پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کا لاہور سے کراچی آنے والا مسافر طیارہ اے 320 ایئربس جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی کے قریب رہائشی علاقے میں گر کر تباہ ہوگیا، جس میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 72 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا کہ واقعہ ماڈل کالونی کے علاقے جناح گارڈن میں پیش آیا، جہاں طیارہ رہائشی مکانات پر جاگرا جس میں متعدد افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی۔پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ نے واقعے کی تصدیق کی اور کہا کہ پی آئی اے کی پرواز 8303 لاہور سے 91 مسافروں اور عملے کے 8 افراد کو لے کر کراچی آرہی تھی۔طیارے میں نجی ٹی وی چینل 24 نیوز کے ڈائریکٹر پروگرامنگ انصار نقوی بھی موجود تھے، اس کے علاوہ بینک آف پنجاب کے صدر ظفر مسعود بھی طیارے میں موجود تھے۔اس واقعے کے فوری بعد سامنے آنے والی فوٹیجز میں حادثے کے مقام سے دھواں اٹھتے دیکھا گیا .

جائے وقوع پر موجود عینی شاہدین نے بتایا کہ طیارے میں تباہ ہونے سے پہلے آگ لگ گئی تھی۔ڈان ڈاٹ کام کو موصول جائے حادثہ کی ویڈیوز میں لاشوں کو ملبے تلے دبے دکھایا گیا جبکہ علاقہ مکین گلیوںپر موجود ملبے کے ڈھیر کے قریب موجود تھے، رینجرز اور سندھ پولیس کے اہلکار ریسکیو آپریشنز کررہے تھے۔ایک اور ویڈیو میں ایدھی ورکرز اور فائرفائٹرز کو طیارے کی باقیات ہٹاتے اور حادثے میں بچ جانے والے افراد کو تلاش کرتے دیکھا گیا۔عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ ایئربس 320 نے تباہ ہونے سے قبل بظاہر 2 سے 3 مرتبہ لینڈ کرنے کی کوشش کی۔برطانوی خبررساں ادارے ‘رائٹرز’ کی رپورٹ کے مطابق عینی شاہد شیکل احمد نے بتایا کہ ایئرپورٹ سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ایک موبائل ٹاور سے ٹکرایا اور گھروں پر گر کر تباہ ہوگیا۔دوسری جانب امریکی خبررساں ادارے ‘ اے پی’کی رپورٹ کے مطابق مسافر طیارہ متوقع لینڈنگ سے چند لمحے قبل تباہ ہوا، ویب سائٹ لائیو اے ٹی سی ڈاٹ نیٹ پر موجود ایئر ٹریفک کنٹرول کے ساتھ پائلٹ کی آخری بات چیت سے عندیہ ملتا ہے کہ طیارہ لینڈ کرنے میں ناکام ہوگیا تھا اور ایک اور کوشش کے لیے چکر لگارہا تھاایک پائلٹ کو سنا جاسکتا ہے سر، ہم براہ راست آگے بڑھ رہے ہیں، ہمارا انجن تباہ ہوگیا ہے۔ایئر ٹریفک کنٹرولر نے کوشش کرنے کا کہا اور رن وے خالی ہونے کے بارے میں آگاہ کیا۔رابطہ منقطع ہونے سے قبل پائلٹ نے مے ڈے کی کال دی اور کہا ‘ سر، مے ڈے، مے ڈے، مے ڈے، مے ڈے پاکستان 8303’۔اس حادثے کے بعد وزیرصحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) کا دورہ کیا اور ابتدائی طور پر بتایا کہ حادثے میں کتنے افراد زخمی ہیں یہ کہنا قبل از وقت ہوگا۔انہوں نے ابتدائی معلومات دیتے ہوئے کہا کہ جناح ہسپتال میں 11 لاشوں اور 6 زخمیوں کو لایا گیا جس میں سے 4 کی حالت بہتر اور 2 کی تشویش ناک ہے او وہ جھلسے ہوئے ہیں۔

صوبائی وزیرصحت کا کہنا تھا کہ حکام متوفیوں کی شناخت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ ان کے اہل خانہ کو آگاہ کیا جاسکے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کووِڈ 19 کی وجہ سے تمام ڈاکٹرز پہلے ہی الرٹ تھے اور لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹنگ کا عمل شروع کردیا ہے۔تاہم کچھ دیر بعد وزارت صحت سندھ کی میڈیا کو آرڈینیٹر میران یوسف نے حادثے میں اب تک 54 افراد کی اموات کی تصدیق کی۔تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ تمام افراد پرواز میں موجود تھے یا جس رہائشی مقام پر حادثہ آیا وہاں مقیم تھے۔انہوں نے بتایا کہ اب تک 35 لاشیں جناح جبکہ 19 سول ہسپتال لائیں گئی ہیں جبکہ اس حادثے میں 3 افراد محفوظ بھی رہے ہیں۔

اس سے قبل ریسکیو سروس ایدھی کے ترجمان سعد ایدھی نے ابتدائی طور پر بتایا تھا کہ 35 لاشوں کو مختلف ہسپتال منتقل کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ تقریباً 25 سے 30 افراد زخمی ہیں جو علاقہ مکین ہیں اور انہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ تاہم ساتھ ہی انہوں نے یہ واضح کیا کہ ابھی جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کے بارے میں کچھ ٹھوس معلومات کے بارے میں نہیں بتایا جاسکتا۔قبل ازیں ترجمان پی آئی اے نے بتایا کہ طیارے کا رابطہ 2 بجکر 37 منٹ پر منقطع ہوا تھا، حادثے کی وجوہات کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، ہمارا عملہ ہنگامی لینڈنگ کے لیے تربیت یافتہ ہے۔ترجمان نے کہا کہ میری دعائیں تمام متاثرہ اہلخانہ کے ساتھ ہیں، ہم شفاف طریقے سے معلومات فراہم کرتے رہیں گے۔

واقعے کے بعد پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایئر مارشل ارشد ملک نے فوری طور پر کراچی روانہ ہوتے وقت ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ پائلٹ نے کنٹرول روم کو بتایا کہ طیارے میں کوئی تکنیکی مسئلہ ہے اور اس نے لینڈنگ کے لیے 2 رن وے تیار ہونے کے باوجود لینڈنگ کے بجائے واپس گھومنے کا فیصلہ کیا۔اس تمام معاملے پر گورنر سندھ عمران اسمٰعیل نے کہا کہ طیارہ آبادی میں گرا اور ہمیں حادثے کے نتیجے میں علاقے میں ہلاکتوں پر تشویش ہے۔انہوں نے کہا کہ رینجرز اور ریسکیو سروسز کو متاثرہ علاقے بھیج دیا گیا ہے ہم زیادہ سے زیادہ افراد کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔
