وزیر اعظم نے لاک ڈاون نرم کیا ہے لیکن کورونا کی بیماری ابھی ختم نہیں ہوئی،وفاقی وزیر داخلہ

وزیر اعظم نے لاک ڈاون نرم کیا ہے لیکن کورونا کی بیماری ابھی ختم نہیں ہوئی،وفاقی وزیر داخلہ

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

لاہور : وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈئیر(ر) پیر اعجاز احمد شاہ نے اپنے آبائی گاوں نبی پور پیراں میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے لاک ڈاون ختم کیا ہے مگر ابھی کورونا وائرس کی بیماری ختم نہیں ہوئی، کورونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے ،ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ ہم دنیا سے بہتر پوزیشن پر ہیںلیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ ہم احتیاط نہ کریں اور ایس او پیز پر عمل کرنا چھوڑ دیں انہوں نے کہا کہ میری عوام سے اپیل ہے کہ خدا کے واسطے احتیاط کریں وزیر اعظم نے لاک ڈاون نرم کیا ہے لیکن کورونا کی بیماری ابھی ختم نہیں ہوئی، حالات اب ایسے ہیں کہ اب ہر کسی کو تھوڑی بہت قربانی ضرور دینی پڑے گی۔انہوں نے کہا کہ کورونا بیماری کا نہ تو کسی کو پتہ ہے کہ یہ کیسے اور کیوں آئی ہے، نہ ہی کسی کو پتہ ہے اس نے کیسے اور کب جانا ہے ،امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں ایک دن میں دو، دو ڈھائی، ڈھائی ہزار بندہ کورونا وائرس سے مرا ہے اور ہمارے ہاں ایک دن میں بتالیس سے زیادہ ہلاکتیں نہیں ہوئیںیہ ہم پر اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہے انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں اب تک لاکھوں افراد اس مرض میں مبتلاءہوچکے ہیں مگر تین ماہ کے دوران ہمارے ملک میں اس بیماری کے مریضوں کی تعداد 50 ہزار کے قریب پہنچی ہے ، اس بیماری کی کوئی خاص علامت نہیں ہے کئی لوگوں کو بخار ہوتا ہے وہ چیک کراتے ہیں تو کورونا نکل آتا ہے کئی اچھے بھلے ہوتے ہیں مگر چیک کرانے پر ان میں کورونا پازیٹو آ جاتا ہے۔ڈاکٹرز اس وقت فرنٹ لائن کے سپاہی ہیں ان کے لئے دعا بھی کرنی چاہیے اور ان کو سلیوٹ بھی کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک میں سے پاکستان واحد اسلامی ملک ہے کہ یہاں کورونا وائرس کے باعث مساجد کو بند نہیں ہونے دیا گیا۔ نماز تراویح کی بھی اجازت دی گئی۔یوم علی منانے دیا گیا،روزے بھی رکھے گئے ،جمعہ اور عید کی نمازیں بھی ادا ہوئی ہیں۔لوگوں کو بس اتنا کہا گیا کہ احتیاط رکھیں۔لاک ڈاون دوبارہ کرنا ہے یا کہ نہیں اس کے بارے میں صورت حال کا تفصیلا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے ابھی دو سال ہوئے ہیں اور اللہ کے فضل سے جب اس حکومت کے پانچ سال پورے ہوں گے تو اس حکومت کے کام بولیں گے۔میرے بتانے اور کہنے کا کوئی فائدہ نہیں اجتماعی کام جو ننکانہ میں اب تک ہوئے ہیں وہ خود بولیں گے۔ننکانہ صاحب بابا گورو نانک کی جنم بھومی ہونے کی وجہ سے ایک بین الاقوامی اہمیت کا حامل شہر ہے، ننکانہ صاحب میں 110 ایکڑ کی اراضی پر بابا گورو نانک یونیورسٹی کی تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہے۔اب تک اس کی چاردیواری کی تعمیر کا 80 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور باقی 20 فیصد بھی بہت جلد مکمل ہو جائے گا،اگلے سال ایک ارب کے فنڈز حاصل کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ، یہ تین سال کا پراجیکٹ ہے اس پر کل سات بلین روپے لاگت آئے گی انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے جو ادھر ننکانہ صاحب میں آ کر یونیورسٹی کا افتتاح کیا ہے اس میں ہماری آنے والی نسلیں پڑھیں گی اور اچھے انسان بنیں گے۔ہماری بچیاں اس یونیورسٹی سے تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوں گی انہوں نے کہا کہ جہاز کے حادثہ میں جو 98 جانیں ضائع ہوئی ہیں اس سے ہر شخص سوگوار ہے اور ہماری عید کی خوشیاں ماند پڑ گئی ہیں،ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہلاک شدگان کی مغفرت کرے اور ان کے ورثاءکو صبر دے اور صدمہ کو برداشت کرنے کی توفیق دے انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کو پولیٹیکل اور مورال سپورٹ دی جا رہی ہے۔کشمیر میں ہونے والے ظلم کے بارے میں دنیا کو بتایا جا رہا ہے۔طالبان نے بھی بھارت کو الٹی میٹم دے دیا ہے کہ اگر مسلمانوں کے ساتھ یہی رویہ رکھا تو پھر ہمیں نہ کچھ کہیے گا ، مسلم ممالک نے بھی انڈیا کو الٹی میٹم دے دیا ہے اور بالآخر فتح کشمیریوں کی ہی ہو گی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!