انہوں نے پولیس پر حملے بھی کیے۔برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا تھا کہ ’ہماری سڑکوں پر نسل پرست لٹیروں کی کوئی جگہ نہیں ہے‘۔واضح رہے کہ 2017 میں ویسٹ منسٹر حملے میں ہلاک ہونے والے پی سی کیتھ پالمر کی یادگار کے پاس ایک شخص کو پیشاب کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا جس کی تحقیقات جاری ہیں۔میٹروپولیٹن پولیس کمانڈر باس جاوید کا کہنا تھا کہ ’ہمیں پی سی پالمر کی یادگار پر پیشاب کرتے ہوئے دکھائے جانے والے ایک شخص کی سوشل میڈیا پر ایک گھناؤنی تصویر کے بارے میں علم ہے‘۔ ۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کردیا ہے اور ہم اس کے خلاف موجود تمام شواہد اکٹھا کریں گے اور کارروائی کریں گے‘۔رکن پارلیمنٹ ٹوبیاس ایل ووڈ، جنہوں نے پی سی پالمر کو ابتدائی طبی امداد دی جب وہ 2017 میں خالد مسعود کے ہاتھوں پارلیمنٹ کے گراؤنڈ میں چاقو کے وار کے بعد زخمی ہوگئے تھے، انہوں نے کہا کہ اس یادگار کے ساتھ پیشاب کرنے والے شخص کی تصویر ’مکروہ‘ ہے۔بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’اسے پوری طرح علم تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے، اسے آگے بڑھ کر معذرت کرنی چاہیے‘۔علاوہ ازیں ہفتے کے روز لندن اور ملک بھر میں نسل پرستی کے خلاف پرامن احتجاج بھی کیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!