بلوچستان کا صوبائی بجٹ،مالی سال ۔ 2020-2021

بلوچستان کا صوبائی بجٹ،مالی سال ۔ 2020-2021

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

عرفان احمد بیگ

بجٹ سازی گزشتہ صدی سے ملکوں اور ملکوں کے صوبوںکے لیے ایک اہم ترین مالی اقتصادی سیاسی شعبہ بن چکا ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آج کے جمہوری دور میں جہاں چار یا پانچ سال کی مد ت کے لیے عام انتخابات کی بنیاد پر حکومتیں بنتیں ہیں تو یہ حکومتیں عموما چار یا پانچ سالہ ترقیاتی منصوبہ بناتی ہیں جو پا کستان کی طرح پوری دنیا میں پنج سالہ منصوبہ کہلاتا ہے اور اس منصو بے میں تعمیر و ترقی کے جو احداف وفاقی ،صوبائی حکومتیں مقر ر کرتی ہیں اُن کو سالانہ بجٹوں کی بنیادپر حاصل کر نے کا روڈ میپ ہی سرکاری بجٹ ہو تا جو عام گھریلو بجٹ سے دو طرح سے مختلف ہوتا ہے نمبر ایک یہ کہ سرکاری بجٹ گھریلو بجٹ کے مقابلے میں بالکل الٹا ہو تا ہے یعنی گھریلو بجٹ میں پہلے آمدن یا آمدنی ہو تی ہے تو اسی کو دیکھ کر اخراجات طے کئے جاتے ہیں اگر آمدنی زیا دہ ہے تو پھر غیر ضروری اخراجات بھی رکھ لیے جا تے اور اگر آمدنی کم ہے تو پھر اخراجات کو محدود کیا جا تا اور صرف بنیادی ضرویات کو ترجیح دی جاتی ہے ،مگر اس کے بر عکس سرکاری بجٹ میں پہلے آئنیدہ مالی سال کے اخرجات رکھے جاتے ہیں اور پھر اِن اخرجات کے لیے دسائل کا تعین کیا جا ہے نمبردو کہ گھریلو بجٹ ماہا نہ بنیادوں پر بنا یا جا تا ہے او ر سرکار ی صوبائی یا وفاقی بجٹ سالانہ بنیادوںپر تیار کیا جاتا ہے سرکاری بجٹ اِن دونوں اعتبار سے گھریلو بجٹ سے اس لیے مختلف ہو تا ہے کہ سرکاری بجٹ میں ملک یا صوبے کی تعمیر وترقی کے مقررہ اہداف کو حاصل کر نا ہو تا پھر خصوصاً ہمارے جیسے ترقی پزیر ملکوں میں جہاں آج آبادی میں سالانہ اضافہ دو سے ڈھائی فیصد ہے جو سالا نہ شرح اموات کی نسبت دگنا ہے اس لیے ہر بجٹ میں ہرسال لاکھوں کی تعداد میں نئی آبادی کے لیے روزگار، تعلیم ، صحت ، سماجی بہبود اور دیگر شعبوں میں اِ ن کی ضروریات کو بھی پو را کر نا ہو تا اور دنیا کے دیگر خطوں اور ملکوں سے مقابلے کی بنیاد پر اپنی ترقی اور پیداور کی رفتار میں بھی اضافہ کر نا ہو تا ہے عام حالات میں حکومتیں متوازن اور کم سے کم خسارے اور بعض مر تبہ بغیر خسارے کے بجٹ دیتی ہیں اس لحا ظ ہم اپنی بجٹ کی تاریخ کو دیکھیں تو پاکستان کے قیام کے بعد ملک کا پہلا بجٹ مالی سال 1948-49 جس کا کل ہجم 89 کر وڑ 57 لاکھ تھااس میں آمدنی 79 کروڑ 57 لاکھ تھی اس لیے خسارہ 10 کروڑ تھااسکے بعد پانچ قومی بجٹ بغیر خسارے کے تھے اور اِن میں بچت تھی پھر 1954-55 کا ایک قومی بجٹ خسارے کا بجٹ تھا اور اس کے بعد 1969-70 تک کے 14 قومی بجٹ بچت کے بجٹ تھے اور کوئی خسارہ نہیں تھا 1970-71کا قومی بجٹ 8 ارب 50 