تاجر تنظیموں کا آج سے ریسٹورنٹس میں ایس او پیز کے تحت گاہکوں کو بٹھانے اور شادی ہالز کھولنے کااعلان

تاجر تنظیموں کا آج سے ریسٹورنٹس میں ایس او پیز کے تحت گاہکوں کو بٹھانے اور شادی ہالز کھولنے کااعلان

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر)تاجر تنظیموں نے آج سے ریسٹورنٹس میں ایس او پیز کے تحت گاہکوں کو بٹھانے اور شادی ہالز کھولنے کااعلان کرتے ہوئے کہا ہے انتظامیہ رکاوٹ بنی تو سڑکوں پر نکلیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انجمن تاجران بلوچستان کے صدر رحیم آغا ،جنرل سیکرٹری اللہ داد ترین ، آل بلوچستان میرج ہالز ایسوسی ایشن کے چیئرمین شاکر کھوکھر ، صدر عباس صادق کاسی ، جنرل سیکرٹری سید عصمت اللہ آغا ، نائب صدر صدیق اللہ آغا ، آل بلوچستان ریسٹورنٹس اینڈ ہوٹل ایسوسی ایشن کے حاجی محمد عیسیٰ ترین ، انجمن تاجران بلوچستان کے حاجی اسلم ترین ، سید حیدر آغا ، حاجی محمد آصف سمالانی ، اسد خان ترین ، شاہد خان کاکڑ ، حاجی محمد سلیم ، ملک نعیم لہڑی ، مقرم خان اچکزئی نے ہفتہ کے روز کوئٹہ پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر انجمن تاجران بلوچستان کے صدر رحیم آغا نے کہا کہ گزشتہ روز انجمن تاجران بلوچستان ، آل بلوچستان ریسٹورنٹس اینڈ ہوٹل ایسوسی ایشن اور آل بلوچستان شادی ہالز ایسوسی ایشن کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ آج بروز اتوار 26جولائی سے ریسٹورنٹس میں ایس او پیز کے تحت تمام شادی ہالوں کو کھولا جائے گا اور شادی ہالوں میں بھی ایس او پیز کے تحت باقاعدہ تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا جبکہ ریسٹورنٹس میں گاہکوں کو ایس او پیز کے تحت بیٹھا کر سروسز شروع کی جائے گی اور 28جولائی سے سے رات 12بجے تک تمام کاروباری مراکز میں کاروباری سرگرمیاں جاری رکھی جائیں گی اور 31جولائی کو بروز جمعہ لاک ڈاﺅن نہیں کیا جائے گا اس سلسلے میں ہم نے حکام بالا سے بھی رابطہ کیا ہے تاہم اگر اس دوران پولیس یا انتظامیہ نے ریسٹورنٹس یا شادی ہال والوں کو ایس او پیز پر عمل درآمد کرنے کے باوجو د تنگ کرنے کی کوشش کی تمام ہوٹل ، ریسٹورنٹس ، شادی ہالز مالکان ملازمین سڑکوں پر نکل کر احتجاجی تحریک شروع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ میرج ہالز کی بندش سے پکوان ، گوشت ، تندور سمیت دیگر شعبہ متاثر ہورہے ہیں جبکہ ریسٹورنٹس کوپہلے 2 مہینے تک مکمل بند رکھنے کے بعدپارسل اور ٹیک اوے سروس شروع کرنے کی اجازت دی گی اس دوران انتظامیہ نے ریسٹورنٹس پر چھاپوں کا سلسلہ شروع کردیا گیا جس سے تنگ آکر اکثر مالکان نے ریسٹورنٹس بند کرتے ہوئے احتجاج شروع کیا جس پر صوبائی وزیر سلیم کھوسہ کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے یقین دہانی کرائی کہ نہ صرف تاجروں ، ریسٹورنٹس ، ہوٹلز اور شادی ہالز مالکان سے تعاون کیا جاے گا بلکہ ان کے ملازمین کو 3 ماہ کا راشن بھی دیا جائے گا اور 3 ماہ کے گیس اور بجلی کے بلز معاف کرکے بلاسود قرضے دیئے جائیں گے مگر 20 ہزار ملازمین میں سے صرف ایک ہزارملازمین کو 10 دن کا راشن فراہم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایس او پیز کے تحت اپنا کاروبار کھلوانے کے لئے ہر دروازے پر دستک دی مسلسل احتجاج کیا اور حکومتی کمیٹیوں سے مذاکرات کیے وزیراعلیٰ نے ملاقات میں ہماری باتیں غور سے سنی اور وزیرداخلہ کو ہدایت کی ایس او پیز کے تحت نوٹیفکیشن جاری کرے تاہم اگلے روز جب نوٹیفکیشن جاری ہوا تو صرف دکانوں کو رات 10بجے تک کھلوانے کی اجازت دی گئی اور باقی 2نوٹیفکیشنز آج تک جاری نہیں ہوسکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!