وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹرظفر مرزا نے کہا ہے کہ مساجد، بازاروں اور دیگر پرہجوم مقامات پر ماسک پہننا لازم قرار دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے اسلام آباد میں معاون خصوصی معید یوسف کے ہمزاہ پریس کانفرنس کرتےہوئے ظفر مرزا نے کہا کہ ‘جیسے کیسز اور اموات بڑھ رہی ہیں تو جو احتیاطی تدابیر دی گئی ہیں ان پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے اور خاص کرماسک کے استعمال کو لازمی قرار دے رہے ہیں’ان کا کہنا تھا کہ ‘آپ دفتر یا باہر کہیں بھی ہوں اور سمجھتے ہوں کہ سماجی فاصلہ رکھنا ہے تو وہاں ماسک پہننا لازمی ہے، پرہجوم جگہوں پر ماسک پہننا ہم نے لازمی قرار دیا ہے معاون خصوصی نے کہا کہ ‘مساجد، بازاروں، شاپنگ مالز، ذرائع آؐمد رفت چاہے جہاز، ریل، بس یا ویگن ہو یہاں ماسک پہننا لازم ہے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفرمرزا نے کہا کہ ‘ہم اب تک 5 لاکھ 32 ہزار کے قریب ٹیسٹ کرچکے ہیں اور مصدقہ کیسز کی شرح 12.4 فیصد ہے پچھلے 24 گھنٹوں میں 12 ہزار20 ٹیسٹ کیے جسکے نتیجے میں 2 ہزار 429 ٹیسٹ مثبت آئے اور اگر صرف پچھلے 24 گھنٹوں کا جائزہ لیں تو اس کی شرح تقریباً20.4 فیصد بنتی ہے ڈاکٹر ظر مرزا کا کہنا تھا کہ ‘جب سے کورونا آیا ہے مثبت ٹیسٹ کی تعداد بتدریج بڑھتی گئی اور اب یہ 20 فیصد سے زائد تک پہنچ چکی ہے، پاکستان میں 36 فیصد لوگ صحت یاب ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘پاکستان میں اب تک ایک ہزار 395 لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ پچھلے 24 گھنٹوں میں یہ نمبر 78 تھا، اب تک کسی بھی ایک دن کا یہ سب سے بڑا نمبر تھا اور اس سے قبل 68 سب سے بڑا نمبر تھا پاکستان میں کورونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والے حالات سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘ان اموات کی نشان دہی ہم کافی عرصے سے کررہے تھے کیونکہ جس طرح پاکستان میں وبا پھیل رہی ہے اورمقامی سطح پرمنتقلی کے کیسز کی تعداد92 فیصد ہے انہوں نے کہا کہ ‘یہ امکان تھا، ہے اور ابھی مستقبل میں کچھ عرصے رہنے کا امکان بھی ہے کہ ہمارے کیسز بھی بڑھیں گے اور بدقسمتی سے اموات بھی بڑھیں گی’
