کراچی:پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے واضح کیا ہے کہ اگر وفاق نے سندھ میں کوئی غیر آئینی کام کیا اور اس کو عدالتی تحفظ دیا گیا تو وہ حملہ تصور ہوگا اور ہم اس کو قبول نہیں کریں گے،پاکستان کو پہلے بہت سے مسائل کا سامنا ہے ،اگر غیر آئینی اقدامات کیے جائیں گے تو زیادہ مشکلات پیدا کیے جائیں گے،سارے مسائل کی جڑ این ایف سی کا حصہ مسلسل نہیں ملنے کا نتیجہ ہے،این ایف سی میں زیادہ حصہ ملے گا تو عوام کے صحت، تعلیم، مقامی حکومتوں اور دوسرے نظام میں بہترین کے لیے کام ہوگا ،وفاق وہ حق دینے کوتیار نہیں ،اپوزیشن نے جمہوری عمل اور نظام میں ایف اے ٹی ایف سے متعلق جو قانون درست تھے ان میں ساتھ دیا ،قومی اسمبلی، کمیٹیوں اور سینیٹ میں جمہوریت ہونی چاہیے،بی آر ٹی مکمل ہوا ہے تو تفتیش کی اجازت دی جائے،بل گیٹس کی کراچی پر بات کاکریڈٹ وزیراعظم لے رہے ہیں۔ جمعرات کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےغ بلاول بھٹو زر داری نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی والے سندھ کے دارالحکومت پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور ہمیں اپنی کالونی بنانا چاہتی ہے تو یہ غیر آئینی اورغیرقانونی ہوگا۔چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ خدانخواستہ غیرآئینی قبضے کو کسی نہ کسی طریقے سے عدالتی تحفظ دیا جائے گا تو پھر جب شہید ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل ہوا تھا، جوبہت ہی بڑا حملہ تھا اور یہ ایک بار پھر اس دھرتی پر حملہ تصور ہوگا، جو ہمارے لیے بالکل قبول نہیں ہوگا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ ایسا کوئی غیرآئینی اورغیر جمہوری حملہ، قبضہ، کالونی بنانے کی کوشش، اس وقت جب پاکستان اتنے مسائل کا سامنا کررہا ہے، ہماری معیشت مسلسل مشکل میں جارہی ہے، ان دو برسوں میں عوام کی حالت خراب سے خراب تر ہوئی ہے، مہنگائی کا مسئلہ ہر طرف ہے اورمعاشی مشکلات ہیں جو عوام کو اٹھانا پڑے گا تو ایسے میں ان سب مسائل کے حل کے لیے ہم سب کو مل کرکام کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اگر اس طرح کے غیر آئینی اقدامات کیے جائیں گے تو زیادہ مشکلات پیدا کیے جائیں گے، خاص طور پر کراچی جو نہ صرف صوبے بلکہ پورے پاکستان کی معیشت کا اہم پہلو ہے۔انہوںنے کہاکہ اگر ہمارے حق کا تحفظ نہیں ہوتا ہے تو پھر نقصان پورے پاکستان کا ہوگا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ سارے مسائل کی جڑ این ایف سی کا حصہ مسلسل نہیں ملنے کا نتیجہ ہے، آج تک کسی صوبے کو اس کا حق نہیں دیا گیا۔انہوںنے کہاکہ جس این ایف سی پر ہم رونا رو رہے ہیں اس پر بھی ہمارا حق نہیں دیا جارہا ہے، پچھلے سال سندھ کے حصے سے 116 ارب روپے کی کمی پر بات ہوتی تھی اور اس سال 200 ارب سے زیادہ حصہ کم کردیا گیا ہے اوریہ ہر صوبے کے ساتھ مسلسل کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم 18 ویں ترمیم سے پہلے کے این ایف سی ایوارڈ پر چل رہے ہیں توپھر 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو زیادہ کام اور ذمہ داریاں دی گئی ہیں، اس لیے این ایف سی کے حصے میں اضافہ کیا جائے تاکہ صوبے کے عوام کی زندگی میں بہتری لانے کے لیے کام کیا جائے۔چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ این ایف سی میں زیادہ حصہ ملے گا تو عوام کے صحت، تعلیم، مقامی حکومتوں اور دوسرے نظام میں بہترین کے لیے کام ہوگا لیکن وفاق وہ حق دینے کوتیار نہیں ہے۔انہوںنے کہاکہ جب بھی ہم نیشنل ڈیزاسٹر، عالمی وبا سے گزر جاتے ہیں تو باقی دنیا میں چاہے ان کا نظام صدارتی، پارلیمانی یا کوئی اور نظام ہو وہ متحد ہوجاتے ہیں۔بلاول نے کہا کہ دنیا میں چاہے جس طرح کا بھی نظام حکومت ہو وہ کورونا اور مون سون جیسے مسائل پر پوری قوم ایک ہوتی ہے اور جہاں مسائل ہوں وہاں ایک دوسرے کی مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں کورونا جیسی وبائی صورت حال میں بھی عوام کے حقوق اور وسائل چھیننے کی بات ہورہی تھی۔گانہوںنے کہاکہ جب میرے صوبے میں مون سون کی تاریخی بارش، جو 10 سال میں نہیں ہوئی تھی، سے عوام کے لیے مسائل کھڑے ہوئے اور کراچی میں کوئی مشکل ہوتی ہے تو میرے لیے گھوٹکی، ٹھٹہ اور دیگرعلاقوں کی طرح تشویش کی بات ہے۔بلاول نے کہا کہ ہم سب ایک بحران سے گزرے اور بارش کا ایک اور اسپیل آیا جس کے بعد وفاق کو خیال آیا کہ شاید سندھ کے دارالحکومت میں کوئی بحران ہے۔انہوںنے کہاکہ وفاق نے اس لیے نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کو بھیجا گیا، ہم این ڈی ایم اے کا بہت شکرگزار ہیں کیونکہ دیر آید درست آید لیکن آئے تو صحیح، تاکہ مل کر مسائل کو حل کریں گے۔انہوں نے کہا کہ جب عوام مشکل میں ہوتو وفاق کی نیت صاف ہونی چاہیے لیکن یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ اس صوبے کے عوام کے لیے وفاق کی کوششوں میں بدنیتی نظر آتی ہے۔بلاول بھٹو نے کہاکہ قومی ڈیزاسٹر اور بحران میں اس طرح سیاست نہیں کھیلی جاتی، جب عوام ایک دکھ سے گزر رہے ہیں تو ہم ان سے ان کا حق کیسے چھین سکتے ہیں، اس مشکل میں ہم ان سے کیسے وسائل لے سکتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ یہ بدنیتی آپ اور جو لوگ عملی طور پر کام کررہے ہیں اس کو متاثر کرے اورقومی اتحاد کو نقصان پہنچائےگی، ہم جب بھی قومی اہمیت کی بات آئی ہے تو پی پی پی نے سیاست کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قومی مفاد کے لیے کام کیا ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ قومی اسمبلی میں پی پی پی اور اپوزیشن نے جمہوری عمل اور نظام میں ایف اے ٹی ایف سے متعلق جو قانون درست تھے ان میں ساتھ دیا اور جو نکات غیرجمہوری تھے اور ایف اے ٹی ایف کا نام لے اپنے آپ کوآمرانہ طاقت دلانا چاہتے تھے اور عوام کے حقوق کو چھیننا چاہتے تھے اس میں لڑ کر ترامیم لا کر جو بل کالاقانون بن سکتے تھے ان کو بہتر کرکے ایوان سے منظور کرلیا۔انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی، کمیٹیوں اور سینیٹ میں جمہوریت ہونی چاہیے، اسمبلی سے 5 سے 6 بل منظور ہوئے ہیں جو اراکین کو بات کرنے کا مناسب موقع دیے بغیر زبردستی منظور کیے گئے ہیں۔انہوںنے کہاکہ اگر حکومت سمجھتی ہے کہ کوئی بل متنازع ہوسکتا ہے تو اس پر سینیٹ میں بھی بات کرنا کا موقع دیاجانا چاہیے تاکہ اس پر ہم مل کر پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کے بلیک لسٹ سے بچاسکتے ہیں۔