پاک افغان بارڈر کی بندش سے متعلق عوامی نیشنل پارٹی کی تحریک التواءبحث کے لئے منظور

پاک افغان بارڈر کی بندش سے متعلق عوامی نیشنل پارٹی کی تحریک التواءبحث کے لئے منظور

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ (سٹاف رپورٹر) بلوچستان اسمبلی نے پاک افغان بارڈر کی بندش سے متعلق عوامی نیشنل پارٹی کی تحریک التواءبحث کے لئے منظور کرلی ، صوبائی اسمبلی کے اگلے اجلاس میں تحریک التواءپر عام بحث کرائی جائے گی جبکہ اصغرخان اچکزئی کی لائی گئی مذکورہ تحریک التواءمیں صوبائی وزیر اسد بلوچ کی تجویز پر ایران سے متصل اضلاع بھی شامل کئے گئے ہیں ۔ گزشتہ روز بلوچستان اسمبلی کا خصوصی اجلاس ایک گھنٹہ پندرہ منٹ کی تاخیر سے ڈپٹی سپیکر سردار بابرخان موسیٰ خیل کی زیر صدارت شروع ہوا ۔اجلاس میں عوامی نےشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اصغرخان اچکزئی کی نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاک افغان بارڈر کی بندش ایک انتہائی اہم مسئلہ ہے جس پر ہم نے اسمبلی کے گزشتہ اجلاس میں بھی بات کی تھی یہ مسئلہ سنگین ہوتا جارہا ہے حساس نوعیت کے اس مسئلے کو اس ایوان میں زیر غور آنا چاہئے جس پر ڈپٹی سپیکر سردار بابرخان موسیٰ خیل نے ایوان کو بتایا کہ اس معاملے پر اصغرخان اچکزئی کی تحریک التواءبھی موصول ہوئی ہے انہوںنے تحریک التواءایوان کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاک افغان سرحد پر تجارتی اور کاروباری سلسلوں کی تاریخ بہت پرانی ہے اور ساتھ ہی دونوں طرف آباد قبائل کے خونی رشتے بھی ہیں کورونا کے باعث لاک ڈاﺅن اور دیگر کاروباری و تجارتی بندشوں کے ساتھ ساتھ پاک افغان سرحد بھی دوطرفہ تجارت کے لئے بند کردی گئی ہے جس کے باعث نہ صرف چمن میں سرحد کے دونوں اطراف آباد قبائل کو مشکلات کاسامنا ہے بلکہ تجارتی اور معاشی سرگرمیاں بھی متاثر ہورہی ہے (اخباری تراشہ منسلک ہے)بارڈرکی مسلسل بندش سے نہ صرف دونوں ممالک کے عوام کومعاشی طورپر بڑے المیہ سے دوچار کرسکتی ہے بلکہ اس کے منفی اثرات دونوں طرف کی عوام کو امن وامان کے گھمبیر مشکلات سے بھی دو چار کرسکتے ہیں جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات پر بھی منفی اثرات مرتب ہوںگے اور عوام کے غیض وغضب میں اضافے اور ایک بڑے عوامی احتجاج کا باعث بھی بن سکتاہے چونکہ ہمارے صوبے میں روزگار اور تجارت کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہے سرحدی تجارت سے ہزاروں گھرانوں کا روزگار بھی وابستہ ہے ،سرحد کی مسلسل بندش سے لوگوں میں شدید تشویش اور غیر یقینی صورتحال پائی جارہی ہے لہٰذاءایوان آج کی کارروائی روک کر اس فوری نوعیت کے حامل مسئلے کو زیر بحث لایاجائے ۔ کی صوبائی وزیر اسد بلوچ نے تجویز دی کہ پنجگور چیدگی اور دیگر بارڈر ایریاز کو بھی تحریک التواءمیں شامل کیا جائے ۔ ازاں ایوان کی مشاورت سے تحریک التواءکو منظورکرنے کی رولنگ دیتے ہوئے ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ بلوچستان کے تمام سرحدی اور سمندری علاقوں کے مسائل بھی اس تحریک التواءمیں کلب کرکے سترہ جولائی کے اجلاس میں تحریک التواءپر بحث کرائی جائے گی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!