کوئٹہ :عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی دفتر باچاخان مرکز سے جاری کردہ صوبائی بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبائی وزیر داخلہ ضیااللہ لانگو ایک معتبر قابل قدر شہید خاندان سے تعلق رکھتا ہے عوامی نیشنل پارٹی ان کے خاندان اور ان کے والد شہید عبدالخالق لانگو کی صوبے اور بالخصوص بلوچ دھرتی جمہوریت اور جمہوری اداروں کےاستحکام کیلئے ملی رہبر خان عبدالولی خان اور بابائے بلوچستان میر غوث بخش بزنجو کی قیادت میں نیپ سے لیکر این ڈی پی، پی این پی اور نیشنل پارٹی تک کے جدوجہد اور قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہےموصوف کی گزشتہ روز اخباری بیان کے مطابق کہ اصغر خان اچکزئی اتحادی ہونے کے ناطے ساتھیوں کو اعتماد میں لئے بغیر اقدامات کے خواہش مندہے تو اس حوالے سے اتنی سی عرض ہے کہ پاک افغان بارڈر چمن کے اس اہم ایشو پر حکومت بلوچستان نے 6 رکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی تھی جنہوں نے چمن جاکر تمام فریقین سے ملاقاتیں کیں پاک افغان بارڈر کے صورتحال کے پیش نظر تجاویز اور سفارشات مرتب کیں جس پر کمیٹی کے چھ میں سے چار ارکان بلوچستان عوامی پارٹی کے سیکرٹری جنرل منظور خان کاکڑ پاکستان تحریک انصاف کے مبین خان خلجی ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی چیئرمین عبدالخالق ہزارہ عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اصغر خان اچکزئی کے دستخط موجود ہے جبکہ دو قابل احترام وزرا صاحبان ضیا اللہ لانگو اور نور محمد دمڑ کچھ نقطوں پر معترض تھے جہاں تک تحریک التوا پر بحث کا تعلق ہے توفلور آف دی ہاس پر پورے ایوان بشمول اپوزیشن نے کھڑے ہوکر تحریک التوا کو بحث کیلئے نہ صرف منظور کی بلکہ محترم اسد بلوچ، جان جمالی، ثنا بلوچ اور دیگر معزز اراکین کی درخواست پر پاک افغان بارڈرز چمن کے ساتھ ساتھ پاک افغان بارڈرز نوشکی،براہیمبچہ اور پاک ایران بارڈرز تفتان، مند بلو، پنجگور اور سمندری بارڈرز کو بھی تحریک التوا کا حصہ بنا کر منظور کی تھی اوریہ سب اسمبلی ریکارڈ میں موجود ہے لیکن 17 تاریخ کو تحریک التوا پر بحث شروع ہونے سے پہلے جس طرح اپوزیشن و حکومتی ارکان نے کورم کو توڑا اسے عوامی نمائندوں کی عوام کے مفادات کی دفاع میں ناکامی کے طور پر یاد کیا جائے گا اوریہی ایکسرسائز چیئر مین سینٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے موقع پر بھی دیکھنے کو ملا تھا جس کو اپنے(پارلیمنٹرینز )کے ہاتھوں سے اپنے پاﺅں(جمہوری اداروں)پر کلہاڑی مارنے کے سوا کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے بیان میں کہا گیا کہ جب تک ملک میں حقیقی جمہوریت کو پنپنے کے مواقع نہیں دئیے جاتے تمام ادارے آئین کے تحت اپنی اپنی دائرہ کار میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کے اختیارات میں عدم مداخلت کے پالیسی پر گامزن نہیں ہوتے ملک اور قوم ترقی کے منازل طے نہیں کرسکتے لہٰذا سیاسی جمہوری قوتوں کو گزشتہ 73 سالوں کے دوران اشرافیہ کی جانب سے جمہوریت اور جمہوری اداروں کے ساتھ کھیلے گئے”کھلواڑ“پر سنجیدگی سے غور فکر کرنا ہوگا۔