کروڑ کاتھا اور اس کا خسارہ 39 کروڑ تھا1971-72 کے بجٹ کا 8 ارب 77 کروڑ تھا اور خسارہ 94 کروڑ تھا یہ بجٹ خسارے پاک بھارت جنگ کی وجہ تھے جب جنگ ختم ہو ئی توسرکاری ملازمین کی تنخوہوں کے لیے بھی صرف تین ماہ کی رقو م تھیں جب پہلی منتخب حکومت نے1972-73 کا قومی بجٹ پیش کا تو یہ بجٹ حیرت انگیز طور پر خسار ے سے پا ک بجٹ تھا جس کا ہجم 8 ارب 95 کروڑ تھا اور بچت 5 کروڑ64 لاکھ روپے تھی یہ اس لیے ہو اتھا کہ اس وقت سعودی عرب کے شاہ فیصل اور لیبیا کے کرنل قذافی نے پاکستان کی فوری مدد کی تھی اسی سال یعنی جون 1972 میں بلوچستان کی پہلی صوبائی منتخب حکومت نے اپنا پہلا صوبائی بجٹ پیش کیا تھا جس کا ہجم 15کروڑ88 لاکھ روپے تھا اور خسارہ8 کروڑ 29 لاکھ روپے تھا۔2019-20 کا بجٹ7022 ارب کا تھابجٹ خسارہ 3.8% تھااُس وقت یہ امید کی گئی تھی کہ فنا نشل ڈسپلن کے قیام سے اس کے مثبت اثرات مالی سال2020-21 کے بجٹ میں ظاہر ہونے لگیں گے لیکن نومبر2019 ہی میں چین میں رونما ہو نے والی قدرتی آفت کرونا کی وبائی بیماری پور ی دنیا میں پھیل گئی اور جون2020 میں سنگاپور سمیت دنیا کے اکثر ملکوں کے سالانہ جی ڈی پی کے ہجم50% سے زیادہ سکڑے گئے ہیں اور پوری دنیا 1930-32 کی عظیم عالمی مالی کساد بازاری سے زیادہ شدید نوعیت کی مالی کساد بازاری کا شکا ر ہو ئی ہے ماضی قریب کے ایسے اقتصادی ، معاشی، مالی بحران کسی خطے یا چند ملکوں میں جنگ ، سیلاب ،قحط وغیرہ کی وجہ سے رونما ہو تے رہے مگر کرونا جدید دنیا کی ایک ایسی قدرتی آفت ہے جس سے اموات تو ماضی کے مقابلے میں بہت ہی کم ہیں مگر چین کے لاک ڈان کو مدنظر رکھتے ہو ئے دنیا بھر کے ملکوں میں لاک ڈاﺅن کی وجہ سے پیداور ی عمل اور سر گر میاں رک گئیںاس لیے معاشی اقتصادی بڑھوتی کا بھی عمل رک گیا یا اس میں کمی واقع ہو ئی اسی طر ح پاکستا ن میں وفاقی بجٹ 2020-21 کے بجٹ پر اس کے نہایت منفی اثرات مرتب ہوئے اس وفاقی بجٹ کا ہجم 72 کھرب 95 ارب روپے ہے اس میں کو ئی نیا ٹیکس نہیں لگا یا گیاہے بجٹ خسارہ 3437 ارب روپے ہے صوبوںکا حصہ 2874 ارب روپے ہے کر ونا سے نبٹنے کے لیے 1200 ارب روپے رکھے گئے ہیںبلو چستان کے اعتبار سے اس بجٹ میں جو ترقیاتی منصوبے رکھے گئے ہیں اُن میںبسیمہ سے خضدار تک سڑک کو دو رویہ کرنے کے لیے 4400 ملین روپے کا منصوبہ ہے ژوب کی قومی شاہراہ،جھل جھاﺅبیلہ شاہراہ اور نو کنڈی ماشکیل روڈ کی تعمیر نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی جانب سے کی جائے گی اطلاعات کے مطابق اس بار بھی وزیر اعلیٰ بلو چستان جام کمال خان نے وفاقی حکومت کی جانب سے بلو چستان کے تعمیراتی،ترقیاتی منصوبوں کے لیے اصولی موقف اُس وقت اختیار کیا جب اُن کی جانب سے پیش کئے گئے دو منصوبوں کی منظوری کے بعد باقی منصوبے نظرا نداز کر دئیے گئے