کورونا سے بچاﺅ کی ادویات کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ، حکومت

کورونا سے بچاﺅ کی ادویات کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ، حکومت

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

اسلام آباد: حکومت نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافے کیلئے کمپنیوں کی جانب سے لاتعداد درخواستیں موصول ہوئیں ، تاہم کووڈ۔19سے متعلق کسی بھی دوائی میں اضافہ نہیں کیا جائے گا جبکہ اپوزیشن نے زندگی بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں اضافے کو غریب دشمن قرار دیدیا اور مطالبہ کیا کہ قیمتوں میں اضافہ فی الفور واپس لیا جائے ، دوسری جانب ملک میں ٹڈی دل اور سرکاری ملازمین کی عمر اور پنشن کے خاتمے سے متعلق سوالات پر حکومت نے بتایا کہ صوبوں اور وفاق نے مل کر ٹڈی دل کے تدارک کے لیے 2854.05ملین روپے مختص کیے ہیں جبکہ حکومت نے سرکاری ملازمین کی پنشن کے خاتمے اور عمر کم کرنے سے متعلق خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی خبریں چھاپنے سے عوام میں خوف وہراس پھیلتا ہے جس کا کوئی وجود ہی نہیں ہوتا ، دوسری جانب مذہبی امور سے متعلق سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ حجاج کرام سے اس سال 50 ارب روپے حاصل ہوئے تھے۔بینکوں میں رکھنے پر اس رقم پر 49 کروڑ روپے منافع حاصل ہوا تھا۔قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران پارلیمانی سیکرٹری صحت نوشین حامد نے کہا کہ قومی ادارہ صحت کی مکمل از سر نو تنظیم کی جائے گی،ری ویمپنگ کے بعد کتے کے کاٹے کی ویکسین بنانے میں این آئی ایچ خود کفیل ہو جائے گا،سندھ کو اگر ویکسین کی ضرورت ہے تو پہلے کے واجبات ادا کرے،گزشتہ دو سپلائیز کی ادائیگی نہیں ہوئی،پمز اور پولی کلینک میں سو سے زائد وینٹی لیٹرز موجود ہیں،پمز میں 26وینٹی لیٹرز پر کرونا مریضوں میں سے اب 10وینٹی لیٹرز پر رہ گئے ہیں۔ پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر نوشین حامد نے کہا کہ پمز اور پولی کلینک کے لئے کوئی نئے وینٹی لیٹر ہسپتالوں کے خرچ پر نہیں خریدے گئے،پمز اور پولی کلینک کے پاس پہلے سے مناسب تعداد میں وینٹی لیٹرز موجود تھے جو کمی تھی وہ این ڈی ایم اے نے پوری کردی اور کتے کے کاٹنے کی ویکسین چھ لاکھ وائلز تک بڑھانے کے لئے 470ملین روپے رکھے جارہے ہیں ۔پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر نوشین حامد نے مزید کہا کہ انصاف صحت کارڈ سے تین لاکھ لوگ فائدہ اٹھا چکے ہیں ،تین لاکھ لوگوں پر دس ارب روپے خرچ ہوچکے ہیں۔خواجہ آصف نے سوال کیا کہ کورونا کے درمیان دوائیوں کی قیمتیں بڑھانا مضحکہ خیز ہے،دوائیوں کی قیمتوں پر پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے،گزشتہ دو سالوں میں قیمتیں کتنا بڑھیں، پوچھا جائے،اس ایشو کو قائمہ کمیٹی میں بھیج دیں، رولنگ دے۔ جس پر سپیکر نے کہا کہ میں دوائیوں کی قیمتوں کے مسئلہ کو قائمہ کمیٹی میں بھیجتا ہوں جس پر نوشین حامد نے جواب دیا کہ ادویات ساز کمپنیوں کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کے ایک سو سے زائد درخواستیں آئی ہیں،کوویڈ 19 کی وجہ سے کمپنیوں کو کہا گیا کہ ستمبر تک ادویات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کریں،اگر کمپنیوں نے اضافہ کیا تو کارروائی کی جائے گی۔وفاقی ویر برائے قومی غذاءتحفظ و تحقیق فخر مام نے تحریری جواب میں بتایا کہ پاکستان میں سال2019میں ٹڈی دل کا پہلا حملہ 17مارچ کو تربت بلوچستان میں ہوا،محکمہ پلانٹ پروٹکشن نے وزارت کی ٹیموں نے اس حملے پر قابو پالیا تھا،اب تک 449145ہیکٹررقبے پر ٹڈی دل تلف کرنے کا کام آپریشن کیا جا چکا ہے،صوبائی محکمہ زراعت ، ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے ٹڈی دل تلف کرنے کا عمل جاری ہے۔سید فخر امام نے بتایا کہ پنجاب کے علاوہ کسی صوبے نے ٹڈی دل حملے سے ہونے والے نقصانات بارے آگاہ نہیں کیا،صوبوں اور وفاق نے مل کر ٹڈی دل کے تدارک کے لیے 2854.05ملین روپے مختص کیے ہیں،وفاق نے 955.55ملین ، پنجاب نے 1000ملین سندھ نے 361ملین ،کے پی کے 2.5ملین اور بلوچستان نے 635ملین روپے دیے ہیں،ٹڈی دل کے مکمل خاتمے کے لیے چین اور خوراک کی عالمی تنظیم ایف اے او بھی مدد کر رہی ہیں۔ وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے کہا کہ حجاج کرام سے اس سال 50 ارب روپے حاصل ہوئے تھے۔بینکوں میں رکھنے پر اس رقم پر 49 کروڑ روپے منافع حاصل ہوا تھا۔ حجاج ویلفئیر فنڈ کے ذریعے رقم مختلف سہولیات پر خرچ کی جاتی ہے۔حجاج کیلئے صرف ادویات پر ایک ارب روپے خرچ ہوتے ہیں۔ وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے کہا کہ حجاج کرام کے پچاس ارب روپے شرعی اکاونٹس میں رکھے گئے تھے اس سے نفع و نقصان کی بنیاد پر 49کروڑ روپے ملے ہیں،یہ رقم حجاج کرام کے علاج ویکسین وغیرہ پر خرچ کی جاتی ہے،مکہ مکرمہ کی طرح مدینہ منورہ میں بھی پاکستان ہاوس بنانے کی کوشش ہے ،ہمارا مدینہ میں پاکستان ہاوس توسیع کے وقت گرایا گیا تھا اس کا کیس عدالت میں ہے۔ پیر نورالحق قادری نے کہا کہ عدالت جونہی فیصلہ دے گی ہم سعودی حکومت سے زمین عطیہ لیکر اس رقم سے وہاں پاکستان ہاوس بنانے کی کوشش کریں گے۔سرکاری ملازمین کی عمراور تنخواہوں میں سالانہ اضافے سے متعلق پوچھے گئے سوال پرمشیر پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے سرکاری ملازمین کی عمر 55سال کرنے ،پنشن ختم کرنے اور تنخواہوں میں سالانہ اضافہ نہ ہونے کی تمام خبروں کی تردید کردی۔ اور کہا کہ جس بات کا فسانہ میں ذکر تک تھا وہ میڈیا پر شہہ سرخیاں بنتی رہیں۔ ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ ججز کی عمر بڑھانے کی فوری کوئی تجویز نہیں،ججز کی عمر بڑھانے کے لئے آئینی ترمیم کرنا ہوگی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!