تحریر برکت حسین شاد
سرمایہ دارانہ نظام میں تمام تر اخلاقیات بورژوازی حکمران طبقے کی خواہش کے نتیجے میں معرض وجود میں آکر روبہ عمل ہوتے ہیں،. ریاست اپنے مفاد میں لوگوں کو جس ڈگر پر ھانکنا چاہتی ہے ویسے ہی اخلاقیات رواج پاتے ہیں،. رجعت پسند عناصر اور ان کی تھیوریاں استعمال کرتے ہوئے ریاست اپنے عوام کو ایک خاص رنگ میں رنگنا شروع کرتی ہے، جو آگے چل کر سماج کو رجعت پسند اکثریت میں بدل دیتا ہے. رجعت پسند سماج غربت اور پسماندگی کی کلید ہے،. کیونکہ یہ اجتماعی طور پر اپنی تمام محرومیوں کا ذمہ دار حکمرانوں کے بجائے خدا کی مرضی کو سمجھنے لگتا ہے. مسائل کی دلدل میں پھنسے عام آدمی کی یہ سوچ غیر سائنسی اور عملی زندگی کے تقاضوں کے متضاد ہے،. ذرا غور تو کریں اگر ہماری غربت خدا کی مرضی سے ہوتی تو اسی غربت زدہ ماحول کی کوکھ سے جنم لینے والے بعض لوگ کیسے امیر بن سکتے ہیں،؟ ثابت ہوا کہ یہ خدا کی نہیں خدا کے بندوں کی مرضی ہے کہ جنتا غریب اور پسماندہ رہے تاکہ ان کی عیاشی کو کوئی خطرہ باقی نہ رہے،.
اس سوچ کو پروان چڑھانے میں بڑا اہم کردار اس تعلیم کا ہے ،جو ایسی ریاست میں دی جاتی ہے. تاریخ، جغرافیہ ، دینیات، ادب حتی کہ سائنس اور میتھ بھی رجعت پسند سماج میں قصے کہانیوں اور غیر حقیقی مواد پر مشتمل ہوتے ہیں. نوجوان عموماً غور و فکر کرنے کے عادی ہوتے ہیں. وہ سوال کرتے ہیں،. رجعت پسند ریاست ایسی تعلیم کا انتظام کرتی ہے کہ نوجوانوں کے ذہن میں اول تو سوال پیدا ہی نہ ہو، اگر پیدا ہو تو خوف کی ایسی فضا موجود رہے کہ کوئی سوال کرنے کی جرات ہی نہ کر سکے،،. اس فضا کو بنانے کے لئے سماج میں ایسے اخلاقیات رائج کئے جاتے ہیں، جنہیں مذہبی احکامات کی ٹچ دے دی جاتی ہے. اس طرح لوگوں کی جذباتی سائیڈ کے زریعے مکروہ استحصال کی بنیاد فراہم کر دی جاتی ہے،،.
کسی معاشرے میں غربت جب عروج پاتی ہے ،تو میکانکی طریقہ سے زنائے محرم بڑھ جاتا ہے،،. ماہرین سماجیات کے مطابق زنا کی بنیادی وجہ جگہ کی کمی ،ہوتی ہے.،، کسی خاندان کا گھر جتنا چھوٹا اور تنگ ہوگا وہاں زنائے محرم عام ہوگا. جس کے نتیجے میں بچے زیادہ پیدا ہوں گے. خوراک کی کمی کی وجہ سے بچوں میں شرح اموات بھی زیادہ ہو گی،،. انکی مناسب تعلیم و تربیت بھی نہیں ہو پائے گی. یوں یہ بچے یا تو مذہب پرستوں کے ہتھے چڑھ کر نفرت کی علامت بن جائیں گے یا منشیات کے عادی ہوکر جرائم کی دنیا میں نکل جائیں گے اور معاشرے پر بوجھ بن جائیں گے،،.
