اسلام آباد: قومی اسمبلی وفقہ سوالات میں حکومت نے ایوان کو بتایا کہ کرپشن میں ملوث ہاﺅسنگ سوسائٹیز کے خلاف انکوائریزہو رہی ہیں پایہ تکمیل ہوتے ہی انکے کیس نیب کو بھیج دیں گے،جموں و کشمیر ہاﺅسنگ سوسائٹی کا کیس نیب کو بھیج دیا گیا ہے،رہائشی علاقوں میں گیسٹ ہاﺅسز کے مالکان سپریم کورٹ چلے گئے کیس ختم ہوتے ہی انکے خلا ف مزید کارروائی بھی کی جائے گی،پی ایم پورٹل پر آنیوالی شکایات کا فوری ازالہ کیا جاتا ہے اور اس رپورٹ میں شکایت کند ہ کو بھی اگاہ رکھا جاتا ہے ،قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران پارلیمانی سیکرٹری وزارت داخلہ شوکت علی نے بتایا کہ متعدد شہروں میں پاسپورٹ دفاتر کھول دیے گئے ہیں جبکہ اور شہروں کو بھی یہ سہولت دینے کے لیے کوشاں ہیں،پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی نوید قمر نے کہا کہ جہاں جہاں پاسپورٹ دفاتر کھولے گئے تو ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ وہاں کے لوگ نازک ہیں اور جہاں نہیں کھولے گئے کیا وہ کے لوگ سخت جان ہیں ،خدا را حکومت ایسی باتیں نہ کرے ،پارلیمانی امور کے مشیر ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت میں سب برابر ہیں ،مذکورہ دفاتر سابق حکومتوں نے بنائے تھے اور اس میں پی ٹی آئی کا کوئی عمل دخل نہیں ہے ،انہوں نے کہا کہ اس معاملہ کو خود دیکھیں گے اور بہت جلد یہ شکایت دور ہو جائیگی،پارلیمانی سیکرٹری شوکت علی نے کہا کہ قدرتی چشموں سے پانی چوری ہونے کے واقعات کا نوٹس لیا تھا اور جہاں جہاں شکایات تھیں انکے خلاف کارروائی بھی کی گئی،اور اب قدرتی چشموں کا پانی چوری نہیں ہو رہا ہے ،قومی اسمبلی میں تحریری جواب میں بتایا گیاکہ سپریم کورٹ کے احکامات کے پیش نظر سی ڈی اے نے بڑی مہم کے دوران 1500مکانات جو کہ خلاف ضابطہ استعمال ہورہے تھے انکو خالی کروایا گیا ہے ،رہائشی مکانات میں 116گیسٹ ہاﺅسز بھی قائم کیے گئے تھے اور ان میں سے 89نے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے ،جو کہ زیر سماعت ہیں علاوہ ازیں 27کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے ۔ایوان کو بتایا گیا کہ ایک سال کے دوران 521077بیرون ممالک سے پاکستانی سفارتخانوں میں پاسپورٹ کی تجدید کے لیے درخواستیں دی گئیں،اور ان میں سے صرف 24زیر التوا ہیں،خفیہ ایجنسی آئی بی سے جیسے ہی رپورٹ موصول ہو جاتی ہے ویسے ہی کاررائی عمل میں لائی جاتی ہے ۔ایم آر پی سیکشن پاکستانی ہائی کمیشن میں پریٹوریا میں فرائض سرانجام دے رہا ہے اور مذکورہ آفیسرکے خلاف پی ایم پورٹل پر شکایت موصول ہوئی تھی،اور یہ تمام شکایات پناہ حاصل کرنے والوں سے متعلق تھیں،ایک اور سوال کے جواب میں وزارت داخلہ نے بتایا کہ وفاقی پولیس میں وزارتی عملہ سمیت کانسٹیبل سے اے ایس آئی تک 1262آسامیوں کے لیے بھرتی کے عمل کا آغاز ہو چکا ہے ،اور آئی سی ٹی پولیس میں 1060اہلکاروں کو بھرتی کیا جا چکا ہے ،ایک اور سوال کے جواب میں بتایا کہ وفاقی پولیس میں ابتدائی طور پر چار ناکوں پر پولیس اہلکاروں کی یونیفارم پر کیمرے لگائے گئے ہیں تاکہ انکی پبلک ڈیلینگ سے متعلق اگاہی مل سکے ،ریڈزون ،زیروپوائنٹ،کے ناکوں پر پولیس اہلکاروں کی یونیفارم پر کیمرے لگائے گئے ہیں،بتایا گیا کہ ان ویڈیو کیمروں کو عارضی لگایا گیا ہے اگر نتائج اچھے نکلے تو پھر سیف سٹی پراجیکٹ کے ساتھ جوڑا جائے گا،17ہاوسنگ سوسائٹیز کو این او سی جاری کرنے سے متعلق جانچ پڑتال کی جارہی ہے اور 16کو این او سی جاری نہیں کیا گیا،جموں و کشمیر ہاﺅسنگ سوسائٹی سے متعلق کرپشن کا کیس نیب کو بھیج دیا گیا ہے ابتدائی انکوائری میں 8ارب روپے کی خورد بر د کی گئی ہے ،اس سوسائٹی سے متعلق مزید بھی انکوائری چل رہی ہے اور متعدد درخواستیں اور ابھی کرپشن سے متعلق مل چکی ہیں






