راولپنڈی: پنجرے سے طوطے آزاد کرانے پر 8 سالہ بچی مالکان کے تشدد کے باعث جاں بحق

راولپنڈی: پنجرے سے طوطے آزاد کرانے پر 8 سالہ بچی مالکان کے تشدد کے باعث جاں بحق

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

پنجرے سے طوطے آزاد کرانے پر مالکان کے مبینہ تشدد کا شکار ہونے والی 8 سالہ بچی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر عوام سمیت سیاستدانوں نے بھی 8 سالہ بچی کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا۔راولپنڈی میں ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی زہرہ کو 31 مئی کو زخمی حالت میں بیگم اختر رخسانہ میموریل ہسپتال لایا گیا تھا۔پولیس کے مطابق مشتبہ شخص نے اعتراف کیا کہ پنجرے سے قیمتی پالتو طوطوں کو آزاد کرانے پر انہوں نے اور ان کی اہلیہ نے زہرہ کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔تاہم ہسپتال لانے کے کچھ دیر بعد ہی زہرہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے زندگی کی بازی ہار گئی اور مالکان کو اسی روز گرفتار کرلیا گیا تھا۔پولیس نے راولپنڈی عدالت سے 6 جون تک دونوں میاں بیوی کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا ہے۔متاثرہ بچی کو ہسپتال لانے کے فوراً بعد روات پولیس اسٹیشن میں اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) کی جانب سے ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ بچی کے چہرے، ہاتھوں، پسلیوں کے نیچے اور ٹانگوں پر زخم تھے۔ایف آئی آر میں کہا گیا کہ بچی کے جسم پر موجود نشانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہوسکتا ہے اس پر جنسی حملہ کیا گیا ہو۔پولیس نے اس حوالے سے معلوم کرنے کے لیے فرانزک ایگزامینیشن کے لیے نمونے بھیجے ہیں جن کی رپورٹ آنا باقی ہے۔پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 302، 376 اور 34 کے تحت ایف آئی آر درج گئی۔بعدازاں پوسٹ مارٹم کے بعد زہرہ کی میت لواحقین کے حوالے کردی گئی جس میں انکشاف ہوا کہ وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کرگئی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!