دنیا بھر میں ایک دن میں کورونا وائرس کے ریکارڈ کیسز سامنے آگئے

دنیا بھر میں ایک دن میں کورونا وائرس کے ریکارڈ کیسز سامنے آگئے

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

دنیا کے بیشتر حصوں میں اب نئے کورونا وائرس کی وبا کی شدت میں کافی حد تک کمی آچکی ہے مگر دیگر ممالک میں اس کے کیز کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔کورونا وائرس کی وبا کو 6 ماہ ہونے والے ہیں (عالمی ادارہ صحت کے مطابق پہلا کی 31 دسمبر کو رپورٹ ہوا تھا) مگر ایسا لگتا ہے کہ اس کی طاقت میں اب تک کمی نہیں آئی۔عالمی ادارہ صحت نے اتوار کو ایک دن میں سب سے زیادہ کیسز رپورٹ کیے جن کی تعداد ایک لاکھ 83 ہزار تھی۔اتنی تعداد میں کیسز 24 گھنٹے میں سامنے آئے، اس حوالے سے برازیل سرفہرست رہا جہاں 24 گھنٹے میں 54 ہزار 771 کیسز کی تصدیق ہوئی۔امریکا 36 ہزار 617 کیسز کے ساتھ دوسرے جبکہ بھارت میں 15 ہزار 400 اور پاکستان میں وائرس کے مزید 4 ہزار 916 نئے کیسز اور 121 اموات سامنے آئیں۔ماہرین کے مطابق کیسز کی تعداد میں اضافے کے متعدد عناسر جیے ہیں زیادہ بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ اور وائرس کا زیادہ پھیلاؤ۔دنیا بھر میں اب تک کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 90 لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہیں جبکہ 4 لاکھ 61 ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں، جبکہ 24 گھنٹے میں 4743 اموات ہوئیں۔24 گھنٹے میں دوتہائی سے زیادہ ہلاکتیں امریکی ممالک میں ہوئیں۔دوسری جانب اسپین میں حکام نے 3 ماہ کے لاک ڈاؤن کے بعد نیشنل ایمرجنسی کو ختم کردیا اور 14 مارچ کے بعد پہلی بار ساڑھے 4 کروڑ سے زائد افراد کو ملک میں آزادی سے سفر کرنے کی اجازت دے دی گئی۔اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچز نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر پر عمل کریں، ورنہ یہ وائرس واپس پلٹ کر وار کرسکتا ہے۔واضح رہے کہ امریکا کورونا وائرس سے متاثر سب سے بڑا ملک ہے اور وہاں کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ زیادہ ٹیسٹنگ کو اس کی وجہ قرار دیتے ہیں۔ہفتے کو ایک ریلی کے دوران انہوں نے کہا ‘جب آپ بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ کرتے ہیں، تو زیادہ مریضوں کو دریافت کرتے ہیں، تو میں اپنے لوگوں کو کہنا چاہتا ہوں کہ پلیز ٹیسٹنگ کے عمل کو سست کردیں’۔اس بیان پر اب وائٹ ہاؤس کے تجارتی مشیر پیٹر ناوارو نے سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر نے یہ بات تفریحی موڈ میں کہی تھی۔امریکا کے علاوہ برازیل، جنوبی افریقہ اور دیگر ممالک خصوصاً لاطینی امریکا میں کورونا کیسز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔برازیل کی وزارت صھت کے مطابق مجموعی کیسز کی تعداد میں ایک دن میں 50 ہزار سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے جبکہ وہاں مجموعی طور پر 50 ہزار کے قریب ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔جنوبی افریقہ میں ایک دن میں سب سے زیادہ 5 ہزار کیسز اور 46 اموات ہفتے کو رپورٹ ہوئیں مگر وہاں کے صدر نے لاک ڈاؤن کو مزید نرم کرنے کا اعلان کیا ہے۔امریکا میں یہ وائرس مغرب اور جنوب میں پھیل رہا ہے۔چین اور جنوبی کوریا میں بھی اتوار کو نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد وہاں دوسری لہر کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔چینی حکام نے 25 نئے کیسز کی تصدیق کی جس میں سے 22 بیجنگ میں سامنے آئے۔گزشتہ ہفتے کے دوران بیجنگ نے سفری پابندیاں سخت کیں اور چینی دارالحکومت میں داخلے کے خواہشمند افراد کو اب وائرس کے نیگیٹو ہونے کے ٹیسٹ کا ثبوت پیش کرنا ہوگا۔جنوبی کوریا میں 200 کے قریب کیسز کی تصدیق گھر گھر جاکر سامان فروخت کرنے والی کمپنی کے ملازمین میں ہوئی جن میں سے 70 کے قریب کیز ایک ٹیبل ٹینس سے منسلک قرار دیئے جارہے ہیں۔مگر فی الحال کورین حاکم نے سماجی دوری کے سخت اقدامات کے نفاذ سے انکار کیا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!