پشین ‘ قبائلی تنازعات ترقی و خوشحالی کی راہ میں رکاوٹ ہیں ‘ نواب ایاز جوگیزئی

پشین ‘ قبائلی تنازعات ترقی و خوشحالی کی راہ میں رکاوٹ ہیں ‘ نواب ایاز جوگیزئی

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

پشین : پشتون قومی جرگہ کے کنوینئر نواب آیاز خان جوگیزئی نے کہا ہے کہ قبائلی تنازعات ہمارے پشتون وطن اور علاقے کے عوام کے ترقی اور خوشحالی کے راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، ہم مسلمان ہیں اور اللہ رب العالمین کی نازل کردہ کتاب قرآن مجید ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، لیکن بدقسمتی سے ہم نے بحیثیت مسلمان قرآن مجید کے تعلیمات اور احکامات پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے اور ہم رواجی مسلمان بن گئے ہیں ہمیں اپنی دلوں میں اللہ کا خوف پیدا کرنا ہوگا پشین میں دو عشروں سے زائد عرصے پر محیط دو خاندانوں کے مابین دیرینہ قتل کے تنازعہ کا تصفیہ ہوگیا فریقین آپس میں شیر وشکر ہوگئے جرگے میں پشتون قومی جرگہ کے کنوینئر نواب آیاز خان جوگیزئی سمیت ہزاروں افراد کی شرکت۔ قبائلی رہنما ڈاکٹر گوہر اعجاز خان کاکڑ کی سربراہی میں مقرر کردہ ثالثان نے پشتون قبائیلی روایات کے تحت دونوں فریقین میں تصفیہ کرایا۔ تفصیلات کے مطابق پشین کے نواحی علاقے کلی حاجی بالءمیں پچیس سال قبل زمین کے تنازعہ پر قبائیلی رہنما حاجی محمد عالم عرف حاجی بالءکے بھتیجے سراج الدین کاکڑ کو قتل کردیاگیا تھا۔ جس پر ثالثان ڈاکٹر گوہر اعجاز خان کاکڑ، رکن صوبائی اسمبلی حاجی اصغرخان ترین، سابق ایم پی اے آغا سید لیاقت علی، حاجی محمد عیسی داوی، حاجی محمد شفیق ترین، سید محمد سلیم آغا، سید عبدالصمد عرف طور آغا، حاجی شمس اللہ کاکڑ، حاجی عبدالحنان ترین، سید عبدالجبار آغا اور مولانا سید محیب اللہ آغا کی سربراہی میں ثالثین نے مخالف فریق کے ہمراہ مرکہ تشکیل دیکر جرگہ کی صورت میں مقتول خاندان کے حاجی محمد عالم خان عرف حاجی بالئی کی رہائش گاہ پشین ننواتی لیکر آئے، اور معافی ودرگزر طلب کی، مقتول خاندان کی جانب سے پشتون قومی جرگے کے کنوینر نواب محمد آیاز خان جوگیزئی نے پشتون قومی اور قبائیلی روایات کے تحت مرکہ کی ننواتی کو قبول کرتے ہوئے قاتل پارٹی کو معاف کیا جس پر دونوں فریقین آپس میں بغلگیر ہوکر شیر وشکر ہوگئے، اس موقع پر رکن قومی اسمبلی مولانا کمال الدین، ایم پی اے عبدالواحد صدیقی، جمیعت علما اسلام کے ضلعی امیر مولانا عزیزاللہ حنفی، ملک عبدالولی کاکڑ، سردار قذافی خان ترین، حاجی عبدالروف ترین، ملک سیف اللہ خان کاکڑ ملک عبدالقیوم کاکڑ، حاجی لالاخان بادیزئی، سید علاوالدین آغا، حاجی شوکت علی ترین، سابق ایم پی اے حاجی عبدالمالک کاکڑ، مولانا سید حبیب اللہ آغا، حاجی نعمت اللہ خاکسار، مولانا عبدالقدیر مختلف علما کرام، قبائیلی اور سیاسی عمائیدین بھی موجود تھے، جرگہ کے شرکا سے پشتون قومی جرگہ کے کنوینئر نواب محمد آیاز خان جوگیزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معافی اور درگزر اللہ تعالی کا پسندیدہ عمل ہے پشتون قوم کے قومی اور قبائلی مشران اخلاقی جرائت اور ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے غلط کو غلط کہیں، انہوں نے کہا کہ قبائلی تنازعات ہمارے پشتون وطن اور علاقے کے عوام کے ترقی اور خوشحالی کے راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، ہم مسلمان ہیں اور