نوجوانوں میں تنظیم سازی کا فقدان

نوجوانوں میں تنظیم سازی کا فقدان

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

تحریر: ہارون مینگل

قوتو ں، صلاحیتوں، حوصلوں، اُمنگوں ، جفا کشی ،بلند پروازی اور عزائم کا دوسرا نام نوجوانی ہے ۔ کسی بھی قوم وملک کی کامیابی وناکامی ،فتح و شکست ، ترقی اور عروج وزوال میں نوجوانوں کا اہم کردار ہوتا ہے ۔ ہر انقلاب چاہے وہ سیاسی ہو یا اقتصادی ،معاشرتی سطح کا ہویا ملکی سطح کا، سائنسی میدان ہو غرض سبھی میدانوں میں نوجوانوں کا کردار نہایت ہی اہم اور کلیدی ہوتا ہے ۔روس کا انقلاب ہو یا فرانس کا،عرب بہار ہو یا مارٹن لوتھرکنگ کا برپا کردہ انقلاب،چی گویرا کی سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف انقلابی تحریک ہو یا مصر کا 2011 کا انقلاب ڈکٹیٹر صدر حسنی مبارک کے خلاف ہو جو پچھلے 30 سالوں سے صدارت کی کرسی پر براجمان تھا یا خمینی کا انقلاب ایران ہو رضا شاہ پہلوی کے خلاف سب میں نوجوانوں کی جدوجہد اور عزم کا کلیدی کردار رہا ہے ہر انقلاب کو برپا کرنے کے پیچھے نوجوانوں کا اہم حصہ کار فر ما رہا ہے۔ ماضی میں بھی جیسا کہ تاریخ سے ثابت ہے ہر چھوٹی بڑی تبدیلی نوجوانوں ہی کے ذریعے آئی ہے۔ زمانہ حال میں بھی ہر چھوٹی بڑی تنظیم یا تحریک چاہے سیاسی ہو یا مذہبی، سماجی ہو یا عسکری، ان میں نوجوان ہی پیش پیش ہیں۔ مستقبل میں بھی ہر قوم وملک اور تنظیم انھی پر اپنی نگاہیں اور توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے زمانہ جتنا بھی آگے بڑھتا جائے گا نوجوانوں کی اہمیت، رول اور حیثیت بھی بڑھتی جائے گی۔ ہر زندہ قوم، تحریک اور نظریہ نوجوانوں پر خصوصی توجہ دیتا ہے کیونکہ یہ سب کو معلوم ہے کہ اقوام و ملل کو چلانے، تحریکوں کو متحرک رکھنے اور نظریات کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے ہمیشہ نوجوان نے ہی نمایاں رول ادا کیا ہے
دنیا کی تاریخ کو دیکھا جائے تو یہی معلوم ہوگا کہ انسان بنیاد سے ایک تنظیم یا ایک نظام سے بندھا ہوا چلا آرہا ہے، ایک گھر بھی ایک نظام سے چلا آرہا ہے۔ گھر کے نظام کا سربراہ ماں باپ ہوتے ہیں، انسان ایک گھر سے بڑھ کر ایک خاندان کی شکل اختیار کرتا ہے، خاندان بھی ایک نظام سے چلتا آرہا ہے، اس نظام یا تنظیم کا سربراہ میر یا معتبر چلایا کرتا تھا یعنی انسان ایک خاندان سے ایک قبیلے کی شکل میں آیا۔ قبیلے کا نظام ایک سردار نواب یا ایک ملک چلایا کرتا تھا، پھر انسان قبیلے سے بڑھ کر کئی قبائل اور خاندانوں میں آیا، پھر یہ نظام یا تنظیم کی شکل اختیار کرتا گیا اور تنظیم میں مختلف قبائل،مختلف رنگ ،نسل،زبان اور قوم کے لوگ شامل ہوتے تھے ایک منظم گروہ ایک منظم جماعت جسکا ایک خاص مقصد ،ایک منزل اور سمت کا تعین ہو وہ تنظیم کہلاتا ہے تنظیم ایک تسبیع کی دانوں کی مانند ہے جو ایک دوسرے سے ایک ہی دھاگے میں پروئے ہے کسی بھی اجتماعی کامیابی کے لئیے جدوجہد کا نام تنظیم ہے معاشرے کی بگاڑ اور برائیوں کو جڑ سے ختم کرنے میں نوجوانوں کی فعال تنظیم کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے
ایک زمانے میں نوجوانوں کا تنظیم سازی میں بڑا کردار ہوتا تھا اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلباء تنظیمیں بہت مظبوط ہوا کرتی تھی طلباء تنظیموں کا طلباء کے مسائل اور تعلیمی درپیش مسئلوں کو حل کرنے میں فعال کردار نظر آتا تھا اسی طرح ضلعی اور صوبائی سطح پر معاشرے کو درپیش چیلنجز کو کاونٹر کرنے میں نوجوانوں کا انہی مضبوط تنظیموں کا کردار تھا سیاسی مقاصد ہو ،مذہبی مقاصد،معاشرتی یا عسکری مقاصد ہو غرض ہر مقصد کی کامیابی کے لئیے نوجوانوں کی تنظیم کا استعمال ہوتا تھا پرانے وقتوں میں انہی تنظیموں کو بعض اوقات اپنی سیاسی حریف اور دشمن کا خاتمے کے لئیے بھی نوجوانوں کی تنظیم کا