سرمایہ دارانہ نظام کی حامل ریاستیں کبھی غریبوں کے لئے مفت ہسپتال اور سکول نہیں بناتیں. اگر سرکاری دوا خانے بنائے بھی جائیں گے تو ان کی حالت ہمیشہ ناگفتہ بہ ہوگی. علاج کے نام پر اسپرین اور کونین کی مختلف گولیاں اور مدر ٹینکچر کی شیشیاں پکڑا دی جائیں گی. شہر میں عطائی نیم حکیم اور کمپوڈرز لوگوں کی صحیت سے عین حکومت کی ناک کے نیچے کھیل رہے ہوں گے،. یہی حال پبلک سکولوں کا بھی ہوگا،،.
97 فیصد اساتذہ رجعت پسند ماحول کے پروردہ اور بی اے وایا بٹھنڈا پاس ہوں گے یا بوٹی مافیا کے طفیل ڈگری یافتہ ہوئے ہوں گے. احترام اور اخلاقیات کے نام پر بچوں کو ذہنی غلام بنانے میں یہ لوگ وہی کردار ادا کرتے ہیں جس کی حکومت انہیں بیگار دیتی ہے. یہ سوال کرنے والے بچوں کو اکثر سکول سے ہی ایکسپل کر دیئے جاتے ہیں، کہ فلاں بچہ سکول کے ماحول کے لئے خطرہ ہے. جب ایک رجعت پسند تعلیمی ادارے کا بچہ ڈگری یافتہ ہوجاتا ہے تو اس کے لئے ہیروز، ،مسیحا اور مقدس گائے خاکی اصطبلیشمنٹ ہوتی ہے دنیا اور آخرت دینے والے مولوی اور پیر صاب ہوتے ہیں، امیر آدمی، خواہ وہ منشیات فروش ہی کیوں نہ ہو، معزز ہوتا ہے. اس کی نظر میں اس کے ان بتوں پر تنقید کرنے والا کافر اور جہنمی ہوگا،،. ،،اس کے برعکس بورژوازی طبقے نے اپنے اور اپنے بچوں کے لئے الگ سے نہایت شاندار ہسپتال، سکول، کالج، یونیورسٹیاں، ہوٹلز کلب شاپنگ مالز، سنیما ھالز اور دوسری پرآسائش جگہوؤں کا انتظام کر رکھا ہوگا،. نہایت شان و شوکت کی حامل رہائش گاہیں بنا رکھی ہوں گی. جدید ترین ہاؤسنگ سوسائٹیاں عوام و خواص کے درمیان امتیاز پیدا کر رہی ہوں گی،،. جہاں ایک طرف غربت و افلاس، بیماریوں، بےگھری اور ناخواندگی نے ڈیرے ڈال رکھے ہوں گے وہیں پاس ہی میں دولت کی شان و شوکت اور پرتعیش لائف سٹائل ھذا من فضل ربی کی آڑ میں دریا بن کر بہہ رہی ہو گی،. لیکن سرمایہ دار سامراج کے پروردہ مولاناؤں کی ایک پوری کھیپ عمران خانوں کو نہایت اچھا نیک اور صالح جب کہ انہی عمران خانوں کی مسلط کردہ غربت و افلاس کے ماروں کو نہایت گنہگار، سیاہ بخت و عاصی ثابت کر رہے ہوں گے،،. ستم یہ ہیکہ یہ مخلوق انہی مولاناؤں اور عمران خانوں کو صحیح اور ہم جیسے لوگوں کو غلط سمجھتی ہے. یہ ذہنی غلامی کی ایک بدترین شکل ہے جو ہمارے ہاں عام دیکھی جا سکتی ہے،،. میں آپ کو پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ اگر آگے انصاف ہوا تو ایسے کروڑوں علماء جنت کے اس پار کھڑے حسرت سے در و دیوار کو دیکھ رہے ہوں گے جو دنیا میں ظالم حکمرانوں کے پہلونشین بنے رہے،،. آپ میں سے اکثر دوست مجھے کہتے ہیں تم مذہب پر کیوں نہیں لکھتے. میں گزارش کروں کہ آپ سے مولانا اسحاق (محروم) اور انجنئیر محمد علی تو سنبھالے نہیں جا رہے اگر مولانا بھاشانی اور عبیداللہ سندھی کا روحانی شاگرد بھی میدان میں آگیا تو سوچیں کیا بنے گا؟،،،،، جاری ہے،،،،،،،،،
