کوئٹہ( اسٹاف رپورٹر) چیف آف سراوان سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم خان رئیسانی نے کہا ہے کہ قبائلی رسم و رواج کے خلاف سازشوں کے باوجود ہم متحد اور یکجا ہیں۔مرحوم ٹکری غلام رسول نہ بھلانے والی شخصیت ہیں اپنے آباﺅ اجداد کے رسم و رواج کی پیروی کرتے ہوئے صدیوں پرآنے اپنے رسم و رواج کو آگے بڑھائیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتے کے روز سراوان ہاﺅس کوئٹہ میں رئیسانی قبیلے کی ذیلی شاخ سمالزئی اور جمال زئی طائفوں کے نو منتخب ٹکری بیگ محمد سمالزئی کی دستار بندی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر نوابزادہ میر رئیس رئیسانی، نوابزادہ میر اسماعیل رئیسانی،ٹکری حاجی قاسم زنگیزئی رئیسانی، ٹکری حاجی خدائے رحیم شوران زئی رئیسانی، ٹکری قادر بخش قلندرزئی رئیسانی،ٹکری مہر دین لہڑانی رئیسانی، ٹکری بختیار احمد راﺅحسین زئی رئیسانی،ٹکری احمد عیسیاڑیرئیسانی، سید حیدر شاہ بخاری، سید عبدالرحمان شاہ، لیاقت علی سومالزئی رئیسانی،میر قادر میرانی رئیسانی، بابو حسین قلندرزئی رئیسانی، ارشاد احمد جمال زئی رئیسانی، رحمت شاہ جمال زئی رئیسانی، حافظ نجیب اﷲ جمال زئی رئیسانی، میر محمد ایوب میرانی رئیسانی، ماسٹر فضل احمد بلوزئی رئیسانی، عبدالسلام سمالزئی رئیسانی، محمد عظیم جمال زئی رئیسانی، حفیظ احمد جمال زئی رئیسانی، سائیں مقصود احمد ،میر طارق رستم زئی رئیسانی، حاجی محمد اکرم رستم زئی رئیسانی و دیگر بھی موجود تھے۔ نواب اسلم خان رئیسانی نے کہا کہ ٹکری غلام رسول مرحوم ہمارے انتہائی عزیز اور قریبی ساتھیوں میں سے تھے ان کی شخصیت نہ بھلانے والی ہے ،مرحوم کبھی کسی سازش کا حصہ نہیں بنے ان کے انتقال سے جو خلاءپیدا ہوا ہے اُمید ہے ان کے فرزند ٹکری بیگ محمد نہ صرف اس خلاف کو پر کرنے میں کامیاب ہونگے بلکہ ہمارے اور قوم کے حق میں بہتر ثابت ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ دستار بندی کی تقریب سے ایک روحانی خوشی ہوئی ہے کہ آج ٹکری غلام رسول کی جگہ خالی نہیں ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ پھر سازشوں کے باوجود ٹکری بیگ محمد کی دستار بندی کررہے ہیں اپنے آباﺅ اجداد کے رسم و رواج کی پیروی کرتے ہوئے صدیوں پرآنے اپنے رسم و رواج کو آگے بڑھائیں کیونکہ ہم اپنے رسم و رواج کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں۔اس موقع پر سرسراوان چیف آف سراوان نواب محمد اسلم خان رئیسانی نے ٹکری بیگ محمد کو دستار پہنا کر انکی دستار بندی کی اس موقع پر دیگر قبائلی معتبرین اور سادات نے بھی اس رسم میں حصہ لیا۔
