خضدار(نامہ نگار)حالیہ طوفانی بارشوں نے تباہی مچادی دوافراد جاں بحق ایک زخمی سینکڑوں مکانات منہدم کھڑیں فصلوں کو بھی شدید نقصان ڈپٹی کمشنر خضدار ڈاکٹر طفیل بلوچ کی نگرانی میں امدادی کارروائیوں کا آغازتفصیلات کے مطابق جمعہ کی علی الصبح سے شروع ہونے والی بارش ہفتے کی صبح تک جاری رہی اس دوران تحصیل وڈھ میں ایک خاتون جاں بحق ایک زخمی غبانہ میں بھی بارش کے باعث خستہ دیوار گرنے سے ایک خاتون جاں بحق ایک زخمی شہر میں سلطان آباد اسد آباد فیض آباد اور اسماعیل آباد زیرینہ کھٹان کے علاقوں میں متعد د مکانات منہدم ہوگئے ندی نالوں میں طغیانی آنے کے باعث رابطہ سڑکیں ٹریفک کے لئے معطل ہیں ایم ایٹ قومی شاہراہ پر ونگو کے پہاڑی علاقے میں تودہ گرنے سے سندھ بلوچستان کے درمیان مواصلاتی نظام معطل ہے بھلونک کے مقام پرپہاڑی تودہ گرنے سے ایک سو سے زائد سیاحوں کو ایدھی کے رضاکار اور لیویز نے ریسکیو کیا امدادی کارروائیوں کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر خضدار ڈاکٹر طفیل بلوچ نے کہا کہ جہاں جہاں لوگ پھنسے ہوئے تھے انہیں ریسکیو کر لیا گیا جبکہ متاثرین میں پی ڈی ایم اے کی جانب سے ٹینٹ بھی تقسیم کی گئی اور انہیں اشیاءخوردونوش بھی فراہم کر دی گئی کنج ڈیم میں واٹر لیول بڑھ جانے کی وجہ سے قرب و جوار میں آباد لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا دوسری جانب بارش کا سلسلہ تھمتے ہی تباہ حال علاقوں میں ڈاکٹر طفیل بلوچ کی نگرانی میں متا اثرین میں خیمے خوراک اور دیگر امداد سامان کی ترسیل کا کام بھی شروع کردیا گیا ہے ڈپٹی کمشنر خضدار کا مزید کہنا تھا کہ حالیہ بارشوں سے ہونے والی نقصانات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں یقینا خضدار شہر بالخصوص دیہی علاقوں میں بڑے پیمانے پر نقصانات کی اطلاعات ہیں مال مویشیوں اور کھڑی فصلوں کو بھی شدیدنقصان پہنچا ہے خضدار شہداد کوٹ سڑک متعدد مقامات پر بھاری پتھر گرنے سے بند ہے جسے بحال کرنے کے لئے بھی اقدامات کے جا رہے ہیں ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا ہے کہ کسی متا اثرہ خاندان کوبے سہارا نہیں چھوڑا جائے گا
