ن لیگ اور پیپلزپارٹی آزادی مارچ میں ساتھ دیتے تو حکومت گر سکتی تھی، محمود خان اچکزئی

ن لیگ اور پیپلزپارٹی آزادی مارچ میں ساتھ دیتے تو حکومت گر سکتی تھی، محمود خان اچکزئی

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ( اسٹاف رپورٹر) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیرمین محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ مولانافضل الر حمن کو اے پی سی میں نہیں جانا چاہئے اقتدار کی رسہ کشی سیا ست دانوں کو بدنام کرنے کیلئے ہے ، حالیہ اے پی ی کا اعلان ایک مذاق ہے اے پی سی میں آئین کی بالادستی کا ایجنڈا نہ ہوا تو اس میں شرکت نہیں کروں گا ملک کا سب سے بڑا مسئلہ عمران خان نہیں حقیقی جمہو ر یت کا فقدان ہے یہ ملک ہم سب کا ہے آئین کی بالادستی اور فوج سمیت سب ادارے اپنے فریم میں آذادی سے کام کرینگے تو پھر یہ ملک چل سکتا ہے پاک افغان بارڈر چمن میں دھرنا کے شرکاءپر فائرنگ اور جلاو گھیراو قابل مذمت ہے حکومت کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے مسئلہ کو حل کرنا چائیے یہ قبائل دو طرفہ کاروبار اور زمینداری رکھتے ہیں انکو یکدم اس سے روک دینے سے مسئلہ پیدا ہوگا ، پشتون صوبہ ہونا چائیے جس میں پشتون اپنے وسائل پر حق حا کمیت رکھے اور اسی طرح دیگر اقوام کو انکے وسائل پر حاکمیت تسلیم کی جائے۔ یہ بات انہوں نے پیر کو اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفر نس کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ چمن میں پیش آنے والا واقعہ دلخراش ہے ، پاک افغان سرحد پر لوگوں کی کئی کئی میل طویل زمینیں ہیں لوگ یہاں کاشتکاری اور اپنے جانور چراتے ہیں غریب لوگ صبح سے شام تک بارڈر کے آر پار مزدوری کرکے اپنا گھر چلاتے ہیں کیا اب لوگوں کو اپنی زمینیں آباد کرنے اور آنے جانے کیلئے روزانہ ویزے لینے پڑیں گے ، زاہدان سے چمن تک بارڈر کو بند کرنے کے منفی اثرات مرتب ہونگے اکیسویں صدی میں تو حیوانوں کے بھی حقوق ہیں اور انہیں بارڈر پرنہیں روکا جاتا تو انسانوں کو کیوں جبری طور پر روکا جارہا ہے یہ بربادی کا راستہ ہے جب 122 سال سے آمدورفت جاری تھی تو اب بارڈر سیل کرنے کی کیا ضرورت پیش ا?ئی ہے ،پشتونخواملی عوامی پارٹی چمن کے لوگوں کے 15 مارچ سے قبل کی بارڈر صورتحال کو بحال کرنے ، شناختی کارڈ دیکھ کر آمدورفت کی اجازت دینے ، پرمٹ سسٹم کے خاتمے کی حمایت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ ان مطالبات کو فوری طور پر تسلیم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ طورخم اور چمن پر ہزاروں لوگ بارڈر کے اس پار مزدوری کیلئے جاتے ہیں یہ لوگ اس طرح کی پابندی نہیں مانیں گے اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو مجھ سمیت بہت سے لوگ عدالتوں میں جانے سے گریز نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت باڑ جن علاقوں میں لگی ہے وہاں پر انسانی اسمگلنگ جاری ہے 10 سے 12 ہزار لیکر لوگوں کو آنے جانے دیا جاتا ہے جو کہ سراسر غلط اور غیرانسانی ہے ہماری حکام سے گزارش ہے کہ مسئلے کو خراب نہ کیا جائے لوگ بغاوت پر اتر آئے تو حکومت کیلئے صورتحال کو سنبھالنا مشکل ہوجائے گا عام انسان کو آمدورفت سے روکنے کے خطرناک نتائج سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ ہم سے اس لئے ناراض ہوتے ہیں کہ ہم وہ کچھ کہتے ہیں جو کوئی بھی نہیں کہتا۔ڈیورنڈ لائن پر جو خاردار تار لگائی جارہی ہے اس کے تناظر میں 1893 سے 2015 تک جو آمدورفت ہوتی تھی وہ بند ہوجائے گی ، یہ لائن پشتونوں کو بحیثیت قوم دو حصوں میں تقسیم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کے روز اول سے تعلقات خراب ہیں لیکن واہگہ سے لاہور تک کوئی چیک پوسٹ نظرنہیں آتی لیکن چمن بارڈر سے لیکر بلیلی تک لوگوں کو جس طرح بے عزت کیا جاتا ہے وہ سب کے سامنے ہے ہم سے سوتیلی ماں کا سلوک کیوں روا رکھا جارہا ہے ہم یہ سب برداشت نہیں کرسکتے۔ حکومت پاکستان اگر پاک افغان بارڈر پر کسٹم ہاوس بنانا چاہتی ہے یا پھر عالمی ٹریڈ کرنا چاہتی ہے تو 8 ایسے مقامات ہیں جن پر کسٹم ہاو¿س بنائے جاسکتے ہیں یہ راستے افغانستان سے وسطی ایشیائ تک بھی نکل سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان سے آنے والوں کا تذکرہ یا شناختی کارڈ دیکھا جائے اگر کوئی مشکوک ہے تو اس سے تفتیش بھی کی جائے دہشت گرد جن راستوں سے آتے ہیں وہ سب کو معلوم ہیں ہم نے اس ملک کی خاطر پہلے بھی انگریز کے خلاف علم بغاوت بلند کیا جتنا یہ ملک کسی اور کا ہے اتنا ہی ہمارا بھی ہے ہم ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے جمہوری حکومتوں کے قیام اور غیر جمہوری قوتوں کے خلاف لڑائی لڑی جیلیں کاٹیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ پشتون قوم کا اپنا صوبہ اور اسمبلی ہونی چاہئے۔ ہم دوسرے یا تیسرے درجے کا شہری بننے کیلئے تیار نہیں۔انہوں نے کہا کہ آج ہر ادارے میں ریٹائرڈ فوجی بیٹھا ہوا ہے پولیس کے پاس تمام تر سماج دشمن عناصرکا ریکارڈ موجود ہوتا ہے لیکن پھر بھی ایف سی کے حوالے کرکے صوبے کے سسٹم کو خراب کیا جارہا ہے اگر پولیس اتنی ہی ناکام ہے تو عمران خان اسے ختم کرنے کا اعلان کردیں۔ انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کے تحت امدادی رقم کی تقسیم میں بلوچستان کو یکسر نظرانداز کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ سماج دشمن عناصر ہر جگہ پر ہوتے ہیں لیکن اسکی وجہ سے دوسرے لوگوں کے حقوق سلب نہ کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ دشمن سے اچھائی کی امید رکھنا بے وقوفی ہے ہم کیوں مداخلت کرنے کے بعد کسی اور سے گلہ کرتے ہیں کہ وہ ہمارے خلاف استعمال نہ ہوں اگر حالات یہی رہے تو صورتحال ابتر ہوگی اور دوسرے لوگ آپ کے خلاف استعمال ہوتے رہیں گے ملک کی تعمیر نو کرکے جمہوری انصاف کے پاکستان کی بنیاد رکھی جائے۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والی اے پی سی بھی ایسی ہی میوزیکل چیئر بنتی نظر آرہی ہے جس اے پی سی کے ایجنڈے میں آئین کی بالادستی نہیں ہوگی پشتونخواملی عوامی پارٹی اسے تسلیم نہیں کرتی میں اے پی سی پر محتاط ہوں اگر مولانا فضل الرحمٰن میری بات مانیں تو میں انہیں مشورہ دوں گا کہ وہ اے پی سی میں نہ جائیں ملک میں میوزیکل چیئر بناکر سیاستدانوں کو بدنام کیا جارہا ہے موجودہ نظام ڈوبنے والا ہے یہ نہیں چل سکتا ملک میں ایسے خاندان ہیں جو ج تک ایک دن بھی اقتدار سے باہر نہیں رہے آج پاکستان میں وفاداریاں خریدی جارہی ہیں مسلح گروہ اور سیاسی جماعتیں بنائی جارہی ہیں ہم اداروں کے خلاف نہیں ہم کہتے ہیں کہ ملک کو مضبوط کرنے کیلئے ہمیں اداروں کو بہتر کرنا ہوگا لیکن ان سے گزارش ہے کہ آگ سے نہ کھیلیں اپنے ملک اور لوگوں کا مستقبل برباد نہ کریں یہ ملک آئین کی بالادستی کے بغیر نہیں چل سکتا جب تک ہرادارہ اپنے دائرہ میں رہ کر کام نہیں کرے گا ملک کا نظام ٹھیک نہیں ہوسکتا انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مسئلہ عمران خان نہیں غیر آئینی حکمرانی اور سیاست میں مداخلت ہے ہمیں ملک پیارا ہے محمد علی جناح نے کہا تھا کہ میری جیب میں کھوٹے سکے ہیں پاکستان کو آج تک انہی کھوٹے سکوں سے چلایا جارہا ہے ملک میں سول اتھارٹی ختم ہوچکی ہے اگر کسی کو میری شکل پسند نہیں تو وہ پاکستان میں آئین کی حکمرانی کو یقینی بنانے اور پارلیمنٹ کو طاقت کا سرچشمہ قرار دیں میں سیاست سے دستبردار ہوجاو¿ں گا جہاں انصاف کے بنیادی اصول کو نظر انداز کیا جائے وہ نظام کسی صورت نہیں چل سکتا نہوں نے کہا کہ پاکستان میں کرپشن اداروں کی پیدا کردہ ہے ادارے لوگوں کو خرید کر انہیں اقتدار میں لاتے اور بعد میں بلیک میل کرتے ہیں۔چیئرمین سینٹ کے انتخاب اور تحریک عدم اعتماد میں جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے 20 سال پہلے پلاٹ لینے والے میر شکیل الرحمٰن کرپٹ جبکہ سینٹ انتخابات میں 70 کروڑ روپے خرچ کرنے والا ایماندار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نواز شریف اور ان کی بیٹی سمیت چند افراد کے علاوہ تمام پھسل گئے ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ ملک کسی بڑے حادثے کا شکار ہوجائے میری وزیراعظم ، چیف آف آرمی سٹاف سمیت دیگر حکام سے گزارش ہے کہ پاکستان افغانستان میں جاری مذاکرات میں مثبت کردار ادا کریں تو وہاں امن آسکتا ہے اور افغانستان میں مداخلت روک دی جائے تو وہ ہمارا بہترین رفیق بن سکتا ہے ایران اور پاکستان دونوں سے گزارش ہے کہ وہ شعلوں سے نہ کھیلیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!