جام کمال کی ناراضی کے ردعمل پر وفاقی حکومت نے اربوں روپے کے منصو بے شامل کرنے کا وعدہ کیا ہے، 18 جون 2020 کوAnnual Plan Coordination Committee اے پی سی سی کے اجلاس میں وفاق اور چاروں صوبوںکے لیے 1.3 کھرب روپے کے ترقیاتی اخراجات تجویز کئے گئے جو جاری مالی سال 2019-20 کے مقابلے میں 18% کم یعنی وفاق اور صوبوں میں فنڈز کی تقسیم جاری مالی سال سے 292 ارب روپے کم ہیںسالانہ منصوبہ رابطہ کمیٹی ،اے پی سی سی،پی ایس ڈی پی، پیلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پر وگرام کی مد میں 536 ارب روپے مختص کئے مگر این ایف سی کو اختیار ہے کہ اس میں اضافہ کرئے پھر صوبوں کے مجموعی ترقیاتی بجٹ کا کل ہجم 783 ارب روپے رکھا ہے جوجاری مالی سال 2019-20 سے 127 ارب روپے یعنی 14% کم ہے یہ سب ہی کچھ اس اقتصادی بحران کا نتیجہ ہے جو پوری دنیا کو اپنی گرفت میں لیے ہو ئے ہے پاکستان پر آئی ایم ایف نے بھی دباﺅ ڈال ہے ،اے پی سی سی کے اجلاس سے وزیراعلی بلو چستان جام کمال خان نے بلوچستان کے لیے مالی وسائل میں کمی پر مدلل انداز میں موقف اختیار کیا اور پلانگ کی وزارت پر تنقیدی کی کہ منصوبہ بندی کی وزارت نے بلو چستان کو نظر انداز کیا ہے اور وہ یوں کہ مالی سال 2020-21 میں بلو چستان کے آبپاشی کے اہم منصوبے کچھی کنال ،گوادر انٹرنیشنل ایر پورٹ گوادر سیف سٹی پر و جیکٹ جو 2016 میں منظورہوا تھا اِن ترقیاتی منصوبوں پر جاری فنڈز میں کمی پر بھی وزیر اعلیٰ جام کمال خان نے وفاق کو اصوالی موقف کی بنیاد پر گفتگو اور دلائل سے کا فی حد تک قائل کیا ہے اطاعات کے مطابق یہ بھی کہا ہے کہ جہاں تک تعلق مالی سال 2019-20 کا ہے تو لاک ڈاﺅن کی وجہ سے 30 جون 2020 یعنی جاری مالی سال پوری رقوم خرچ نہیں ہو سکیں، شائد یہی وجہ تھی کہ صوبائی بجٹ کے پیش ہو نے سے ایک دن قبل ہی وزیر اعظم عمران خان کے سیاسی امور کے معاونِ خصوصی ڈاکٹر شہباز گل کوئٹہ تشریف لائے اس پورے تناظر میں جب جام کمال کی صوبائی مخلوط حکومت کے وزیر خزانہ ظہور احمد بلیدی نے بلو چستان مالی سال2020-21 کا بجٹ پیش کیا تو اندازہ ہوا کہ یہ بجٹ ایسا صوبائی بجٹ ہے جس میں بجٹ بنانے والے ماہرین نے معاشی ، اقتصادی ،مالیاتی بحران کے چیلنجوں کو قبول کرتے ہو ئے بہتر اقتصادی حکمت عملی اپنائی صوبائی وزیر خزانہ ظہور احمد بلیدی نے 20 جون 2020 کو صوبائی اسمبلی میں بجٹ پیش کر تے ہوئے خطاب میں کہا کہ ،،ہم Covid-19 کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے ایک تھکا دینے والا سفر طے کر رہے ہیںکہ اس وبا نے عالمی وبا کی شکل اختیار کی اور پوری دنیا میں تیزی سے پھیل گئی اس وبا نے پا کستا ن کو بھی متاثر کیااو راب ہم کرونا کے اثرات اپنے سماجی اور معاشی شعبے پر بھی دیکھ رہے ہیں Covid-19 کے تباہ کن اثرات کے پیش