چینی تحقیقاتی کمیشن کی سبسڈی سے متعلق 3 حکومتی عہدیداروں کے کردار پر تنقید

چینی تحقیقاتی کمیشن کی سبسڈی سے متعلق 3 حکومتی عہدیداروں کے کردار پر تنقید

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

اسلام آباد: شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ جمعرات کے روز منظر عام پر لائی گئی جس میں چینی برآمد ہپر سبسڈی دینے پر وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و تجارت عبدالرزاق داؤد اور وزیراعلیٰ پنجاب پر تنقید کی گئی اور تینوں (اپنے جوابات سے) کمیشن کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے۔یہ تینوں حکومتی عہدیداران اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی چینی پر سبسڈی دینے کے حوالے سے اپنے بیانات ریکارڈ کروانے کے لیے کمیشن کے سامنے پیش ہوئے تھے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان نے گزشتہ 5 سالوں میں 40 لاکھ ٹن سے زائد چینی برآمد کی جس پر برآمداتی سبسڈی کی مد میں 29 ارب روپے دیے گئے۔چینی پر سبسڈی دینے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ملز مالکان لاگت سے کم بین الاقوامی قیمت پر چینی برآمد کرتے ہیں تو لاگت اور قیمت میں آنے والے فرق کو ٹیکس دہندگان کی محنت سے کمائے گئے پیسے سے دور کیا جاتا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!