نومولود حکمران پارٹی کے پالے ہوئے دہشتگردوں اور مسلح جھتوں نے ظلم سفاکی کی انتہا کردی ہے،میر حمل کلمتی

نومولود حکمران پارٹی کے پالے ہوئے دہشتگردوں اور مسلح جھتوں نے ظلم سفاکی کی انتہا کردی ہے،میر حمل کلمتی

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

بی این پی کے مرکزی رہنما ایم پی اے گوادر میر حمل کلمتی ۔نے سانحہ ڈنک تربت کے شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک نومولود حکمران پارٹی کے پالے ہوئے دہشتگردوں اور مسلح جھتوں نے رات کی تاریکی میں تربت ڈھنک کے مقام پر چار دیواری پھلانگتے ہوئے گھر میں گھس کر ڈکیتی اور چوری کی نیت میں خواتین اور معصوم بچوں کے مزاحمت پر حملہ آور ہوکر ایک خواتین کو شہید اور معصوم بجے کو بڑی بے دردی سے گولیوں کا نشانہ بناکر نہ صرف بر سر اقتدار پارٹی کے دہشتگردوں اور مسلح جتھون نے ظلم سفاکی کے انتہا کردی ہے بلکہ بلوچی اسلامی اور انسانیت کے اقدار کو پاوں تلیے روند کر دہشتگردوں اور مسلح جتھون کی سرپرستی کرنے والوں نے اپنے منہ پر کالک مل دی ہے کیونکہ بلوچستان کے عوام کو اجھی معلوم ہےکہ سر بازار دھندناتے کلاشنکوف اور جدید اسلحہ سے لیس مسلح گروہوں کو کس کی سرپرستی حاصل ہے اور انکے پاوں کے نشانات کونسی پارٹی اور ان کے آقاون کے در پر پہنچتے ہیں کیونکہ جب سے باپوں کے حکومت بزور بندوق وجود میں آئی ہے آن کے آشیرباد سے ان کے مسلح جھتوں نے کیچ سمیت پورے بلوچستان کو یرغمال بناکر اغوا برائے تاوان سیاسی کارکنوں کو لاپتہ کرنا بلوچ ماوں اور بچیوں کی بے حرمتی کرکے ان کو شہید کرنا بھرے بازار میں جوری ڈکیتی رہزنی اور لوٹ مار کرنا موجودہ حکمران پارٹی اور انکے آقاوں کی پالیسی ہے اسلیئے بلوچستان بالخصوص کیچ کے غیور عوام کو چاہئے کہ وہ ایسے بلوچ دشمن پارٹیوں اور انکے مسلح جھتوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوکر آواز بلند کرتے ہوئے ان جیسے عوام دشمن ناسورون کی بیخ کنی کیلئے اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ماوں بہنوں بزرگوں اور اپنے چادر و چاردیواری کی حفاظت کیلئے انسانیت دشمن مہروں اور چھپے ہوئے کرداروں کو بے نقاب کرنے میں اپنا اپنا کردار ادا کرے اور ہم بلوچستان بالخصوص مکران کے تمام وکلاء برادری سے امید رکھتے ہیں کہ وہ ایسے سماج دشمن اور انسانیت کے قاتلوں اور سفاک درندوں کے کیس لینے سے گریز کرتے ہوئے انسانیت کا ساتھ دیکر عدل و انصاف کا بول بالا کرکے شہید بلوچ ماں اور بلوچ بیٹی برمش کو انصاف دینے میں اپنا کردار ادا کریں گے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!