نظرقیمتی جانوں کو بچانے اور سکڑتی ہو ئی معیشت کو بحال کرنے کے لیے حکومت ِ بلوچستان کی کا وشوں اور وسائل کو درست سمت میں منظم کر نے ضرورت تھی جس کے لیے ہماری حکومت نے بہتر حکمت ِ عملی کے تحت بروقت اقدامات اٹھائے،، اس کے بعد صوبائی وزیر خزانہ میر ظہو ر احمد بلیدی نے کرونا کی وبائی بیمار ی جیسی قدرتی آفت سے ہر ممکن بچاو اور عوام کو ریلف دینے کہ اُن اقدامات کا ذکر کیا جس کے لیے رقم ایمر جنسی میں بجٹ مالی سال 2019-20 کے حوالے سے ہنگامی بنیادوں پر کام کیا گیاکرونا وائرس ایمرجنسی فنڈ ایک ارب سے شروع کیا گیا جس میں صوبائی سرکاری ملازمین نے اپنی تنخواہوں سے 3 کروڑ 18 لاکھ روپے دیئے ،کرونا ٹیسٹنگ سہلوت 1500 افراد کی ٹیسٹنگ روزانہ تک بڑھادی اور اس میں اضافہ جاری ہے،کرونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کو آئیسولیشن سنٹرز میں رکھنے کے لیے تمام اضلاع میں 68 قرنطینہ 2148 بستروں پر مشتمل آئیسولیشن سنٹرز قائم کر دئے گئے ہیں ،لاک ڈاﺅن کے دوران متاثرہ دھاڑی دار مزدورں کی مالی مدد کے لیے بلو چستان حکومت نے رفاعی ادارے اقوت کے مشترکہ تعاون سے 588.5 ملین روپے سے باقائدہ ،،وزیراعلیٰ قرضہ سکیم ،،کا اجرا کیا اور اس اسکیم کے تحت اب تک 25000 افراد کوبلاسود قرضے فراہم کئے جا رہے ہیں کرونا وائرس سے معاشی طور پر شدید متاثرہ افراد کو فوری راشن کی فراہمی کے لیے حکومت بلو چستان نے صوبے کے تمام اضلاع کی انتظامیہ 985 ملین روپے جاری کئے سیکرٹری خزانہ نور الحق بلوچ اور اُن کی ٹیم نے واقعی دنیا میں قدرتی آفات کی تاریخ میں بد ترین آفت کرونا وائرس کے بحرانی دور میں تکنیکی اعتبار سے ایک مثالی بجٹ ترتیب دیا ہے اور اگر اس موقع پر بجٹ بنانے والوں کو ایک ماہ کی اضافی تنخواہ کا انعام ہے تو یہ واقعی ا س کے حقدار ہیں اس صوبائی بجٹ میں بہت احتیاط کے ساتھ کامیاب کو شش کی گئی ہے ایک جانب تو مستقبل قریب یعنی یکم جولائی 2020 سے30 جون 2021 کے دوران بلوچستان میں کرونا وائرس اور ٹڈی دل جیسی قدرتی آفات کا مقابلہ بھی کیا جا ئے اور ساتھ ہی ساتھ بلو چستان کی تعمیر وترقی کے گراف کو کم ازکم گرنے نہ دیا جائے صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور احمد بلیدی نے اس پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ وہ اِن حالات میں وفاقی حکومت کی طرح سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائر ملازمین کی پینشنوںمیں اضافہ نہیں کر سکے مگر ساتھ ساتھ صوبائی حکومت نے بجٹ 2020-21 میں16840 اسا میوں کا علان کیا ہے ہرسرکاری بجٹ میں دو بنیادی مدیں ہو تی ہیں ایک کو ترقیاتی اخراجات کہتے ہیں اور دوسرے غیر ترقیاتی اخراجات کہلاتے ہیں ترقیاتی اخراجات میں سڑکوں ،پلوں ، عمارات کی تعمیر مشنری گاڑیوں اور آلات کی خریداری وغیرہ سے متعلق اخراجات کے لیے رقوم مختص کی جاتی ہیں جب کہ غیر ترقیاتی اخراجات میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ا لاونسز ، ریٹائر سرکاری ملازمین کی پینشنیں اور صحت ،تعلیم ، سماجی بہبود کے کچھ مخصوص ا خراجات ہو تے ہیں ، چونکہ تنخواہیں اور پیشنیںمستقل اور متواتر اضافے کے ساتھ ہر بجٹ میں شامل ہو تی ہیں اس لیے ہر بجٹ میں اس کا ہجم زیادہ ہو تا ہے اس بار بھی صوبائی بجٹ برائے مالی سال2020-21 میں غیر ترقیاتی اخراجات کی مدمیں 309 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو کل بجٹ کا تقریباً 66% ہیں اور اس کے مقابلے میں ترقیاتی اخراجات 34 فیصد ہیں تعمیر وترقی کے لحاظ سے اگر چہ یہ تناسب بظاہر بہت کم اور غیر متوازن دکھائی دیتا ہے لیکن ماہر ین کی نظر میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں کیے جانے والے اخراجات بظاہر اور وقتی طور پر غیر ترقیاتی اخراجات دکھا ئی دیتے ہیں لیکن قومی تعمیر کے اعتبار سے یہ مستقبل کی اصل تعمیر وتر قی ہو تی ہے یوں اگر ہم بجٹ کا اجمالی جائزہ لیں تو خوراک کے لیے غیر ترقیاتی مد میں 743.578 ملین روپے تعلیم کے شعبے میں مجموعی ترقیاتی مد میں 9.107 ارب روپے 934 جاری ترقیاتی اسکیموں کے لیے 60.875 ارب روپے اور1634 نئی ترقیاتی اسکیموںکے لیے 57.381 روپے مختص کئے گئے ہیں،بلو چستان وہ صوبہ ہے جس کے پاس ملک کے کل 1000 کلو میٹر ساحل میں سے 770 کلو میٹر سے زیادہ طویل ساحل ہے اور یہاں ماہی گیری صوبے کا ایک اہم معاشی اور پیداوری شعبہ ہے بجٹ میں اس پر بھی توجہ دی گئی ہے صحت کے شعبے کے لیے فنڈز بڑھا کر 31.405 ارب روپے کر دیے گئے ایئر ایمبو لینس کی خریداری کے لیے 2.5 ارب روپے رکھے گئے ہیں یہ بلو چستان کی انتہائی ضرورت ہے جس کو مالی سال 2020-21 میں پورا کیا جائے گا امن و امان کے لیے غیر ترقیاتی مد میں 44 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے پولیس اور ،بی سی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے 822 ملین روپے اور لیویز کی تنظیم نو کے لیے 1117 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں، بلو چستان کے تمام انٹر کالجوں کو ڈگری کالج بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور بی ایس سطح کی تعلیم کو معیاری بنانے کے لیے مطلوبہ معیار کی تعلیمی صلاحیتوں کے حامل اساتذہ کی کمی کو جلد از جلد پورا کرنے کے اقدامات بھی کئے جا رہے ہیں صوبے کے100 ہائی اسکولوں میں انٹر نیٹ کمپیو ٹر ز سمارٹ بورڈ کی فراہمی کے ساتھ 1486 نئی آسامیاں رکھی گئی ہیں ،صوبے کی آٹھ سرکاری یو نیورسٹیوں کے لیے گرانٹ ان ایڈ کی مد میں 3.94 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ،بلوچستان میں زراعت و باغبانی کا شعبہ معاشی اور معاشرتی زندگی ایک