کوئٹہ:بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن 9 تا 11 جون 2020 کو ہونے والا قومی کونسل سیشن کا اجلاس کورنا وائرس وباء کی وجہ سے ملتوی کیا گیا آئندہ اعلان بعد میں کیا جائے ۔بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی چیئرمین نے اس سلسلے میں مرکزی کابینہ و مرکزی کمیٹی کے اراکین کو تحریری رائے دینے کا کہا تھا مرکزی دوستوں کے اکثریتی رائے سے قومی کونسل سیشن کو ملتوی کیا گیا مرکزی چیئرمین نزیر بلوچ نے جاری کردہ اعلامیے میں کہا یے 19 مارچ 2020 کو مرکزی کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ قومی کونسل سیشن جون میں منعقد ہوگا لیکن کورنا عالمی وباء کی وجہ سے مرکزی کمیٹی و مرکزی کابینہ کے دوستوں سے وٹس اپ پر تحریری رائے مانگی گئی کہ تنظیم کے انتہائی اہم فیصلہ دوستوں کے مشاورت سے کی جاسکے جس میں اکثریتی رائے کے بنیاد پر قومی کونسل سیشن کو ملتوی ، ڈسپلن پر مزید سختی سے عمل درآمد وباء کے صورتحال کے سرکلنگ شعوری بحث و مباحثے کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ سوشل میڈیا پر بھی سرگرمیوں و شعور سازی کو مزید تیز کرنے کا فیصلہ گیا ۔ جبکہ بلوچستان بھر میں انٹرنیٹ کی عدم دستیابی سہولیات نہ ہونے کی وجہ آنلائن کلاسز کے فیصلے کو مسترد کیا گیا اس سلسلے میں احتجاجی تحریک میں تمام طلباء تنظیموں سے مشاورت کا فیصلہ کیا گیا تاکہ اس غلط فیصلے کے اثرات سے تعلیمیی عمل کا نقصان ہونے سے بچایا جاسکے ۔اعلامیے میں مزید کہا گیا یے بلوچستان میں پہلے سے پالیسی کے تحت مضبوط کی گئی سماج دشمن گروہوں کو ایک دفعہ پھر سرگرم کیا گیا تربت ڈنھک واقعہ اسکی واضح مثال ہے جبکہ نوجوانوں کے لاپتہ کرنے کے بلوچ دشمن کاروائیوں کو مزید تیز کی گئی یے تاکہ ان حالات میں لوگوں کو خوف زدہ کرکے سیاسی عمل کو کمزور کیا جاسکے ۔ کورنا وائرس کی وباء ایک عالمی مسئلہ ہے لیکن بلوچستان حکومت کے غیر سنجیدگی کی وجہ سے کورنا وائرس انتہائی تیزی سے پھیل رہی یے اور خطرناک انسانی بحران جنم لے رہے ہے حکومت ڈاکٹرز کے تجاویز کو نظر انداز کرکے انسانی زندگیوں سے کھیل رہی یے جسکے اثرات انسانی اموات کے شرح میں تیزی کی صورت میں آگئی یے عوام خود احتیاطی تدابیر پر عمل کرے تاکہ بلوچستان میں اس عالمی وباء کے اثرات کو کم کیا جاسکے۔
