تاجر کا قتل افسوسناک واقعہ ، کالعدم تنظیموں کے خلاف موثر و جامعہ کاروائی عمل میں لائی جائے ، جھالاوان عوامی پینل

تاجر کا قتل افسوسناک واقعہ ، کالعدم تنظیموں کے خلاف موثر و جامعہ کاروائی عمل میں لائی جائے ، جھالاوان عوامی پینل

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

خضدار: جھالاوان عوامی پینل خضد ار سٹی کے آرگنائزر میر شہزاد غلامانی ، میر محمد خان رئیسانی ، رئیس محمد صادق مینگل ، سعیداحمد قلندرانی ،ثناءاللہ غلامانی و دیگر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ دو دن قبل وڈھ میں ایک افسوسناک واقع پیش آیا جس میں ایک بے گناہ تاجر نانک چند کو وڈھ شہر میں دن دیہاڑے بھرے بازار میں بے دردی سے قتل کیا گیا ہے بلاشبہ اس قتل میں لشکر بلوچستان ڈیتھ اسکواڈ کے بھتہ خور کارندے ملوث ہیں جن کی نشاندہی ہوچکی ہے ۔وہی لوگ ہیں کہ جنہوںنے کچھ عرصہ پہلے ”اجت“نامی تاجر کو بھی زودوکوب کرکے لوٹ لیا اجت نے ان لٹیروں کی سی سی ٹی وی فوٹیج بمع دیگر ثبوت ، لشکر بلوچستان کے سیاسی ونگ کے مرکز لے گیا لیکن بجائے داد رسی کے اجت کو دھونس اور خطرناک نتائج کی دھمکیاں دیکر خاموش کرادیا گیا ، جس دن نانک چند پر حملہ ہوا عوام نے نانک چند پر حملہ کرنے والوں کو دیکھ کر نشاندہی کی کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوںنے اجت کو لوٹا تھا ۔ہم انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان معلوم عناصر کے خلاف جلد از جلد قانونی کاروائی کرکے ان نام نہاد سیاسی لبادے میں چھپے لشکر بلوچستان کے دہشت گرد کارندوں کو عوام کے سامنے بے نقاب کیا جائے ۔ اور ان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے جو ظلم وستم اقلیتی برادری کے ساتھ لشکر بلوچستان ڈیتھ اسکواڈ کی طرف سے ہواہے ان ظالموں اور قاتلوں کو جلد ازجلد سزا دی جائے ۔انہوںنے کہاکہ کل کوئٹہ پریس کلب میں وڈھ واقعہ میں ملوث دہشت گردوں کے ایک سہولت کار اور دیگر زر خرید غلام جیسے ایم پی ایز کی طرف سے وڈھ سانحہ سے توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش کی گئی جس میں ان سازشی عناصر کے پیروکاروں نے جن واقعات یا توتک اجتماعی قبروں کا ذکر کیا گیا ہے ۔ یاد رہے توتک ان ہی تنظیموں کا گڑھ رہاہے جن کی یہ نمائندگی کرتے آرہے ہیں ۔ ہمارے قائد نے ہمیشہ مظلوموں کے لئے آوازِ حق بلند کیا ہے ۔ 2013میں اس وقت کے وفاقی حکومت اور ان کے اپنے قائد کے گٹھ جوڑ کے تحت توتک واقعہ کو بناءکسی ثبوت کے ہم سے جوڑا گیا ۔ بعد ازاں اس وقت کے صوبائی وزیرداخلہ میر سرفراز بگٹی نے قائم کردہ کمیشن کے سامنے اپنی تحقیقی رپورٹ پیش کی ۔ جو کہ ریکارڈ کا حصہ ہے جس میں کہاگیاکہ توتک واقعہ کلعدم تنظیموں کا کرتا دھرتا ہے اس واقعہ سے میر شفیق الرحمن مینگل کا دور دور تک کا کوئی واسطہ ثابت نہیں ۔ اس کے علاوہ ان کے زر خرید غلام ایم پی اے ارباب کرم خان روڈ جہاں پر ہمارے قائد رہائش پذیر تھے وہاں پر لشکر بلوچستان کے سربراہ کے ایماءپر حملہ کیا گیا اس نے خود کش دھماکہ کرایا کل کی پریس کانفرنس میں اس جملے کی تصدیق بھی اس ایم پی اے نے خود کی ۔ کل کی پریس کانفرنس میں بھتے کا ذکر کیا گیا ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ جولو گ بھتہ خوری میں ملوث تھے نانک چند کا قتل بھی ان ہی لوگوں نے کیا جواب لشکر بلوچستان ڈیتھ اسکواڈ کے کارندے ہیں ۔ اس کے علاوہ صفوریٰ گوٹھ شاہ نورانی دھماکہ جھل مگسی واقعہ لعل شہباز قلندرواقعات پیش آئے ۔ تحقیقاتی اداروں کی رپورٹ کے مطابق ان سارے واقعات میں لشکر بلوچستان ، بی ایل اے بلواسطہ یا بلاواسطہ طور پر ملوث تھے ۔ کچھ دن پہلے پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر جو حملہ ہوا یا اس سے پہلے چائنیز قونصلیٹ ، پی سی گوادر پر جو حملہ ہوا یہ سارے حملے انہی نام نہاد ایم پی ایز اور ان کے آقاﺅں کی کارستانیاں ہیں ۔ سب کو اچھی طرح معلوم ہے کہ معصوم پاکستانیوں کا اصل قاتل کون ہے اب یہ عناصر ایسے حیلے بہانوں اور اپنے کارندوںکے ذریعے بے مقصد پریس کانفرنس سے اپنی گناہ نہیں چھپاسکتے ہیں ۔ان کے دہشت گردی کے اڈے افغانستان میں قائم ہیں جن میں ان کے مسنگ پرسنز ٹریننگ کرتے ہیں اور پاکستان میں آکر کاروائیاں کرتے ہیں پورے بلوچستان بالخصوص جھالاوان میں جو خون کی ہولی کھیلی گئی ہے اس میں لشکر بلوچستان اور اس کے نام نہاد سیاسی ونگ ملوث تھا ۔ خضدار میں جتنے بھی واقعات ہوئے جن میں سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنانا، اساتذہ کو شہید کرنا ، ڈاکٹرز کو شہید کرنا ، تاجروں سے بھتہ لینا ، جن کے فون ریکارڈاب بھی موجود ہیں یہ سب لشکر بلوچستان و اس کے سیاسی ونگ کے کارنامے ہیں ۔ وفاق اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے ان کو عوام کی فلاح وبہبود کے نام پر اربوں روپے دیئے جاتے ہیں لیکن عوام کے اوپر ایک روپے تک یہ نام نہاد پیٹ پرست خرچ نہیں کرتے ہیں ۔ وفاق سے لیئے گئے اربوں روپے کرپشن کی نظر ہوجاتے ہیں اگر صوبائی گورنمنٹ کی طرف سے ہمارے مظلوم عوام کے لئے کچھ منظور ہوجاتا ہے تو یہ چیز ان پیٹ پرستوں و مفاد پرستوں کو ہضم نہیں ہوتاہے ۔ اگر صوبائی حکومت سے فنڈ منظور ہوتے ہیں تو وہ غریب عوام میں پانی بجلی ، تعلیم صحت کی مد میں خرچ ہوتے ہیں یہ جو رقم انصاف کی بنیاد پر ہماری جانب سے خرچ کیئے جاتے ہیں ان میں شہداءکے متاثرین بھی شامل ہیں جو لشکر بلوچستان ڈیتھ اسکواڈ و دیگر کلعدم تنظیموں نے نشانہ بنائے ہیں ۔ہم وفاقی و صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ لشکر بلوچستان و دیگر کلعدم تنظیموں کے خلاف موثر و جامعہ کاروائی عمل میں لائیں اور ان کے مسلح گروہوں کو غیر مسلح کیا جائے اور خضدار و وڈھ میں جو واقعات رونماءہورہے ہیں ان کے تدارک کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں اور جھالاوان کی عوام کو لشکر بلوچستان ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں و بھتہ خوروں سے پاک کیاجائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!