چاغی( نامہ نگار) ممتاز سیاسی و قبائلی شخصیت سردار حامد علی خان سنجرانی نے کوئیٹہ میں طلباء کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت حکومت تعلیم دشمنی پر اتر آچکی ہے بلوچ طالبات کو گرفتار کرنا کہاں کا انصاف ہے صوبائی حکومت نے صوبے کی قبائلی روایات کو پامال کردیا ہے حالیہ اقدام نہ صرف تعلیم دشمنی کے مترادف ہے بلکہ صوبائی حکومت کی نااہلی منہ بولتا ثبوت ہے انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان کی جانب سے تعلیم کے فروغ کے لیے دعوے سراسر جھوٹ پر مبنی ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ گرفتار طالبات کو فی الفور رہا کردیا جائے بلوچستان میں تعلیمی زبوں حالی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں،جبکہ حکومت کے جانب سے آن لائن کلاسز کے غیر مناسب اقدام سے طلباء و طالبات کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے بلوچستان میں انٹرنیٹ کی سہولت شہروں میں نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ دوردراز اور خصوصا دیہاتوں میں انٹرنیٹ کا تصور ہی محال ہے بلوچستان میں انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہونے سے طلباء و طالبات کو مشکلات پیش آرہی تھی جس پر کوہٹہ میں طلباء و طالبات نے پرامن احتجاج کیا مگر بدقسمتی سے اپنے حق کے لئے پرامن احتجاج بھی موجودہ حکومت کو ناگوار گزری اور حکومت خصوصا کوہٹہ پولیس نے غیر انسانی تشدد کے ذریعے بلوچستان کے روایات ،اسلامی ثقافتی اخلاقی روایات کی دھجیاں اڑائیں طاقت کے استعمال کے بجائے پرامن مظاہرین کی دلجوئی کرتی ،مظاہرین کی مطالبات کو سنجیدگی سے لیتی اور مسائل حل کرتی مگر بدقسمتی سے موجودہ حکومت ہر مسئلہ کو جان بوجھ کر پیچیدہ بنانا چاہتی ہے اور خوامخواہ بلوچستان میں ایشوز کو جنم دے رہی ہے