اللہ رب العالمین کی نازل کردہ کتاب قرآن مجید ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، لیکن بدقسمتی سے ہم نے بحیثیت مسلمان قرآن مجید کے تعلیمات اور احکامات پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے اور ہم رواجی مسلمان بن گئے ہیں ہمیں اپنی دلوں میں اللہ کا خوف پیدا کرنا ہوگا ایک لاکھ چوبیس ہزار کم وبیش پیغمبر انسانوں کی تربیت کے لیے مبعوث ہوئے پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے قبل انسانیت وحشت کی بدترین مثال قائم کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کرتے تھے ہر قوم اور ہر علاقے میں بدکردار انسان موجود ہیں ہمیں اچھے اور برے کی تمیز کرنا ہوگی، انہوں نے کہا کہ ہم سب ایک ہی پشتون قوم سے تعلق رکھتے ہوئے کسی زئی اور خیلی پر یقین نہیں رکھتے، ہمارے لیے سب برابر ہیں، انہوں نے کہا کہ آبادی میں اضافہ کے ساتھ ساتھ سماجی جرائم میں بھی اضافہ ہورہا ہے، معاشرے میں امن کے قیام کیلئے خیر اور بھلائی کی اشد ضرورت ہے، جس کیلئے مذھبی، سیاسی اور دانشور طبقہ کو اپنا کردار ادا کرنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہرقسم کی ظلم، نانصافی، زیادتی اور ناروا عملیات کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے عوام کی خدمت کا فریضہ ادا کرتے رہینگے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کوئی انصاف نہیں ہے اور انصاف طاقتور کے ہاتھ میں ہیں۔ یہاں کمزور کے لیے ملک میں کوئی جگہ نہیں ہے علاقے میں بدآمنی کے زمہ دار حکومت اور ریاست ہے، ہرطرف جنگل کا قانون ہے۔ نواب آیاز خان جوگیزئی نے نئی نسل نوجوان طبقہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ غلط اور بدکردار شخص یا اشخاص کو اپنا ہیرو پیش نہ کیا جائے ہماری نئی نسل سوشل میڈیا کا غلط استعمال کرتے ہوئے بدکردار اور سماج دشمن انسانوں کی تصاویر آپ لوڈ کرکے ان کو بطور قومی ہیروپیش کرتے ہیں جس کے بھیانک نتائج سامنے آسکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہمیں ان بدکردار، سماج دشمن اور انسانیت دشمن عناصر کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی۔ اگر ریاستی رٹ ہوتی تو ہزارہ ٹاون جیسا دلخراش واقعہ رونما نہ ہوتا، ریاست عوام کے تحفظ کی بجائے کیا کام کررہی ہے امن ترقی خوشحالی اور قبائلی تنازعات کے خاتمے کے لیے دن رات ایک کرکے جدوجہد کی ضرورت ہے قحط سالی کے بعد لوڈشیڈینگ کے بعد اب ملخان ٹڈی دل نے زراعت کو تباہی اور بربادی سے دوچار کردیا ہے، ان قدرتی آفات اور عذابوں سے بچنے کے لیے اجتماعی توبہ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نفرتوں کے خاتمے کے لیے علما کرام، قومی اور قبائلی شخصیات اپنا اہم کردار ادا کریں، انہوں نے کہا کہ مختلف حوالوں سے ہم پر ملک کے دیگر حصوں میں کاروبار اور زندگی کے دروازے بند کرنے کی سازشیں ہورہی ہے، جس کیلئے موثر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ثالثان کو ثالثی کے بہترین کردار اداکرنے اوردونوں فریقین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں پورے پشتون میں آپس کی دشمنیوں اور رنجشوں کے خاتمے کیلئے اجتماعی کردار ادا کرنی ہوگی ڈاکٹر گوہر اعجاز خان کاکڑ، مولانا سید محیب اللہ آغا، مولانا عزیز اللہ حنفی، حاجی بہادر خان بیانزئی، محمد عیسی داوی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!