رسم و رواج  کو برقرار رکھنے کے لئے تمام قبائل کو کردار کرنا ہوگا ، میر قمبر  خان مینگل

رسم و رواج کو برقرار رکھنے کے لئے تمام قبائل کو کردار کرنا ہوگا ، میر قمبر خان مینگل

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

منگچر۔: ہمارے قبائلی نظام اور رسم ورواجات صدیوں پر محیط ہے اگر تاریخ کے اوراق کو پلٹ کر دیکھا جائے تو بلوچ قوم کے قبائلی رسم دنیا کی بہترین اور قدیم ترین رسم ہے اس کے مضمرات اور ثمرات کی وجہ سے آج ہم تمام قبائل ایک ہی بندھن میں پروئے ہوئے ہیں اور ہمارے اس قبائلی رسم میں دستار کی بہت بڑی اہمیت ہے دستار محظ چند گز کپڑے کا نام نہیں بلکہ اس میں معاشرے کو سنوارنے امن بھائی چارے اتحاد و اتفاق تنازعات کی خاتمے ایک دوسرے کے لیئے محبت سمیت دیگر معاشرتی مسائل کی موجود ہیں ریاست قلات کے ابتدائی تاریخ سے لیکر آج تک ہم اپنے ان قبائلی رسم رواج کی پاسداری کرتے چلے آرہے ہیں ان خیالات کا اظہار میر قمبر خان مینگل سید حبیب شاہ ٹکری محمدامین محمدشہی میر علی اکبر گرگناڈی میر سراب خان مینگل ٹکری شیر احمد محمدشہی حاجی امین مری نثار بلوچ یوسف زہری رئس محمد ابرہیم مینگل دیگر نے خلق مینگل دشتگوران میں ٹکری عبدالصمد مینگل کی رسم دستار بندی کی پر وقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہونے کہاکہ ہمارے تمام رسم و رواج قبائلی بندھن میں پروئے ہوئے ہیں اور یہ ہمارے قبائلی رسم ورواجات صدیوں پر محیط ہے جو نسل در نسل آرہے ہیں اور یہ سلسلہ نسل در نسل چلتا رہے گا انہوں نے کہا کہ بلوچ قبائل کے رسم و رواج دنیا کی نایاب رسم و رواج ہے اس کو برقرار رکھنے کے لیے تمام قبائل کو کردار کرنا ہوگا اور اس صدی میں قبائلی تنازعہ کا کوئی گنجائش نہیں اور نہ ہی بلوچ قوم کسی تنازعہ کا متحمل ہوسکتا ہے انہوں نے کہا کہ موجودہ نامساعد حالات اور قبائل کے آپس میں نااتفاقی کی وجہ سے آج قبائلی رسم و رواجات کو مسخ کرنے کی مزموم سازشیں کی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ وقت و حالات کاتقاضا بھی یہی ہے کیونکہ اقوام قبائلی تنازعات سے زوال پذیری کاشکار ہوجاتے ہیں موجودہ صدی تنازعات کے خاتمے اور تعلیم و شعور کی صدی ہے اور قبائلی تنازعات کے خاتمہ ناگزیر ہو چکے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!