ووہان میں محض 9 دن میں 65 لاکھ کورونا وائرس ٹیسٹ

ووہان میں محض 9 دن میں 65 لاکھ کورونا وائرس ٹیسٹ

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

ووہان چین کا وہ پہلا شہر تھا جہاں سے نئے نوول کورونا وائرس کی وبا پھیلنا شروع ہوئی تھی اور پوری دنیا تک پہنچ گئی۔ووہان دنیا کا وہ پہلا شہر تھا جہاں کورونا وائرس کی وجہ سے سب سے پہلے یعنی 23 جنوری 2002 کو انتظامیہ نے لاک ڈاؤن نافذ کیا تھا۔ابتدائی طور پر چینی حکام نے شہر کو جزوی طور پر بند کیا تھا تاہم بعد ازاں وائرس کے تیزی سے پھیلنے کی وجہ سے شہر کو مکمل طور پر لاک ڈاؤن کیا گیا تھا۔یہ سخت ترین لاک ڈائون تھا جس کے ذریعے چینی حکام 2 ماہ کے عرصے میں اس وبا پر قابو پانے میں کامیاب ہوگئے تھے اور 19 مارچ وہ دن تھا جب پہلی بار وہاں کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا۔اس کے بعد لگاتار کئی دن کوئی کیس رپورٹ نہ ہونے پر 22 مارچ کو لاک ڈائون کو نرم کیا گیا۔مارچ کے آخری ہفتے میں چین میں معمولات زندگی بحال ہونا شروع ہوئی تھیں اور اب وہاں جزوی طور پر تفریحی و عوامی مقامات کو کھولا جا چکا ہے جب کہ فضائی آپریشن بحال کرنے سمیت ٹرانسپورٹ کو بھی چلانے کی اجازت دی جا چکی ہے۔7 اپریل کو چین میں اس وبا کے دوران پہلی بار کورونا وائرس سے کوئی ہلاکت نہیں ہوئی اور اگلے دن یعنی 8 اپریل کو ووہان میں لاک ڈائون کو مکمل طور پر ختم کردیا گیا۔26 اپریل وہ دن تھا جب ووہان کووڈ 19 کو مکمل طور پر شکست دینے میں کامیاب ہوگیا تھا اور ہسپتالوں میں کوئی مریض باقی نہیں رہا تھا۔رپورٹ کے مطابق صرف 9 دن میں ہی ووہان میں 65 لاکھ سے زائد کورونا وائرس ٹیسٹ کیے گئے، جس کا مقصد اس بیماری کی دوسری لہر کی روک تھام کرنا ہے۔اتنی بڑی تعداد میں ٹیسٹ درحقیقت چین کا بہت بڑا کارنامہ ہے کیونکہ دنیا کے بیشتر ممالک میں بھی مجموعی طور پر کئی ماہ میں اتنے ٹیسٹ نہیں کیے جاسکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!