اہم شعبہ ہے مگر بدقسمتی سے گذشتہ کچھ برسوں سے اس شعبے کو قدرتی آفات کا سامنا رہا ہے دو سال پہلے صوبے کے نصف اضلاع خشک سالی کا شکار ہوئے اور اب ایک جانب کرونا وائرس ہے تو ساتھ ہی ٹڈی دل جیسی قدرتی آفت بھی بلوچستان کے تقریباً تمام اضلاع میں آچکی ہے اس بجٹ میں ٹڈی دل کی وبا سے نبٹنے کے لیے 500 ملین روپے رکھے گئے ہیں زراعت کے شعبے میں مزید اقدامات بھی کئے گئے ہیں مثلاً کسانوں کو کھاد کی فراہمی کے لیے 29 ملین روپے سبسیڈی کے لیے فراہم کئے جارہے ہیں یہ بھی کہا گیا ہے کہ زرعی ایکسپو کا انقاد کیا جا ئیگا ،وزیرخزانہ میر ظہوراحمد بلیدی نے بجٹ تقریر اور پوسٹ بجٹ پر یس کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ میرانی ڈیم کمانڈ ایرایا سبکزئی ڈیم اور کچھی کینال کی ترقی کے لیے بھی اقدامات زیر غور ہیں اِن منصبوں کی تکمیل سے لاکھوں ایکڑ اراضی زیر کاشت آجائے گی اطلاعات کے مطابق اس سلسلے میں وزیراعلیٰ نے وفاقی حکومت سے بات چیت کی ہے اور اِن منصوبوں کے لیے زور دیا ہے کہ ان پیداواری نوعیت کے منصوبوں کے لیے زیادہ سے زیادہ فنڈز دیئے جائیں تاکہ منصوبے جلد مکمل ہو کر پیداور شروع کر دیں ، ظہور بلیدی نے بتایا کہ مالی سال2019-20 کے دوران کسانوں کو 31445 کلو گرام بیج 5229 زرعی آلات اور 7387 روئی کے بیگز کئے گئے جبکہ مالی سال 2020-21 کے دوران دیگر اقدامات کے علاوہ آبپاشی کی53750پختہ نالیاں بنائی جا ئیں گی، خوراک کے شعبے میں ایک لاکھ میٹرک ٹن گندم کی خریداری کی منظوری دی گئی ہے اور جس کے لیے 6 ارب روپے State Trading کے تحت مختص کئے گئے ہیں،جبکہ 2020-21 کے دوران گندم کی خریداری کے لیے اور غیر مالیاتی اداروںکو بلاسود قرضہ کی فراہمی کے لیے 2 ارب روپے بجٹ میں رکھے گئے ہیںاسی طرح بجٹ 2020-21 میں دیہی ترقی لوکل گورنمنٹ مواصلات وتعمیرات،امن وامان،آبنوشی،تعلقات عامہ ، آبپاشی،معدنیات ومعدنی وسائل ،ماحول و ماحولیاتی تبدیلی،امور حیوانات،محنت و افرادی قوت،صنعت وحرفت،سماجی بہبود،کھیل وامور نوجوانان،ثقافتو سیاحت و آثار قدیمہ،سائنس و ٹیکنالوجی غرض تمام شعبوں پر توجہ دی گئی ہے،یوں بلوچستان کے صوبائی بجٹ 2020-21 کے اعدادو شمار اور قدوخال یہ واضح کرتے ہیں کہ کرونا وائرس اور ٹڈی دل جیسی قدرتی آفات کے باوجود صوبائی حکومت نے بہت کامیابی کے ساتھ صوبائی بجٹ 2020-21 کی صور ت میں صوبے کی تعمیر وترقی کی جاری رفتار میں بڑی حکمت اور دانائی سے کمی نہیں آنے دی اور آئنیدہ کے اندیشوں اور امکانات کو تدبر اور سیاسی ،اقتصادی بصیرت سے مدنظر رکھتے ہوئے کئی مثبت اقدامات کئے ہیں یوں یہ بجٹ بلو چستا ن دوست اور عوام دوست ہونے کے ساتھ ساتھ اِن حالات میں اقتصادی حکمت عملی کے لحاظ سے ایک کامیاب صوبائی بجٹ ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!