ماسٹر پلان کے نام پر لوگوں کی دکانوں کو کسی صورت میں گرنے نہیں دینگے ، سخی میر امان اللہ   نوتیزئی

ماسٹر پلان کے نام پر لوگوں کی دکانوں کو کسی صورت میں گرنے نہیں دینگے ، سخی میر امان اللہ نوتیزئی

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

دالبندین:سابق صوبائی وزیر بابائے چاغی پینل کے سربراہ سخی میر امان اللہ خان نوتیزئی نے اپنے آبائی گاوں سرگیشہ میں عید کے موقع پر مقامی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپنے دور اقتدار میں مختلف محکموں میں 15 سے 16 ہزار مختلف اقوام کے لوگوں کو روزگار دلایا موجودہ نمائندے ابھی تک ایک بے روزگار نوجوان کو روزگار نا دلا سکے ہیں انکا مزید کہنا تھاماسٹر پلان کے نام پر لوگوں کی دکانوں کو کسی صورت میں گرنے نہیں دینگے بازار کے اندر تمام قبائل کے دوکانیں موجود ہیں ناجائز دوکانوں کو گرانے پر ہر فورم پر احتجاج اورعدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹائینگے انکا مزید کہنا تھاموصوف اگر ماسٹر پلان پر کام کرنے کا شوق رکھتا ہے پرنس فہد ہسپتال کی بجائے کلی خدائے رحیم اپنے بھائی کے گھر سے شروع کریں ایک سوال کے جواب میں بتایا ضلع کے اندر آئے روز آفیسران کا تبادلہ موجودہ نمائندوں کی ناکامی اور انتظامی امور پر مداخلت کرنے کی واضع ثبوت ہے ضلع کی انتظامی امور پر بھی وہ اپنی اختیارات جمارہے ہیں اسی وجہ سے آفیسران اس ضلع کے اندر ٹھہرتے نہیں ہےانکامزید کہنا تھا کرونا وائرس کے پیش نظر سیندک پروجیکٹ کے ملازمین چھٹی پر جانے والے ملازمین کے پچاس فیصد تنخواہ کی کٹوتی انتہائی افسوسناک عمل ہے جسکی بھر پور مزمت کرتے ہیں انکا مزید کہنا تھااسلام آباد میں بیٹھ کر مقابلہ کرنے والے چاغی کےسیاسی گراونڈ میں آکر مقابلہ کریں تب مقابلہ کامزہ آئیگا ضلع کے اندر اپنے اتحادیوں اور ووٹرز کو سنبھالنا آسان کام نہیں ہے ہم نے 42 قبائل کو ہر وقت ساتھ لیکر چلے ہیں آئندہ بھی 42 قبائل کی مشاورت سے اپنی سیاسی مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا 2018 کے الیکشن میں چاغی عوام اور میرے اتحادیوں نے بھر پور ووٹ دیا شکست کو اللہ کی رضامندی سمجھ کر قبول کیا اقتدار والوں کو اللہ نے موقع دیا ہے وہ عوام کی خدمت کریں پانچ سال کے بعد عوام خود فیصلہ کریگی انکا مزید کہنا تھا میرے دور اقتدار میں مجھےمحدود فنڈز ملے تھے اس کے باوجود ترقیاتی کام گراونڈ پر نظر آرہے ہیں موجودہ نمائندوں کی کارکردگی سے عوام نالاں ہے جتنا فنڈز گزشتہ دو سال میں چاغی کے لیئے نکالے گئے ہیں میرے دور اقتدار کے 15 سالوں میں اتنے فنڈز نہیں آئے تھے اتنے فنڈز ملنے کے باوجود عوام کی مایوسی موجودہ نمائندوں کی منہ بولتا ناکامی کا ثبوت ہیں انکا مزید کہنا موجودہ صوبائی حکومت ایک ربوٹ ہے اسکی دماغ میں ایک سسٹم نصب کیا ہے اور ریموٹ کے ذریعے اسے چلایا جارہا ہے اس سے کوئی خیر کی توقع نہیں ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!