خضدار(نامہ نگار)بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی خضدار کے ایڈمنسٹریٹو آفیسرز ایسوسی اایشن کے کابینہ کا ایک مشترکہ اجلاس زیرِ صدارت انجینئر مختیار حلیمی منعقد ہوا اجلاس میں وائس چیرمین محمد انور سرپرہ۔جنرل سیکریٹری انجنیئر بشیر جتک جواہینٹ سیکریٹری انجینئر محمد ابراہیم عمرانی۔پریس سیکریٹری عبدالواحد رند۔ اور فناس سیکریٹری سیف اللّٰہ ملازءنے شرکت کی۔اجلاس میں آفیسرز کے مختلف مسائل زیرِ بحث لاےگے۔اور یونیورسٹی انتظامیہ کی مسلسل لاپرواہی اور جان بوجھ کر طول دینے کی مزمت کرتے ہوئے کہاں کہ یونیورسٹی انتظامیہ کو آفیسرز کی جائز مطالبات کو تحریری طور پہ دیا ہے اور کءبار انکے ساتھ اس مسائل پہ باقاعدہ مزاکرات کہیے ہے اور فیصلے بھی ہوے ہے مگر چھ ماہ گزرنے کے باوجود آج تک کسی ایک مسئلہ کو بھی حل نہ کرسکے جن میں سرفہرست سروس اسٹریکچرپروموشنز اپ گریڈیشن یونیورسٹی کالونی کے مسائل و دیگر شامل ہے۔اور دوسرے طرف کرونا کی وجہ سے یونیورسٹی کا بند ہونا یونیورسٹی انتظامیہ اور کچھ لوگوں کےلئے عید کے چاند ثابت ہوےیونیورسٹی میں ایڈمنسٹریشن کے پوسٹوں پہ کءسالوں سے ایڈیشنل چارجز کے نام پہ ٹیچرز اپنے اصل کام کو چھوڑ کر بھرا جماں بیٹھے ہوئے ہیں۔بجائے اس عمل کو ختم کریں کرونا وائرس کا فائدہ اٹھاکر اس عمل کو اور تیز کیا گیا ہے یونیورسٹی بند ہونے کے باوجود ایک شخص کو تین تین عہدوں کے ایڈیشنل چارجزدیا گیا ہے ایک طرف فنڈز کی کمی کا رونا رویاں جاتا ہے تو دوسری طرف انتہائی بے قاعدگی۔یونیورسٹی کو ایک ایسے شخص کے حوالے کیے گئے جو غلط طریقہ سے کسی دوسرے صوبے سے لاکر یہاں مسلط کیا گیا ہیں۔ایڈمنسٹریٹیو آفیسرز ایسوسی ایشن نے فیصلہ کیا گیا ہے کہ اب ہم کسی بھی صورت میں مزید زیادتیاں برداشت نہیں کرینگے۔اپنے جائز اور قانونی حقوق کے حصول کے لئے تمام جموری و قانونی زرائع استمال کرینگے۔اپنے مسائل کے حوالے سے جلد ایک یاداشت گورنر بلوچستان سیکرٹریٹ کو بھی لکھیں گے کیونکہ اس سے پہیلے وہاں بھی جو فیصلے ہوے آج تک ان پہ عمل درآمد نہیں ہورہے ہیں۔
