اسلام آباد:وزیر اعظم عمران خان نے کوویڈ 19 وبائی امراض کے تناظر میں 1200 ارب روپے سے زائد کے مالیاتی پیکیج کا اعلان کیا۔کابینہ ڈویڑن کی ای سی سی نے 13 مئی 2020 کو تجاویز کو منظور کرلیا۔اس پیکیج کے تحت کسانوں کے لئے بینک کے قرضوں پر مارک اپ سبسڈی کےلئے 6.861 بلین کی فراہمی کے لئے منظوری دی گئی ہے۔پاکستان میں 70 فیصد سے زیادہ کاشت کار ، 12.5 ایکڑ تک کی زمین کے مالک ہیں۔مالی سال 2020-21 کے دوران 12.5 ایکڑ اراضی کے کاشتکاروں کے ل ئے قرضوں پر 10 فیصد مارک اپ سبسڈی حکومت پاکستان نے منظور کرلی ہے۔سبسڈی کی کل رقم6.86 ارب روپے ہے۔پاس بک کے ساتھ تمام قرضے سبسڈی حاصل کرنے کے اہل ہیں.مارک اپ سبسڈی کی نمایاں خصوصیات یہ ہیں۔کسان کو زرعی قرضہ جات کی فراہمی مالی سال 2020-21 کے دوران ہو گی۔ وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے ساتھ باہمی متفقہ / پیش وضاحتی طریقہ کار کے تحت زیڈ ٹی بی ایل 12.5 ایکڑ اراضی کے حامل تمام قرض دہندگان کو سبسڈی فراہم کرے گا۔ پورے ملک میں 12.5 ایکڑ رقبہ پر مشتمل زمین کے حامل کسان سبسڈی کے اہل ہوں گے۔ قرض لینے والوں / کسانوں کو پاس بک کے تحت سبسڈی دی جائے گی۔ کسی دوسرے زرعی فنانس کی سہولت حاصل کرنے والے کسان یعنی رہائشی / تجارتی املاک ، سونا ، دفاعی سند اور نقد رقم ، پیکیج کے تحت کسی بھی ریلیف کے لئے اہل نہیں ہوگی۔