استعمال ہوتا تھا کہنے کا مقصد ہے کہ جہاں اگر نوجوانوں کی تنظیموں کا اگر مثبت کامیابی کے لئیے یا معاشرے کی بہتری کے لئیے استعمال ہوتے تھے وہاں برے مقصد اور ذاتی مفاد کے لئیے بھی نوجوان تنظیموں کا استعمال کیا جاتا تھا ایک زمانے میں بی ایس او کے پلیٹ فارم سے بی ایس او کے نام پر ایک مظبوط تنظیم ہوتا تھا اس تنظیم کا تعلیمی اداروں میں طلباء کو درپیش مسائل یا معاشی مسائل کے خاتمے کے لئیے بی ایس او نامی تنظیم پیش پیش تھا نہ صرف تعلیمی اداروں بلکہ معاشرے کو درپیش دوسرے مسائل مثلا نوجوانوں میں تیزی سے منشیات کا پھیلنا، معاشرے کے مظبوط ستونوں یعنی نوجوانوں کو منشیات کا عادی کرنا،تعلیمی اداروں میں امتحانات کے وقت طلباء کو نقل کا عادی بنانے جیسے برائیوں کو جڑ سے ختم کرنے کے لئیے بی ایس او نامی نوجوانوں کی تنظیم کا ایک کلیدی اور اہم کردار ہوتا تھا اسی بی ایس او نامی تنظیم نے بلوچستان کے لئیے اپنے پلیٹ فارم سے بہت ہی قابل اور بہترین لیڈرشپ مہیا کی اسی بی ایس او کی تنظیم نے ثناء بلوچ جیسے قابل سیاستدان پیدا کی لیکن بد قسمتی سے آج ہمارے اس موجودہ نسل کے نوجوانوں میں تنظیم سازی کا کوئی شوق، جذبہ اور لگن نظر نہیں آتا ہمارے معاشرے میں ہمارے نوجوان اور بچے تعلیمی اعتبار سے دن بہ دن پیچے پسماندگی کی طرف جارہے ہیں ہمارے معاشرے میں نوجوان بہت تیزی سے نشہ اور منشیات کا عادی ہوتے جارہے ہیں نوجوانوں میں دن بہ دن مایوسی پھیلتی جارہی ہے بدقسمتی سے ہمارے نوجوان اپنی صلاحیتوں اور توانائی کو DSLR اور ریسنگ جیسے فضول مشغلوں میں ضائع کر رہے ہیں اور معاشرے کے تخریب کار،چور، ڈاکو،منشیات فروش انہی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر انکو مجبور کر کے اپنے مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئیے استعمال کرتے ہے اگر نوجوان بجائے ان فضولیات کے اگر بیٹھ کر تنظیم سازی کی طرف توجہ دیتے اپنا ایک مظبوط اور فعال تنظیم بناتے تو آج معاشرے کے بہت سارے برائیوں کا خاتمہ جڑ سے شاید ہو جاتا تنظیم میں ایک قوت اور طاقت ہوتی ہے تنظیم میں جہد اور کوشش مشترکہ اور اجتماعی ہوتی ہے تنظیم کی مسلسل کوشش اور عزم سخت سے سخت انتطامیہ کو بھی دباو میں لاکر اپنے مطالبات منوانے پر مجبور کر سکتے ہے ہمارے نوشکی کے پڑھے لکھے اور باشعور نوجوانوں کو تنظیم کے لئیے راستہ شہید سمیع مینگل نے اپنی زندگی کی قربانی دیکر اپنے خون سے دکھایا نوجوانوں کی مظبوط تنظیم کی مظبوط بنیاد کے لئیے شہید سمیع مینگل نے اپنی زندگی کی قربانی دیکر بنیاد رکھ لی اگر شہید سمیع مینگل کی اس عظیم مقصد کو ضائع نہیں کرنا ہے تو معاشرے کے ان منشیات فروشوں کا خاتمے کے لئیے انکو سزا دلوانے کے لئیے اور شہید سمیع مینگل کے قاتلوں کو گرفتار کرنے کے لئیے شہید سمیع مینگل کی روح کی تسکین کے لئیے ہمارے نوجوانوں کا کیریئر کاونسلنگ کے لئیے انکی ترجیحات اور یہ ریسنگ اور DSLR کی فضول کلچر سے ہٹا کر تعلیم کی طرف شعور کی طرف راغب کرنے کے لئیے نوشکی میں نوجوانوں کی ایک مظبوط تنظیم کی سخت ضرورت ہے تنظیم ہی مستقبل میں کامیابی اور بہتری کے لئیے پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے جس طرح پچلھے دنوں شہید ملک ناز اور معصوم برمش بلوچ کو زخمی کرنے والوں کو گرفتار کرکے سزا دلوانے کے لئیے نوشکی کے باہمت،حوصلہ مند اور باشعور نوجوانوں معصوم برمش بلوچ کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کیا یہ دیکھ کر خوشی ہوئی اسی طرح مستقبل میں ایک تنظیم کے پلیٹ فارم سے اگر نوجوان ہر مسئلے پر پیش پیش رہینگے تو وہ دن دور نہیں انشاءاللہ نوشکی میں ہر برائی کا جڑ سے خاتمہ ہوگا…. ……

ہزار چشمے تیرے سنگ راہ سے پھوٹے
خودی میں ڈھوب کر ضرب کلیم پیدا کر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!