تربت:نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سابق وزیراعلی بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے کہا کہ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے یہاں پر ہماری ماوں اور بہنوں کی جانیں عدم تحفظ کے شکار ہیں حکومت ایسے واقعات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہا ہے سا نحہ ڈنک میں خاتون کاقتل اور کمسن بچی کوزخمی کرنا انتہائی افسوسناک وتشویشناک اورقابل مزمت ہے علاقے میں ایسے رونما ہونے والے واقعات بلوچی روایات کے منافی ہیں اگر انکا تدارک نہ کیا گیا تو اسکے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے اپنی رہائشگاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے کہا کہ سانحہ ڈنک میں ملوث ڈاکوں کو قرار واقعی سزا دے کر کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور واقعہ میں ملوث ڈاکوں اور انکے سرغناہوں کو گرفتار کرکے عوام کے سامنے لایا جائےانکو کس کی سرپرستی حاصل ہے کہ لوگ انکا نام لینے سے ڈرتے ہیں اور انکا سرپرست اعلی کون ہے جو یہ ہر بار قانون کے شکنجے میں آکر چھوٹ جاتے ہیں انھوں نے کہا کہ سانحہ ڈنک میں خاتون کاقتل اور کمسن بچی کوزخمی کرنا انتہائی افسوسناک وتشویشناک اورقابل مزمت ہے علاقے میں ایسے رونما ہونے والے واقعات بلوچی روایات کے منافی ہیں اگر انکا تدارک نہ کیا گیا تو اسکے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے انھوں نے کہا کہ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے یہاں پر ہماری ماوں اور بہنوں کی جانیں عدم تحفظ کے شکار ہیں حکومت ایسے واقعات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہا ہے انھوں نے کہا کہ سانحہ میں جاںبحق خاتون کو شہید کادرجہ دیکرلواحقین کومعاوضہ اور زخمی بچی کاسرکاری خرچہ پرعلاج کیاجائےانھوں نے کہاکہ حکومت سانحہ ڈنک میں ملوث گروہ اور انکےسرغنہ کوگرفتارکرکےمیڈیا کے سامنے لائے اورڈاکوں کی سرپرستی کرنے والےان کے سروں سے اپنی سرپرستی کا ہاتھ ختم کرکے ایک منظم طریقے سے انکے خلاف کاروائی عمل میں لائے ایسے واقعات کو روکنے کیلئے انکے سرغناہوں تک رسائی حاصل کی جائے ایسے واقعات اس وقت تک سراٹھاتے رہیں گے جب تک جھڑ سے انکا خاتمہ نہ کیا جائے انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی حکومت پر واضح کرنا چاہتی ہے کہ یہاں کے عوام لاوارث نہیں ہیں انکو ڈاکووں کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑیں گےاگر ڈاکووں اور انکے سرغناہوں کو گرفتار نہ کیا گیا تو نیشنل پارٹی آل پارٹیزکے ساتھ مل کر سخت احتجاج کرنے پر مجبور ہو گی۔





