اسلام آباد :اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت نے صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف توہین عدالت درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراض کے ساتھ سماعت وکیل درخواست گزار کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ درخواست میں آپ کی استدعا کیا ہے؟جس پر وکیل عدنان اقبال نے عدالت کو بتایا کہ میں نے توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کی استدعا کی ہے عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کس چیز سے متاثرہ ہیں جس پر عدنان اقبال نے عدالت کو بتایا کہ عدلیہ کے حوالے سے توہین آمیز ٹویٹ کی گئی توہین عدالت کا قانون موجود ہے عدالت نے استفسار کیا کہ یہ بتائیں کہ کیا یہ کورٹ ہر ٹویٹ پر توہین عدالت شروع کردے آزاد عدلیہ کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا روزانہ ٹویٹس ہوتی ہیں چیف جسٹس نے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کیسے متاثرہ ہیں پاکستان بار کونسل اور اسلام آباد بار کونسل کا فورم آپ کے پاس موجود ہے عام شہری اور سیاسی جماعتیں بھی سوشل میڈیا استعمال کرتی ہیں کیا ہر ایک کے خلاف توہین عدالت شروع کریں ججز اور عدلیہ کو اس سے اوپر ہونا چاہئے عدالت نے وکیل کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ۔