حکومت کے پیش کردہ بلوں کی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تین بل عاملہ، سی آر پی سی ترمیمی اور معاشی دہشت گردی کے بل ہیں، جس کو ہم سمجھتے ہیں کہ ایف اے ٹی ایف کی ضروریات سے زیادہ ہیں۔انہوںنے کہاکہ یہ نہ صرف ایف اے ٹی ایف کی ضروریات سے زیادہ ہیں بلکہ اپنے عوام کے حقوق کو کمپرومائز کرتے ہیں، یہ بہت خطرناک قانون سازی ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی اس قانون سازی کو اس صورت میں کسی قیمت نہیں مان سکتی اور اگر زبردستی معاشی دہشت گردی بل کو منظور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو ہم اس کی سخت مخالفت کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے وزیراعظم پشاور میں ہیں جہاں نامکمل بی آرٹی منصوبے کا افتتاح کررہے ہیں، یہ وہ منصوبہ ہے جس کے لیے خیبرپختونخوا کی حکومت کی سی ایم آئی ٹی کی کمیٹی نے خود کہا کہ اس میں اربوں روپے کی کک بیکس ہیں۔بی آر ٹی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ نے نیب کو اس منصوبے کی تفتیش کے لیے کہا لیکن سپریم کورٹ سے اسٹے آرڈر لیا گیا پھر پشاور ہائی کورٹ نے ایف آئی اے سے تحقیقات کا کہا پھر سپریم کورٹ نے اسٹے دے دیا۔انہوں نے کہا کہ اگر کے پی میں پی ٹی آئی کہہ رہی ہے کہ منصوبہ مکمل ہے تو میرے کارکن کہتے ہیں کہ یہ منصوبہ 6 کلومیٹر ہوا ہے اور 26 کلومیٹر پر کام رہتا ہے۔بلاول بھٹو نے مطالبہ کیا کہ اگر منصوبہ مکمل ہے تو سپریم کورٹ کا اسٹے آرڈر ختم ہونا چاہیے اور پشاورہائی کورٹ کے حکم کے مطابق ایف آئی اے کو تفتیش کا موقع دینا چاہیے۔انہوںنے کہاکہ اس نامکمل میٹرو منصوبے کے نام پرجس طرح خیبرپختونخوا کے عوام کے پیسے لوٹ لیے گئے اورعمران کا کچن چلانے اور پی ٹی آئی کی انتخابی مہم سے متعلق سارے حقائق پاکستان کے عوام کے سامنے آنے چاہیئں۔بی آرٹی کے حوالے سے انہوںنے کہاکہ اس میں جو بھی ملوث ہے،چاہے وفاقی وزیر ہے یا ماضی میں صوبے میں کام کیا ہو ان سب کو گرفتار کرنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر نیب غیرجانب دارانہ کام کررہی ہے تو جو کردار انہوں نے اپوزیشن کے ساتھ ادا کیا ہے وہی کردار اب پی ٹی آئی کا بنتا ہے۔چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ اب دیکھتے ہیں کہ سب کے لیے نیب، سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ ایک ہے، میں بھی دیکھوں گا اور آپ سب بھی دیکھیں گے۔بلاول بھٹو نے کورونا وائرس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میں عوام کا شکرگزار ہوں کہ ان کی قربانیوں کی وجہ آسانیاں ہوئیں اور ہم فوری طور پر لاک ڈاو¿لگانے والے دنیا کے چند ممالک میں تھے۔انہوں نے کہاکہ تمام صوبے جنہوں نے اپنے وزیراعظم کی مخالفت کے باوجود جو اقدامات کیے تھے اور اپنے عوام کو بچایا تھا وہ بھی داد کے مستحق ہیں۔انہوںنے کہاکہ جب بل گیٹس کراچی کا نام لے کر بات کرتا ہے تو وزیراعظم اس کا کریڈٹ لیتا ہے، لیکن اب یہ غلط فہمی پھیلائی جارہی ہے کہ کورونا اب ختم ہوگیا ہے، اس سے ہمیں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔






