صحت کے شعبے پر توجہ نہ دینے کے باعث کورونا کی وبا ہمارے لیے بڑا چیلنج ہے،وزیراعظم عمران خان

صحت کے شعبے پر توجہ نہ دینے کے باعث کورونا کی وبا ہمارے لیے بڑا چیلنج ہے،وزیراعظم عمران خان

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ صحت کے شعبے پر توجہ نہ دینے کے باعث کورونا کی وبا ہمارے لیے بڑا چیلنج ہے، ویکسین بننے تک ہمیں کورونا کے ساتھ ہی گزارا کرنا ہوگا،کورونا وائرس کا حقیقی حل ویکسین ہی ہے، صحت کے شعبے میں ہمارے لیے بڑا چیلنج ہے تاہم اگر مغربی ممالک سے موازنہ کریں تو ہمارے حالات ویسے نہیں ہیں، کورونا کے باعث ترقی یافتہ ممالک میں بہت برے حالات ہیں، رواں سال ہمیں کورونا وائرس کے ساتھ مقابلہ کرنا پڑیگا،ٹیلی ہیلتھ پورٹل اچھا اقدام ہے،اس سے قبل ٹیلی ایجوکیشن ہم نے لانچ کیا تھا،ٹیکنالوجی کے ذریعے ہم دور دراز علاقوں میں تعلیم دے سکتے ہیں،10 لاکھ سے زائد لوگ ٹائیگر فورس میں شامل ہوچکے ہیں،کورونا کیسز بڑھنے پر ہمیں مزید ڈاکٹروں کی ضرورت پڑیگی۔بدھ کو ٹیلی ہیلتھ پورٹل کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے معاون خصوصی تانیہ ادرس کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ٹیلی ہیلتھ پاکستان اس وقت زبردست قدم ہے، یہ اس لیے ضروری ہے کہ ہمارے ملک پر مشکل وقت آیا ہوا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم سب جانتے ہیں کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ابھی متاثر ہے اور لگتا ہے کہ وائرس اس سال تک تو رہے گا، جب تک ویکسین نہیں ہوگی اس وقت تک تو رہے گا اور اس کا اصل حل ہی ویکسین ہے۔انہوں نے کہا کہ جب تک ویکسین نہیں ہے ہم اس وائرس کے ساتھ گزارا کرنا ہے، گزارا وہی قوم کرسکتی ہے جو سمجھتی ہو کہ مل کر مشکل وقت کا سامنا کرنا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم نے دیکھا کہ پیسہ والے ممالک جن کے پاس ہمارے پاس ہمارے مقابلے میں بے تحاشا دولت ہے ان کے برے حالات ہیں، ان کی صحت کی سہولیات اس مشکل وقت کاسامنا نہیں کرسکتیں۔انہوں نے کہاکہ بد قسمتی سے ہم نے اپنے صحت کے نظام اور ہسپتالوں پر توجہ نہیں دے سکے تو ہمارے لیے زیادہ بڑا چیلنج ہے تاہم اللہ کا شکر ہے کہ اب تک وائرس جس طرح پھیلا ہے، اس کا مقابلہ مغربی ممالک سے کریں تو وہ حالات نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمار ہسپتالوں میں ابھی تک وہ حالات نہیں ہیں جو ہم باہر کے ملکوں میں دیکھ رہے ہیں تاہم ہمیں اس سال وائرس کے ساتھ گزارا کرنا پڑے گا اس لیے قوم جتنے بھی وسائل ہیں ان کے ساتھ پوری قوم مل کر مقابلہ کرے گی۔ٹیکنالوجی کے استعمال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہ اس سے پہلے ہم نے پی ٹی وی پر ٹیلی اسکول شروع کیا تھا اور اس کو مزید وسعت دیں گے اور اب ٹیلی ہیلتھ شروع کیا ہے جس میں ڈاکٹرکو رجسٹر کریں اور خاص کر خواتین ڈاکٹروں کو رجسٹر کروانا چاہیے۔وزیراعظم نے کہا کہ خواتین ڈاکٹر گھر بیٹھے دو دراز علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی اس مشکل وقت میں مدد کر سکتی ہیں، جن کو صحت کی سہولیات تک رسائی نہیں ہے اس لیے خاص کر خواتین ڈاکٹروں کو حصہ لینا چاہیے لیکن ڈاکٹر بھی رضاکارانہ کام کریں۔انہوں نے کہاکہ ہماری ٹائیگر فورس میں بہت سارے ہیلتھ ورکرز نے رضاکارانہ طور پر خود کو پیش کیا ہوا ہے جو بڑی خوش آئند بات ہے، برطانیہ نے جب رضاکار مانگے تو وہاں ڈھائی لاکھ لوگ آئے اور ہمارے ہاں اللہ کا شکر ہے کہ 10 سے زیادہ رضاکار ہیں۔عمران خان نے کہا کہ جب کورونا وائرس ختم بھی ہو ہمیں اس کی تب بھی ضرورت پڑے گی کیونکہ ہمارے پاس ایسے علاقے ہیں جہاں پہنچنا مشکل ہے، پہاڑی علاقے ہیں، وہاں صحت کی سہولت اور ڈاکٹروں سے مشورے کا موقع نہیں ملتا اس لیے ٹیکنالوجی کے ذریعے اب ہم وہاں تک پہنچ سکتے ہیں، جو بہت مثبت چیز ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیم میں بھی دور دراز علاقوں میں ٹیکنالوجی کے ذریعے تعلیم بھی دے سکتے ہیں، پھرہمارے ہاں ڈاکٹروں اور عوام کا تناسب بھی ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں برا ہے جس کو ہم ٹیلی ہیلتھ سے پورا کرسکتے ہیں اور آج اس کا افتتاح کردیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ جیسے یہ سال گزرے گا تو ہمیں لگتا ہے کورونا کے کیسز بھی بڑھیں گے تو ہمیں اپنے ڈاکٹروں کی خدمات کی ضرورت پڑے گی۔وزیراعظم کی معاون خصوصی تانیہ ادرس نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکسان دنیا کا پہلا ملک جو پورے ملک اپنے عوام کو وٹس ایپ کے ذریعے انسٹا کی خدمات فراہم کررہا ہے۔تانیہ ادرس نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے استعمال سے بلندیوں کو چھو سکتے ہیں جس کی ایک مثال یہ پروگرام ہے اور آج یہ قدم اٹھا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ ڈاکٹر ہیں تو اس میں شامل ہوجائیں اور اگر کورونا وائرس کے حوالے سے ڈاکٹر کی ضرورت ہے تو اس نمبر پر جائیں اور وٹس ایپ کریں۔وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفرمرزا نے ڈیجیٹل پاکستان کے منتظمین کومبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ کورنا وائرس نے جہاں ہمیں بہت زیادہ متاثر کیا ہے وہاں میڈیکل کیئر کے نئے مواقع بھی کھول دئیے ہیں جس کا مستقبل میں استعمال ہوگا جس کی ایک مثال ٹیلی ہیلتھ ہے۔ظفر مرزا نے کہا کہ حکومتی سطح پر ٹیلی ہیلتھ کا منصوبہ شروع ہو رہا ہے، یہ ایک ایسا ذریعہ ہے جس کے توسط سیپاکستانی کورونا وائرس کے حوالے سے ٹیلی فون کے ذریعے ڈاکٹروں سے ہدایات لے سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں میڈیکل کالج میں 70 یا 80فیصدخواتین ہوتی ہیں لیکن ان میں سے بڑی تعداد بعد میں پریکٹس نہیں کرتی اور گھروں میں جاکر بیٹھ جاتی ہے تو ان سے درخواست ہے کہ اپنے گھر میں بیٹھ کر اپنی خدمات انجام دے سکتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ ٹیلی ہیلتھ پاکستان میں کورونا وائرس کے حوالے سے متعارف ہوا ہے وہ اب ہمارے مستقبل میں بھی جاری رہے گا کیونکہ اس کے ذریعے پاکستان میں خاص کر دور افتادہ علاقوں میں لوگوں کو صحت کے مشورے دے سکتے ہیں۔ظرمرزا نے کہاکہ ٹیلی ہیلتھ کے ساتھ ساتھ ہم نے یاران وطن اور ٹائیگر فورس کو بھی اس میں لے کر آئے ہیں جس میں تقریباً 17ہزار طبی عملہ ہیں اور ان میں سے 4 یا 5 سو ٹیلی ہیلتھ میں بھی رجسٹر ہوچکے ہیں۔انہوں نے ڈاکٹروں سے درخواست کی کہ اس ٹیلی ہیلتھ میں شامل ہو کر قومی مقاصد کا حصہ بن جائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!